6فوجی سربراہوں کو توسیع ملی کبھی قانونی حیثیت پر سوال نہ اٹھا

6فوجی سربراہوں کو توسیع ملی کبھی قانونی حیثیت پر سوال نہ اٹھا

  



تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

حیرت و استعجاب کی بات تو ہے کہ جو معاملہ کم از کم اس وقت حل ہو جانا چاہئے تھا جب کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان کی پہلی توسیع کا معاملہ پیش آیا تھا،جنہیں 17جنوری1951ء کو کمانڈرانچیف بنایا گیا پھر اُن کے اس عہدے کی مدت میں 54ء میں تین سال کی توسیع کی گئی، اور 57ء میں دوسری مرتبہ یہ توسیع 1958ء تک کی گئی، پھر انہوں نے جب بطور صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کُلّی اقتدار سنبھال لیا تو اپنے عہدے کو بالا و بلند کرکے فیلڈ مارشل بنا دیا، اس عہدے پرفائز رہنے والے وہ واحد کمانڈرانچیف (اب چیف آف آرمی سٹاف) ہیں،اُن سے پہلے پاکستان آرمی کی کمانڈ دو انگریز افسروں کے سپرد رہی،اس لحاظ سے اُنہیں جو اعزاز حاصل ہوا وہ کسی دوسرے جرنیل کے حصے میں نہیں آیا، جب جنرل راحیل شریف، آرمی چیف تھے تو سننے میں آتا تھا کہ اُنہیں فیلڈ مارشل بنایا جا رہا ہے،لیکن یہ منصوبہ پایہئ تکمیل تک نہ پہنچ سکا اور وہ اپنے عہدے کی مدت پوری کر کے ریٹائر ہو گئے اور تھوڑے ہی عرصے بعد سعودی عرب میں تشکیل پانے والے اس اسلامی فوجی اتحاد کی کمان کرنے لگے، جو عالمی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے بنایا گیا تھا،انہوں نے برسرِ عہدہ اپنی مدت کے خاتمے سے طویل عرصہ پہلے اگرچہ یہ اعلان کر دیا تھا کہ وہ توسیع نہیں لیں گے اور وقت ِ مقررہ پر ریٹائرمنٹ لے لیں گے،لیکن بعد میں شاید اُن کی رائے بدل گئی اور وہ توسیع کے بارے میں مثبت خیالات کا اظہار کرنے لگے،لیکن اُس وقت کے وزیراعظم نے اُنہیں توسیع نہ دی۔

جنرل ایوب خان کو دو مرتبہ توسیع کس قانون کے تحت ملی، اس کی تفصیل میں جانے کی کبھی کسی نے ضرورت محسوس نہ کی،کیونکہ اس وقت کے حالات میں کسی کے پاس اس معاملے کی باریکیوں میں جانے کا وقت نہیں تھا، سیاسی حکومتیں دباؤ میں کام کر رہی تھیں اور تھوڑی تھوڑی مدت کے بعد بدل جایا کرتی تھیں یہاں تک کہ پنڈت نہرو سے ایک جملہ منسوب ہو گیا کہ مَیں اتنی دھوتیاں نہیں بدلتا جتنی پاکستان میں حکومتیں بدل جاتی ہیں، یہ بات درست تھی یا غلط،لیکن امرِ واقعہ یہ ہے کہ سیاسی حکومتوں کے یہ ادوار  عدم استحکام کی بڑی عمدہ مثال تھے۔

جنرل ایوب خان کے جانشین جنرل موسیٰ خان تھے،جو27اکتوبر58ء کو، جب ایوب خان نے صدر اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کا منصب سنبھالا، کمانڈرانچیف بنائے گئے، پھر اُن کی مدت میں ایوب خان نے توسیع کی۔جنرل یحییٰ خان18ستمبر1966ء کو کمانڈرانچیف  بنے تھے اور پھر انہوں نے خود ہی اپنے عہدے میں توسیع کر لی،لیکن وہ واحد فوجی  سربراہ تھے، جو اپنی توسیع شدہ مدت پوری نہ کر سکے اور اُنہیں صدارتی منصب اور فوج کی سربراہی چھوڑ کر اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کے حوالے کرنا پڑا، یکم مارچ1976ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کو فوج کا سربراہ مقرر کیا،انہوں نے5جولائی1977ء کو اقتدار سنبھال لیا اور1979ء میں بطور آرمی چیف اپنے عہدے کی مدت بڑھائی،جنرل پرویز مشرف کو نواز شریف نے اکتوبر1998ء میں آرمی چیف بنایا،جنہوں نے بطور صدراپنے عہدے کی مدت خود ہی 2001ء میں بڑھا لی،وہ اپنی وردی کو اپنی کھال قرار دیا کرتے تھے اور اُن کا کہنا تھا کہ جس طرح انسانی کھال کو جسم سے نہیں اُتارا جا سکتا اسی طرح وہ فوجی وردی بھی نہیں اتار سکتے،لیکن بہرحال ایک وقت آیا جب انہوں نے فوج کی سربراہی کا منصب جنرل اشفاق پرویز کیانی کے سپرد کیا اور کمان کی علامت چھڑی اُن کے حوالے کرتے ہوئے اُن کی آنکھیں چھلک پڑیں۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کو2010ء میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے توسیع دی، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قیام پاکستان کے بعد سات فوجی سربراہوں کو وقتاً فوقتاً توسیع ملی،جنرل قمر جاوید باجوہ ساتویں سربراہ ہیں، لیکن اس سے پہلے کبھی یہ سوال نہیں اُٹھا کہ یہ توسیع کس قانون کے تحت دی جا رہی ہے۔یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سپریم کورٹ میں یہ سوال اُٹھا اور اس کی وجہ حکومت کی یکے بعد دیگرے کی جانے والی غلطیاں تھیں، کئی ماہ پہلے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دی جائے گی،بعد میں عملاً ایسا کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے یہ نوٹیفکیشن معطل کر دیا اور جمعرات کو فیصلہ سنایا کہ توسیع تین سال کے لئے نہیں،چھ ماہ کے لئے ہو گی اور وہ بھی مشروط، فاضل عدالت نے اس سلسلے میں عدالتی تحمل کا مظاہرہ کیا اور حکومت کو وقت دیا کہ وہ اس سلسلے میں قانون سازی کر لے۔ عدالت میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ وزیراعظم نے کس حیثیت میں آرمی چیف کو توسیع دی جبکہ یہ صدر کا اختیار ہے، مدت کے تعین پر بھی سوال اٹھایا گیا یہ بھی مسئلہ اٹھا کہ اگر سیکیورٹی صورتِ حال کی وجہ سے آرمی چیف کو توسیع دی گئی تھی تو ایسی صورتِ حال سے نمٹنا ایک افسر نہیں، پوری فوج کی ذمے داری ہے،اگر یہ وجہ مان لی جائے تو ہر افسر دوبارہ تعیناتی چاہے گا۔فاضل عدالت میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ ماضی میں جرنیل توسیع لیتے رہے کسی نے نہیں پوچھا، اب معاملہ ہمارے پاس آیا ہے تو طے کریں گے،  تین دن کی مسلسل سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے تحت توسیع شدہ  مدت تین سال کی بجائے چھ ماہ ہو گئی ہے اور یہ بھی نئی قانون سازی سے مشروط ہے،جو اس عرصے میں کرنا ہو گی،گویا یہ معاملہ پارلیمینٹ کے سپرد ہو گیا،جہاں صرف حکومت ہی نہیں اپوزیشن بھی موجود ہے، جہاں دونوں کے درمیان معمول کے تعلقات کار بھی نہیں ہیں۔ گزشتہ دِنوں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے صدارتی آرڈی ننسوں کی دھڑا دھڑ منظور حاصل کی تو مشتعل اپوزیشن نے اُن کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی، جو اس شرط پر واپس ہوئی کہ منظور شدہ آرڈیننس بھی واپس لئے جائیں،اس سیاسی کشیدگی اور ماحول میں نئی قانون سازی کس طرح ممکن ہو گی اور اپوزیشن حکومت کے ساتھ تعاون کِس طرح کرے گی یہ تو آنے والے دِنوں میں واضح ہو گا، جہاں پارلیمینٹ کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے،وہاں حکومت کا امتحان بھی شروع ہو گا تاہم وزیراعظم صورتِ حال پر خوش ہیں اور انہوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کو حکومت کی کامیابی اور ”مافیاؤں“ کی شکست قرار دیا۔

آرمی چیف،توسیع

مزید : تجزیہ