مقبوضہ کشمیر میں 116ویں روز بھی فوجی محاصرہ برقرار، سر چ آپریشن کے نام پر کارروائیاں 

  مقبوضہ کشمیر میں 116ویں روز بھی فوجی محاصرہ برقرار، سر چ آپریشن کے نام پر ...

  



سرینگر(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی)مقبوضہ کشمیر میں مسلسل117ویں روز بھی بھارتی فوج کا محاصرہ جاری، وادی میں معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج،موبائل فون، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا،کاروباری مراکز کی بندش اور تعلیمی اداروں میں کم حاضری کاسلسلہ برقرار ہے۔ بھارتی فورسز نے وادی کشمیر کے تمام اضلاع میں محاصرے اور تلاشی کی بڑی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ رپوٹس کے مطابق کارروائیوں میں بھارتی بری، بحری اور ائر فورس کے کمانڈوز بھی حصہ لے رہے ہیں۔ 

مقبوضہ کشمیر میں رواں برس پانچ اگست سے انٹر نیٹ کی مسلسل معطلی کے باعث بھارت کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ریجنل سینٹر سرینگر کے ہزاروں طلباء کا تعلیمی سال ضائع ہونے کا خدثہ ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق یونیورسٹی کے سرینگر سینٹر کے ناظم ڈاکٹر اعجا ز اشرف کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ کی مسلسل معطلی کا معاملہ متعلقہ حکام کی نوٹس میں لانے کے باوجود بھی معاملہ حل نہیں کیا جا رہا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹر کے آٹھ ہزار طلباء جو فاصلاتی طرز تعلیم کے ذریعے گریجویشن، پوسٹ گریجویشن اور ڈپلوما کورسز کر ررہے ہیں کے تعلیمی سال پر خطرات کی تلوار لٹک رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سینٹر میں انٹرنیٹ خدمات فوری طور پر بحال نہیں کی گئیں تو طلباء کا ایک سال ضائع ہوسکتا ہے۔اعجاز اشرف نے کہا کہ امتحانات شیڈول کے تحت ستمبر میں ہونا تھے جو تاحال نہیں ہو سکے۔ادھرجموں وکشمیر عوامی نیشنل کانفرنس کی صدر خالد ہ شاہ نے سرینگر میں ایک میڈیا انٹرویو میں کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کی ذمہ دار بھارتی حکومت اورسکیورٹی ایجنسیاں ہیں۔ وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کی بہن خالدہ شاہ نے مزید کہا کہ جو بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت پر سمجھوتہ کرے گا وہ غدار تصور ہوگا۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق تحریک حریت جموں وکشمیر، جموں وکشمیر مسلم کانفرنس، تحریک وحدت اسلامی، پیپلز لیگ اور ینگ مینز لیگ نے سرینگر میں جاری اپنے الگ الگ بیانات میں کہاہے کہ اس اقدام کا مقصد جموں وکشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنا ہے جسے کشمیری عوام ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی سفارتکا رکا یہ بیان اقوام متحدہ کی کشمیر بارے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حریت تنظیموں نے بھارتی حکومت کے عزائم کی ہر ممکن مزاحمت کا عزم کرتے ہوئے کہاکہ سفارتکار کو امریکہ میں اس طرح کے جارحانہ اور انتہاپسندانہ خیالات کے اظہارکی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی۔انہوں نے واضح کیاکہ سندیپ چکراورتی کا بیان بھارتی حکام کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی انتہاہے جس کے تحت وہ نوآبادیاتی ریاست اور کشمیر میں جبری طورپرآبادی کے تناسب کو بگاڑنے کا اپنا ایجنڈہ بیان کر رہے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر

مزید : صفحہ اول