صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر غازی سیال سپرد خاک

  صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر غازی سیال سپرد خاک

  



بنوں (بیورورپورٹ)وفات پانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر غازی سیال کو ہزاروں اشکبارآنکھوں کے سامنے سپرد خاک کردیا گیا غازی سیال کی نماز جنازہ اخواندان منڈان بنوں میں ادا کی گئی نماز جنازہ میں شاعروں،ادیبوں،وکلاء،صحافیوں،سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں،کارکنوں،مذہبی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے افراد اورسابقہ بلدیاتی نمائندوں سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی،اور مرحوم کے درجات بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی بعد ازاں مرحوم کو آبائی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا واضح رہے کہ غازی سیال پشتو زبان کے ممتاز صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر تھے اور نہ صرف شاعر تھے بلکہ وہ18کے قریب کتابوں کے مصنف بھی تھے شاعر،ادیب،نغمہ نگار اور مصنف غازی سیال 1933میں پیدا ہوئے اور بدھ کے روز علالت کے باعث 85سال کی عمر میں وفات پاگئے وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی مجلس عاملہ کے سفیر رکن بھی تھے اور پشتو نغمہ نگاری میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے تھے انکی وفات سے ادب کا ایک سنہرا باب بند ہوگیا ہے انہوں نے50سے زائد کلاسیکل پشتو فلموں کی کہانیاں بھی لکھیں جبکہ کئی ناول بھی لکھے انکی وفات پر ضلع بنوں کے عوام اور شعراء کرام نے گہرے غم ورنج کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ غازی سیال نے زندگی بھر قلم کے ذریعے فن کی خدمت کی ہے اوراپنے فن کی وجہ سے ہمیشہ عوام کے دلوں میں زندہ رہیں گے۔غازی سیال کا پشتو نغمہ (نرے باران دے پس پہ لواڑ ئے واراوینہ،ژاورے کرمے تا نصیب راوڑے یمہ،جنانہ لاس راکہ چے دواڑہ سرہ زینہ)بیحد مقبول ہوا۔

مزید : پشاورصفحہ آخر