اسرائیلی طرز پر پندو بستیاں! کشمیر ی پنڈتوں کیلئے خوبصورت گھر دوبارہ بنانے کی ناکام کوشش قرار

اسرائیلی طرز پر پندو بستیاں! کشمیر ی پنڈتوں کیلئے خوبصورت گھر دوبارہ بنانے ...

  



اسلام آباد(این این آئی)مقبوضہ کشمیرمیں ہندوؤں کو بسانے کیلئے اسرائیلی طرز پر بستیوں کے قیام کے بارے میں نیویارک میں تعینات ایک بھارتی سفارت کار کے حالیہ بیان پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔ کشمیر میڈیاسروس کے مطابق نیویارک میں بھارتی قونصلر جنرل سندیپ چکراورتی نے سوشل میڈیاپر جاری ایک ویڈیومیں اعتراف کیا ہے کہ نریندر مودی کی زیرقیادت بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں ہندوؤں کو بسانے کیلئے اسرائیل طرز پر بستیاں قائم کرے گی۔انہوں نے فلسطینی علاقے میں اسرائیلی کی طرف سے قائم کی گئی غیر قانونی بستیوں کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ ہم یہ کیوں نہیں کر سکتے جبکہ ایسا مشرق وسطیٰ میں ہو چکا ہے۔ امریکہ کی Syracuse(سیراکیوز) یونیورسٹی میں انتھروپالو کی ایسوسی ایٹ پروفیسر مونا بھان نے ایک انٹرویو میں بھارتی سفارتکار کی ویڈیو کو بے مزہ قراردیتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری پنڈتوں کیلئے بدنما اور متشدد طریقے سے دوبارہ سے ایک خوبصورت گھر دوبارہ بنانے کی کوشش ہے۔ مونا بھان نے جو خود ایک کشمیری پنڈت ہیں افسوس ظاہر کیاکہ ان کی برادری کو درپیش مشکلات کو دفعہ 370 اور 35 اے کو منسوخ کرنے کیلئے جواز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر پنڈت آباد کار کی حیثیت سے واپس آتے ہیں تو یہ بدقسمتی ہوگی۔ انہوں نے کہاکہ نسلی بنیادوں پر پنڈتوں کی واپسی کا کوئی جواز نہیں۔کشمیری ناول نگار اور صحافی مرزا وحید نے کہا کہ یہ انتہائی اشتعال انگیز بات ہے کہ ایک سینئر بھارتی سفارتکار کو اس طرح کے جارحانہ اور انتہا پسندانہ خیالات کے اظہار کی اجازت دی گئی۔ انہوں نے کہاکہ یہ تعجب کی بات ہے کہ کیا بھارت کی طرف سے اپنی داخلہ اور خارجہ پالیسی کے بعض حصوں کو نجی محفلوں میں طشت از بام کرنے کی کھلی چھوٹ ہے اورایک اعلی عہدیدار آزادانہ طور پر کشمیریوں کے ملک بدرکرنے کا مطالبہ کرنے کیلئے آزاد ہے۔مرزا وحید نے کہا کہ غیرکشمیریوں کو بسانے کے حوالے سے سرائیل کے ساتھ موازنہ کرنے کا مطلب  نوآبادیاتی منصوبے کی توثیق کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ مذکورہ سفارتکار، جو واضح طور پر اس نظریہ کا واضح طورپر حامی ہے کہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی شناخت کو مٹادیا جانا چاہیے عالمی سطح پر بھارت کیلئے شرمندگی کا باعث بن سکتا ہے۔ مرزا وحید نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کوجموں و کشمیر میں اپنے گھروں کو لوٹنے کا حق حاصل ہے اور مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ واپس آکر اسرائیلی طرز کی ایسی بستیوں میں آباد ہونا چاہیں گے جنہیں ہر طرف سے فورسز نے گھیرے میں لے رکھا ہو۔میساچوسٹس کالج آف لبرل آرٹس کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر محمد جنید کے مطابق سندیپ چکراورتی کے بیان سے اس انتہائی ڈھٹائی کی عکاسی ہوتی ہے کہ بھارتی حکام کس طرح کشمیر میں آبادی کے تناسب کو جبری طورپر بگاڑنے کیلئے نوآبادیاتی ریاست کے اپنے ایجنڈے کو بیان کررہے ہیں۔مقبوضہ کشمیرکے ایک صحافی ہلال میر نے کہاہے کہ بھارت کے قونصل جنرل کے بیان نے کشمیری مسلمانوں کے ان خدشات کو درست ثابت کردیا ہے کہ جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کو ترقی کیلئے نہیں بلکہ آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کیلئے منسوخ کیا گیا ہے۔ نئی دلی میں نریندر مودی کی زیرقیادت ہندو قوم پرست حکومت نے 5 اگست کوآئین کی دفعہ 370کو منسوخ کر کے جموں وکشمیر کواس کی خصوصی حیثیت سے محروم کردیاتھا۔مودی حکومت بظاہردو سے تین لاکھ کشمیری پنڈتوں کی آڑمیں ہندو انتہا پسندوں اور آر ایس ایس کے ارکان کو مقبوضہ کشمیرمیں بسانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں بی جے پی کے رہنماء رام مادھو نے کہا تھا کہ بھارتی حکومت مقبوضہ علاقے میں ہندو بستیوں کی تعمیر کا ارادہ رکھتی ہے۔

 ناکام کوشش قرار

مزید : صفحہ اول