آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، پارلیمنٹ 6ماہ میں قانون سازی کرے: سپریم کورٹ

  آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع، پارلیمنٹ 6ماہ میں قانون سازی کرے: سپریم ...

  



اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں چھ ماہ کی مشروط توسیع دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں، پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی تقرری سے متعلق قانون سازی کرے،حکومت نے ایک موقف سے دوسرا موقف اختیار کیا، حکومت عدالت میں آرٹیکل 243 ون بی پر انحصار کررہی ہے، عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا،عدالت نے قانون سازی کیلئے چھ ماہ کا وقت دیا ہے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نئی قانون سازی تک اپنے عہدے پر فرائض انجام دیں گے،28نومبرکو عدالت میں پیش کیا جانے والا نوٹی فکیشن 6 ماہ کیلئے ہوگا،عدالت تفصیلی فیصلہ بعد میں سنائیگی جبکہ دور ان سماعت سپریم کورٹ کے ججز نے کہا ہے کہ توسیع کے حوالے سے حکومتی سمری میں آرمی چیف کی تنخواہ کا ذکر ہے اور نہ ہی مراعات کا ہے،آرمی ایکٹ کا جائزہ لیا تو بھارت اور سی آئی اے کہا گیا،پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے،بتایا گیا کہ جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگرجنرل ریٹائر نہیں ہوتے تو پنشن بھی نہیں ہوتی۔ جمعرات کو عدالت عظمیٰ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے جیورسٹ فاؤنڈیشن کے وکیل ریاض حنیف راہی کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پر مسلسل تیسرے روز سماعت کی۔حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے دلائل دے دئیے جبکہ سابق وزیرقانون فروغ نسیم بھی عدالت میں موجود رہے جبکہ پاکستان بار کونسل کی جانب سے فروغ نسیم کا بار کونسل کا لائسنس بحال کر دیا۔سماعت کے آغاز میں ہی سپریم کورٹ نے جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن طلب کرلیا،  سابق فوجی سربراہ جنرل (ر) راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کی دستاویز بھی طلب کرلی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جنرل (ر) کیانی کی توسیع کس قانونی شق کے تحت کی گئی، ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ جنرل (ر) پرویز کیانی کی ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں کیا پنشن ملی تھیں؟اس موقع پر سپریم کورٹ نے 15 منٹ کا وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ 15 منٹ میں دونوں چیزیں فراہم کریں تب تک دیگر کیسز سن لیتے ہیں۔عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سوال یہ بھی ہے آپ نے کہا ہے جنرل کبھی ریٹائر نہیں ہوتے، اگر آرمی جنرل ریٹائر نہیں ہوتا تو جنرل راحیل شریف کس رول کے تحت ہوئے؟۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ بھی ہے اگر ریٹائر نہیں ہوتے تو پنشن بھی نہیں ہوتی، جائزہ لیں گے کہ جنرل (ر) کیانی کی توسیع کن بنیادوں پر ہوئی تھی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ اس معاملے پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتا ہوں اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ یہ دستاویزات لے آئیں پھر آپ کو تسلی سے سن لیں گے مختصر سے وقفے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہوا چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ سمری میں تو عدالتی کارروائی کا بھی ذکر کیا گیا ہے، آپ بوجھ خود اٹھائیں ہمارے کندھے کیوں استعمال کرتے ہیں؟، اپنا کام خود کریں، ہمیں درمیان میں کیوں لاتے ہیں؟۔چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت کا نام استعمال کیا گیا تاکہ ہم غلط بھی نہ کہہ سکیں۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سمری میں سے عدالت کا نام نکالیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ تعیناتی قانونی ہے یا نہیں وہ جائزہ لیں گے، آج سے تعیناتی 28 نومبر سے کردی۔انہوں نے ریمارکس دئیے کہ آج تو جنرل باجوہ پہلے ہی آرمی چیف ہیں، جو عہدہ خالی ہی نہیں اس پر تعیناتی کیسے ہو سکتی ہے؟، لگتا ہے اس بار کافی سوچ بچار کی گئی ہے، تعیناتی ہوئی ہی آئین کے مطابق ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کی ایڈوائس والا حصہ سمری سے نکالیں، صدر اگر ہماری ایڈوائس مانگیں تو وہ الگ بات ہے۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کو بار بار پڑھتے ہیں تو نئی چیز کھل جاتی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم تو پہلی بار پڑھتے ہیں تو کچھ نکل آتا ہے۔عدالت نے کہا کہ سمری نوٹیفکیشن میں عدالت عظمیٰ کا ذکر نہ کریں، ہمارا ذکر غیر ضروری ہے، سمری میں عدالت کو بھی بریکٹ میں ڈال دیا گیا،عدالت عظمی کا سمری سے کوئی تعلق نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت ان الفاظ کو حذف کر دے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ آپ تو کہتے ہیں کہ حکومت نے کوئی غلطی نہیں کی۔ جسٹس منصور علی شاہ نے نکتہ اٹھایا کہ 3 سال کی مدت کا ذکر تو قانون میں کہیں نہیں، انہوں نے کہا کہ سمری میں آرمی چیف کی تنخواہ کا ذکر ہے نہ مراعات کا تذکرہ ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پہلے توسیع ہوتی رہی اور کسی نے جائزہ نہیں لیا، کوئی دیکھتا نہیں کہ کنٹونمنٹ میں کیا ہو رہا ہے؟، کس قانون کے تحت کوئی کام ہو رہا ہے، اب آئینی ادارہ اس مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے، آئینی عہدے پر تعیناتی کا طریقہ کار واضح لکھا ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نے آئین وقانون کو کیا دیکھا ہمارے خلاف پراپیگنڈہ شروع ہوگیا، کہہ دیا گیا کہ یہ تینوں جج سی آئی اے کے ایجنٹ ہیں، الزام لگایا گیا کہ ہم بھارت کی ایما پر کام کررہے ہیں، کہا گیا کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہے، ہمیں پوچھنا پڑا کہ یہ ففتھ جنریشن وار ہوتی کیا ہے، کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے ججز کو بھارتی چینلز پر چلایا جارہا ہے۔اس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہماری بحث کا بھارت میں بہت فائدہ اٹھایا گیا، سوشل میڈیا کسی کے کنٹرول میں نہیں۔اٹارنی جنرل کی بات پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار کا حصہ ٹھہرایا گیا، یہ ہمارا حق ہے کہ ہم سوال پوچھیں، آئینی اداروں کے بارے میں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔اسی دوران جسٹس منصور نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے بھی گزشتہ روز پہلی بار آرمی قوانین پڑھیں ہوں گے، آپ تجویز کریں آرمی قوانین کو کیسے درست کریں؟۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نوٹیفکیشن میں مدت 3 سال لکھی گئی ہے، اگر زبردست جنرل مل گیا تو شاید مدت 30 سال لکھ دی جائے، ایک واضح نظام ہونا چاہیے جس کا سب کو علم ہو، تین سال تعیناتی اب ایک مثال بن جائیگی، ہو سکتا ہے اگلے آرمی چیف کو حکومت ایک سال رکھنا چاہتی ہو۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ واضح ہونا چاہیے جنرل کو پنشن ملتی ہے یا نہیں، اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ مدت مکمل ہونے کے بعد جنرل ریٹائر ہوجاتا ہے، جس پر جسٹس منصور نے کہا کہ گزشتہ روز ہم کہہ رہے تھے کہ جنرل ریٹائرڈ ہوتے ہیں تو آپ کہہ رہے تھے کہ نہیں ہوتے، پھر آج آپ کہہ رہے ہیں کہ جنرل ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں ابہام ہے۔جسٹس منصور نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اس ابہام کو دور کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سے بہتر کوئی فورم نہیں جو سسٹم ٹھیک کر سکے، جس پر چیف جسٹس نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آرمی ایکٹ کو اپڈیٹ کرے تو نئے رولز بنیں گے۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرمی ایکٹ کابینہ کے سامنے رکھ کر ضروری تبدیلیاں کریں گے جس پر جسٹس مظہر عالم نے ریمارکس دیے کہ یہ بھی طے کرلیا جائے کہ آئندہ توسیع ہوگی یا نئی تعیناتی۔عدالتی ریمارکس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین میں 18 مختلف غلطیاں مجھے نظر آتی ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ غلطیوں کے باوجود آئین ہمیں بہت محترم ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ حکومت پہلی بار آئین پر واپس آئی ہے، جب کوئی کام آئین کے مطابق ہو جائے تو ہمارے ہاتھ بندھ جاتے ہیں،تاہم انہوں نے کہا کہ عدالت کا کندھا استعمال نہ کیا جائے ورنہ آئندہ کے لیے بھی سپریم کورٹ کا نام استعمال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آرٹیکل 243 میں 3 سال تعیناتی کا ذکر نہیں، 3 سال کی تعیناتی کی مثال ہوگی لیکن یہ قانون نہیں،عدالت نے توسیع کر دی تو یہ قانونی مثال بن جائیگی، جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جہاں مدت کا ذکر نہ ہو وہاں حالات کے مطابق مدت مقرر ہوتی ہے۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ لگتا ہے تعیناتی کے وقت حکومت نے آرٹیکل 243 میں پڑھتے ہوئے اس میں اضافہ کر دیا، آرمی چیف کو توسیع دینا آئینی روایت نہیں، گزشتہ 3 آرمی چیف میں سے ایک کو توسیع ملی دوسرے کو نہیں، اب تیسرے آرمی چیف کو توسیع ملنے جا رہی ہے۔عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 243 کے مطابق تعیناتی کرنی ہے تو مدت نکال دیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کم از کم آرٹیکل 243 پر تو مکمل عمل کریں، نہ تنخواہ کا تعین کیا گیا نہ ہی مراعات کا ذکر ہے۔اس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ غیر معینہ مدت کے لیے بھی تعیناتی نہیں ہو سکتی، اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی جنرل باجوہ کو غیر معینہ مدت کیلئے تعینات کیا گیا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ رولز میں ترمیم کرتے رہے ہیں، پھر ہم نے ایڈوائزری کردار لکھ دیا، ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ ابھی جاکر قانون بنا کرآئیں، جوقانون 72 سال میں نہیں بن سکتا وہ اتنی جلدی میں بھی نہیں بن سکتا، جس پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت میرے پاس کوئی بھی قانون نہیں سوائے ایک دستاویزات کے، ہم کوشش کررہے ہیں کہ اس معاملے پر کوئی قانون بنائیں 

۔اٹارنی جنرل کی بات پر عدالت نے پوچھا کہ قانون بنانے میں کتنا وقت لیں گے، جس پر انور منصور نے جواب دیا کہ ہمیں 3 ماہ کا وقت چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ سے 72 سال میں قانون نہیں بنا اتنی جلدی کیسے بنائیں گے؟۔جس پر عدالت نے جنرل قمر باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے مشروط رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا آپ نے کہا ہے کہ قانونی سازی کیلئے 3 ماہ چاہیے، تو ہم 3 ماہ کیلئے اس کی توسیع کردیتے ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جنہوں نے ملک کی خدمت کی ان کا بہت احترام ہے لیکن ہمیں آئین اور قانون کا سب سے زیادہ احترام ہے۔سماعت کے دوران فروغ نسیم روسٹرم پر آئے تو انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ فروغ نسیم کا بھی مسئلہ حل ہو گیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی مداخلت سے مسئلے حل ہو جائیں گے، جب تک عدالت میں مسئلہ نہیں آئے گا تو کیسے حل ہوگا، ہمارے پاس ریاض راہی آئے ہم نے جانے نہیں دیا، لوگ کہتے ہیں عدالت خود نوٹس لے، ہمیں جانا نہ پڑے، عدالت کے دروازے کھلے ہیں کوئی آئے تو سہی۔سماعت کے دوران جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی کی توسیع کی دستاویزات عدالت میں پیش کی گئیں۔اس کو چیف جسٹس نے دیکھا اور کہا کہ کہیں نہیں لکھا جنرل (ر) پرویز کیانی کو توسیع کس نے دی تھی،جس قانون کے تحت توسیع دی گئی اس کا بھی حوالہ دیں، اتنے اہم عہدے کیلئے تو ابہام ہونا ہی نہیں چاہیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ جنرل راحیل کو تو پنشن مل رہی ہے، رولز میں تو جنرل کی پنشن کا ذکر ہی نہیں، ملک پر حکومت کرنے والے ہمیں عزیز ہیں لیکن آئین اور قانون ہمیں سب سے بالاتر ہے۔سماعت کے دوران فروغ نسیم نے کہا کہ ہم تحریری طور لکھ کر دیتے ہیں کہ عدالت جو کہہ رہی ہے اس پر عمل کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ یقین دہانی کروا رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا ذکر سمری میں سے حذف کریں گے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ سمری سے عدالت کا نام اور 3 سال کی مدت نکال دیں گے جبکہ تنخواہ اور مراعات سے متعلق چیزیں سمری میں واضح کریں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم 3 ماہ میں متعلقہ قانون سازی کا بیان حلفی دیں گے، آرمی چیف کے نوٹی فکیشن میں ان کی مدت ملازمت درج نہیں ہوگی، سمری میں سے 3 سال کی مدت بھی نکال دیں گے، تنخواہ اور مراعات سے متعلق چیزیں سمری سے نکال دیں، یہ کہ 6 ماہ میں قانون سازی کرلیں گے، ہم چاہتے ہیں یہ تمام رکارڈ کا حصہ ہو اور قانون درست ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام چیزیں ریکارڈ کا حصہ ہو، قانون درست ہونا چاہیے، یہ یہ وقت کا ضیاع ہے یہ کام حکومت کا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم جن قانونی پیچیدگیوں کی طرف نشاندہی کر رہے ہیں، اس سے آپ کو تکلیف تو ہوگی لیکن اس کو شرمندگی نہ سمجھا جائے۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ آرمی چیف ملک کے دفاع پر نظر رکھیں یا ان سمریوں کو دیکھیں، آرمی چیف کیلئے ملک کے دفاع کی بجائے سمریوں پر نظر رکھنا باعث شرمندگی ہے، ہم حتمی رائے قائم نہیں کر رہے، اس حوالے سے مختصر فیصلہ دیں گے اور تفصیلی فیصلے میں طریقہ کار واضح کریں گے، اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو تباہی ہو سکتی ہے۔بعد ازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اگر دوپہر تک درستی ہوجائے تو زیادہ بہتر ہوگا، دوپہر تک غور کرکے فیصلہ سنائیں گے، ایک بجے تک درستی کرکے آجائیں۔جس کے بعد مذکورہ کیس کی سماعت میں ایک بجے تک وقفہ کردیا گیا تاہم تقریباً پونے چار بجے کے قریب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل اور فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوئے اور نئی دستاویز پیش کیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ انتظار پر معذرت خواہ ہیں جس کے بعد ججز نے دستاویز کا جائزہ لیا، بعد ازاں مختصر فیصلہ سنایا گیا۔عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا کہ حکومت نے ایک موقف سے دوسرا موقف اختیار کیا، کبھی دوبارہ تعیناتی کبھی دوبارہ توسیع کا کہا جاتا رہا،حکومت عدالت میں آرٹیکل 243 ون بی پر انحصار کررہی ہے اور عدالت نے آرٹیکل 243 بی کا جائزہ لیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہاکہ عدالت کو نئی سمری نوٹیفکیشن پیش کیے گئے، نوٹیفکیشن کے مطابق جنرل باجوہ کو آرمی چیف تعینات کیا گیا، حکومت نے جنرل باجوہ کی نئی تعیناتی 28 نومبر سے دی۔عدالت نے کہا کہ آرمی چیف کو قانون سازی سے مشروط 6 ماہ کی توسیع دی گئی کیونکہ آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا قانون میں ذکر نہیں،آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ محدود یا معطل کرنے کا بھی کہیں ذکر نہیں۔عدالتی فیصلے میں کہاگیاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی حکومتی سمری پر ریٹائرمنٹ کی تاریخ درج نہیں۔فیصلے کے مطابق وفاقی حکومت نے یقین دلایا کہ 6 ماہ میں قانون سازی کی جائے گی،آرمی چیف کی مدت اور مراعات سے متعلق 6 ماہ میں قانون سازی کی جائے گی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ معاملہ پارلیمنٹ پر چھوڑتے ہیں، پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی تقرری سے متعلق قانون سازی کرے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ عدالت نے قانون سازی کے کیے چھ ماہ کا وقت دیا ہے،آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نئی قانون سازی تک اپنے عہدے پر فرائض انجام دیں گے اور 28نومبرکو عدالت میں پیش کیا جانے والا نوٹی فکیشن 6 ماہ کیلئے ہوگا۔عدالت نے فیصلے میں کہا کہ آئین کے مطابق صدر افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں،آرمی ایکٹ پر فیصلہ پارلیمنٹ کریگی۔ بعد ازاں سپریم کور ٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں مشروط توسیع کا تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا جس میں کہا ہے کہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے آرمی چیف کی سروس کی شرائط کا معاملہ پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت طے کرے، اس معاملے میں آئین کے آرٹیکل 243 کا دائرہ کار کی وضاحت کی جائے،چھ ماہ بعد نیا قانون جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت اور سروس کی دیگرشرائط طے کرے گا،عدالت نے سارے معاملے میں تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، پارلیمنٹ آئین کے آرٹیکل 243 کے تحت آرمی چیف کی تقرری سے متعلق قانون سازی کرے،اٹارنی جنرل کسی بھی قانون کا حوالہ نہ دے سکے، ان کا موقف تھا کہ اس حوالے سے ماضی کی روایات پر عمل ہو تا رہا ہے۔سماعت کے اختتام پر چیف جسٹس آصف سعید کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے عدالتی کارروائی کا مختصر حکم نامہ جاری کردیا جس میں کہاگیاکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تعیناتی کا معاملہ عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ فیصلے میں کہاگیاکہ تین دن کی عدالتی کارروائی کے دوران وفاقی حکومت نے متعدد بار اپنے موقف کو تبدیل کیا،حتمی طور پر جمعرات کو وفاقی حکومت نے اٹارنی جنرل کے ذریعے ایک حال ہی میں منظور کی گئی سمری پیش کی،یہ سمری وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت نے منظور کی،سمری کے ساتھ 28 نومبر کا نوٹیفکیشن بھی موجود تھا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق جنرل قمر جاوید باجوہ کو آرٹیکل 243 کی شق 4 کی ذیلی شق بی کے تحت تعینات کیا گیا۔ فیصلے میں کہاگیاکہ ہم نے آرٹیکل 243 اور آرمی ایکٹ 1954 کا بغور جائزہ لیا،عدالت نے پاکستان آرمی ایکٹ رولز 1954 اور آرمی ریگولیشن 1988 کا بھی جائزہ لیا۔ فیصلے میں کہاگیاکہ تمام قوانین کا جائزہ لینے کے باوجود آرمی چیف کو دوبارہ تعینات یا توسیع کرنے کا ذکر نہیں ملا،قوانین میں یہ بھی نہیں ملا کہ آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ پر حد لگائی جاسکتی ہے یا معطل کی جاسکتی ہے۔ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پاکستان آرمی میں اس حوالے سے روایت موجود ہے،اٹارنی جنرل کے مطابق ان روایات کو قانون میں تحفظ نہیں۔ آرٹیکل 243 وفاقی حکومت کو کھلے عام یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ افواج پاکستان کو کنٹرول کریں،آرٹیکل 243 صدر کو بھی یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ وزیراعظم کی سفارش پر آرمی چیف کی تقرری کرے۔حکم نامے میں کہاگیاکہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو مکمل طور پر یہ یقین دلوایا کے فوج کی روایت کو قانون کے تحت تحفظ دیا جائیگا۔ حکم نامہ کے مطابق اٹارنی جنرل نے وفاقی حکومت کی جانب سے یہ یقین دہانی کروائی کہ فوج میں قائم روایات کو قانون کے تحت لانے کے لیے چھ ماہ میں ضروری قانون سازی کی جائے گی، حکمنامہ کے مطابق اس چھ ماہ کے عرصے میں چیف آف آرمی سٹاف فوج انتظامی نظم و ضبط، تربیت اور کمانڈ کے ذمہ دار ہوں گے۔حکم نامے میں کہاگیاکہ ہم عدالتی لچک کا مظاہرہ کر رہے ہیں، یہ مناسب ہے کہ ہم یہ معاملہ وفاق اور پارلیمنٹ کے حوالے کرتے ہیں۔ حکمنامہ کے مطابق پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت چیف آف آرمی سٹاف کی ملازمت کی شرائط کو بذریعہ ایکٹ آف پارلیمنٹ واضح کرے، وفاقی حکومت آرمی چیف کی ملازمت کی شرائط کو ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے طے کرتے وقت آرٹیکل 243 کے دائرہ اختیار کو مدنظر رکھے۔حکمنامہ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس قانون سازی تک اپنا کام جاری رکھیں، آرمی چیف کی چھ ماہ تک متعلقہ قانون سازی تک اپنے امور کی انجام دہی جاری رکھیں۔ حکمنامہ کے مطابق نئی قانون سازی یہ طے کرے گی کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت اور ملازمت کی دیگر شرائط و ضوابط کیا ہوں گے، تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔ حکمنامہ کے مطابق درخواست نمٹائی جاتی ہے۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول