مظفر گڑھ پاکستان کا پہلا اوپن ڈیفیکیشن فری ضلع بن گیا

  مظفر گڑھ پاکستان کا پہلا اوپن ڈیفیکیشن فری ضلع بن گیا

  



اسلام آباد(پ ر)وزیر اعظم پاکستان کے کلین گرین پاکستان موومنٹ میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے واٹر ایڈ نے ضلعی حکومت مظفر گڑھ اور ترقی کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر مظفر گڑھ کو "پاکستان کا پہلا اوپن ڈیفیکیشن فری ضلع" بنانے کے ہدف کی تکمیل پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ ضلعی کونسل ہال مظفر گڑھ میں وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل تقریب کی مہمان خصوصی تھیں جبکہ سی ای او واٹر ایڈیو کے ٹم وین رائٹ نے بطور گیسٹ آف آنر شرکت کی، سی ڈی واٹر ایڈ پاکستان صدیق احمد،ڈی سی مظفر گڑھ علی شہزاد، ڈپٹی سیکرٹری لوکل گورنمنٹ پنجاب نجیب اسلم اور دیگر مقامی قابل ذکر افراد نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ مہمان خصوصی نے او ڈی ایف کی یادگار کی نقاب کشائی کی۔اس موقع پر سی ای او واٹر ایڈ یو کے ٹم وین رائٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،" کلین گرین پاکستان مہم کو پوری دنیا میں وسیع پیمانے پرپذیرائی حاصل ہے اور یہ صفائی ستھرائی کے بارے میں پاکستان کی مضبوط وابستگی ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان میں، صفائی ستھرائی کی خدمات کو بنیادی،محفوظ اور معیار ی بنانے کے لئے زیادہ توجہ اور مالی اعانت کی ضرورت ہے۔

محفوظ حفظان صحت تک رسائی زندگیاں بچانے اور تخفیف غربت کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی۔ وزیر اعظم کی جانب سے اس مہم کی حوصلہ افزائی کے اور بھی مثبت اثرات مرتب ہونگے۔ طرز عمل میں تبدیلی اور کمیونٹی کی کاوشوں سے صاف ستھرے پاکستان کے حصول کا سفر آسان ہوسکتا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے 2018 میں کلین گرین پاکستان موومنٹ کے آغاز کے بعد، مظفر گڑھ میں ضلعی حکومت علاقہ میں کام کرنے والی تمام تنظیموں کے ساتھ مل کر بیت الخلاء تک رسائی کو ممکن بنانے کیلئے کام کر رہی ہے جس سے ضلع بھر میں بیت الخلاء تک رسائی کے 100 فیصد نتائج کا حصول ممکن بنایا جا سکے گا۔ جنوبی پنجاب اس وقت کلین گرین پاکستان مہم کے حفظان صحت سے متعلق عملداری میں سب سے آگے ہے۔ وزیر مملکت برائے موسمیاتی تبدیلی زرتاج گل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ، واٹر ایڈ نے وزیر اعظم کے کلین گرین پاکستان مہم میں بڑے فعال انداز سے اپنا حصہ شامل کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ضلع بھر کے لیے بیت الخلاء کی سہولت تک رسائی کا حصول اس بات کا ضامن ہے کہ واٹر ایڈ نے اس پلان کو حقیقت میں بدلنے کیلئے پوری جانفشانی کے ساتھ کام کیا ہے۔ ضلع بھر میں بنیادی انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے کم قیمت بیت الخلاء کی تعمیر نمونہ کے طور پر کی گئی اور منتخب شدہ سکولوں اور کمیونٹیوں میں واٹر سپلائی سکیموں کا اجراء بھی کیا گیا۔ مقامی کاروباری افراد کی تربیت اور سینیٹری مارٹس کے ذریعہ مقامی سپلائی چین میکانزم کی عملدرآمدگی، اینڈ پائپ ڈیسنٹرلائزڈ سیوریج ٹریٹمنٹ یونٹس (DSTUs)، مقامی طور پر پانی کے معیار کی جانچ پڑتا ل کی سہولت کی فراہمی کو ممکن بنانا تا کہODFکے عمل کو پائیدار بنایا جا سکے۔CDواٹر ایڈ پاکستان صدیق احمد نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ واٹر ایڈ نے اس پراجیکٹ پر 2011-12 میں کام شروع کیا تھا جس کامقصد پورے مظفر گڑھ ضلع کو PATSکے نقطہ نظر کی پیروی کرتے ہوئے مکمل ODFکے طور پر تبدیل کیا جا نا تھا۔پنجاب بھر میں مظفر گڑھ ضلع36 اضلاع میں سے 35 ویں نمبر پر ہے جو محض راجن پور سے پیچھے ہے۔ مظفر گڑھ ضلع اب ایک ایسی حیثیت حاصل کرچکا ہے جہاں تمام گھرانوں کو باقاعدہ بیت الخلاء تک رسائی حاصل ہے تاہم اس کے جامع استعمال کو یقینی بنانے کے لئے استعمال پر رویے کو تبدیل کرنے کے لئے ابھی مزید محنت درکار ہو گی۔ ضلع بھر کو ایک منظم عمل کے ذریعے کھلے عام رفع حاجت سے پاک صرف لوکل کمیونٹی کی شمولیت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ضلعی حکومت کے تعاون کے ساتھ پراجیکٹ کی ٹیموں نے دیہاتوں اور سکولوں میں واش کمیٹیوں کی تشکیل دی تاکہ پراجیکٹ کی عملداری کو یقینی بنانے کیلئے لوگوں کی تربیت کی جا سکے۔

مزید : کامرس