محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو کھادوں کے متوازن استعمال کی ہدات

محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کو کھادوں کے متوازن استعمال کی ہدات

  



لاہور(لیڈی رپورٹر)محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کو زمین کی نوعیت کے مطابق محکمانہ مشاورت سے کھادوں کے متوازن استعمال کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ زمیندار، کاشتکار، کسان شاندار پیداوار کے حصول اور غذائی اجناس کی بہتر فصل حاصل کر نے کے لئے محکمہ زراعت کے عملہ کی مشاورت کے ذریعے کیمیائی کھادوں کا متوازن استعمال یقینی بنائیں۔

 تاکہ زمینی ضروریات کو پوراکرتے ہوئے بمپر کراپ کا حصول ممکن ہو سکے۔ محکمہ کے ترجمان نے بتایاکہ گندم کی کاشت اور اچھی پیداوار حاصل کرنے کے لئے فصل میں کھادوں کا استعمال زمین کی نوعیت کے مطابق محکمہ زراعت کے عملہ کی مشاورت سے کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور زمین میں بوائی کے وقت 2 بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا،1بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ، ڈیڑھ بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا5 بوری سنگل سپر فاسفیٹ، اڑھائی بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا 4 بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ ڈالی جائے۔ انہوں نے مزید بتا یا کہ اوسط زرخیز زمینوں میں گندم کی بوائی کے وقت ڈیڑھ بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا4 بوری سنگل سپر فاسفیٹ، ایک بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ کااستعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ذرخیز زمینوں میں ایک بوری ڈی اے پی، آدھی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، پونی بوری یوریا، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا اڑھائی بوری سنگل سپر فاسفیٹ، سوا بوری امونیم نائٹریٹ، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ یا دو بوری نائٹرو فاس، ایک بوری پوٹاشیم سلفیٹ فی ایکڑ ڈال کر بہترین پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ 

مزید : کامرس