آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف وکلاء کی جزوی ہڑتال

  آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کیخلاف وکلاء کی جزوی ہڑتال

  



لاہور(نامہ نگارخصوصی /نامہ نگار)چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجواہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے خلاف کال پر وکلاء نے جزوی ہڑتال کی، وکلاء کی اکثریت عدالتوں میں پیش ہوتی رہی، چند ایک کے سوا مقدمات کی سماعت متاثر نہیں ہوئی،پاکستان بارکونسل اورپنجاب بارکونسل کی طرف سے دی جانے والی ہڑتال کی کال سے لاہور ہائی کورٹ اور لاہور کی ماتحت عدالتوں میں زیادہ تروکلاء لاتعلق نظر آئے، لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر چودھری حفیظ الرحمن اس حوالے سے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلاء پاکستان بارکونسل کے ساتھ ہیں، جو پاکستان بار کونسل کا موقف ہے وہی ہمارا موقف ہے، دوسری طرف لاہور بار ڈسڑکٹ بارایسوسی ایشن صدر عاصم چیمہ نے ہڑتال کی کال سے لاتعلقی کا اظہار کیا اور کہا کہ لاہور بار کے وکلاء سائلین کے وسیع تر مفاد میں عدالتوں میں پیش ہوئے،انہوں نے کہا ہم آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں،جو کام عدالتوں کے کرنے کے ہیں انہیں کرنے دیئے جائیں،جن مقدمات میں ہڑتال کی بناپر التواء مانگا گیا ان میں رمضان شوگر ملز کیس بھی شامل ہے،اس کیس کی سماعت کے دوران ملزموں کے وکلاء نے احتساب عدالت کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل نے ہڑتال کی کال دے رکھی ہے،ان کی طرف سے پاکستان بار کونسل کی ہڑتال کی کال کی پریس ریلیز بھی پیش کی گئی، پاکستان بار کونسل نے جنرل قمر جاوید باجواہ کو توسیع دینے کے علاوہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف خصوصی عدالت کی کارروائی رکوانے کے لئے حکومت کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے خلاف بھی ہڑتال کی کال دی تھی۔

وکلاء / جزوی ہڑتال

پشاور، کراچی(نیوزرپورٹر،سٹاف ریورٹر)پاکستان بار کونسل کی کال پرآرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے فیصلے کیخلاف وکلاء برادری نے صوبہ بھرکی عدالتوں کابائیکاٹ کیااس موقع پرپشاور ہائی کورٹ اورماتحت عدالتوں میں کوئی وکیل پیش نہ ہوا جس کے باعث بیشترمقدمات کی سماعت بغیرکسی کارروائی کے ملتوی کردی گئی اورسائلین مایوس لوٹ گئے پاکستان بارکونسل کے فیصلے کی خیبرپختونخوابارکونسل نے تائید کرتے ہوئے صوبہ بھرمیں عدالتی بائیکاٹ کی کال دی تھی جس کی روشنی میں جمعرات کے روز پشاورہائی کورٹ اور قبائلی اضلاع سمیت ضلعی ماتحت عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیاگیا عدالتی بائیکاٹ کے باعث عدالتوں میں کوئی وکیل پیش نہ ہوا اوردن بھروکیلوں نے سیاسی بحث مباحثوں میں گذاراجبکہ سائلیں فائلیں بغلوں میں لئے رلتے رہے وکلاء کے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث بیشترمقدمات پرمزید کارروائی نہ ہوسکی اورسائلین کومایوس لوٹناپڑا بارکونسل کے مطابق وفاقی حکومت کیجانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع دینے کیلئے راتوں رات رولز میں ترامیم کی گئی ہیں واضح رہے کہ تین روزقبل پیر کو بھی وکلانے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کیخلاف عدالتی بائیکاٹ کیا تھا جس کیوجہ سے صوبہ بھر کی عدالتوں کو آنے والے لوگوں کوعدالتی کارروائی نہ ہونے کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہیں مایوس لوٹنا پڑا۔ادھر کراچی میں بھی آرمی چیف قمرجاویدباجوہ کی ملازمت میں توسیع اورجنرل (ر) مشرف کیس رکوانے کے معاملے پرپاکستان بار کونسل کی اپیل پرجمعرات کووکلا کی جانب سے عدالتی بائیکاٹ کیاگیا۔وکلاکی جانب سے ہائیکورٹ کا مرکزی دروازہ بند کر دیا اورساتھی وکلا،تفتیشی افسران،سائلین کو ہائیکورٹ کے اندر جانے سے روک دیا،وکلا کی ہڑتال کے باعث سائلین کو پریشانی کاسامناکرناپڑا۔پاکستان بارکونسل کی جانب سے جاری اعلامئیے کے مطابق حکومت نے چیف اف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں عجلت میں توسیع کی ترمیم کی۔سپریم کورٹ میں گمراہ کن اور غلط دستاویزت پیش کی گئیں۔اعلامیہ کے مطابق پرویز مشرف سنگین غداری کیس کا فیصلہ رکوا کر حکومت نے غیر آئینی کام کیا۔حکومتی اقدامات کے پیش نظر وکلاکی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی گئی۔

وکلاء ہڑتال

مزید : صفحہ اول