جامعہ زکریا: بی اے بی ایس سی سکینڈل‘ملزمان نے رپورٹ جھوٹی قرار دیدی

    جامعہ زکریا: بی اے بی ایس سی سکینڈل‘ملزمان نے رپورٹ جھوٹی قرار دیدی

  



ملتان(سٹاف رپورٹر)زکریا یونیورسٹی کے بی اے بی ایس سی سکینڈل کی کہانی میں نیا موڑ سامنے آگیا، جن افسروں پر الزام لگایا گیا ہے ا سامنے آگئے اور رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے دیا ان کاکہنا ہے کہ ابتدائی انکوائری میں ان سے اس بارے میں کوئی سوال ہی نہیں کیا گیا، جو الزامات نوٹس میں لگائے گئے ہیں ان کے بارے میں کوئی سوال کیا ہی نہیں گیا اور ناہی کو ثبوت دئے گئے،اس سکینڈل کے مرکزی کردار محمدامین نے بھی اس بات کی تردید کردی کہ انہوں نے انکوائری کمیٹی کے روبروکسی دوسرے(بقیہ نمبر70صفحہ12پر)

افسریا عملے کا نام لیا یاان کے بارے میں کوئی اعتراف کیا، گزشتہ روز وائس چانسلر کودی گئی درخواست میں انہوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ انکوائری کمیٹی میں ڈاکٹر عمر فاروق نے شدید دباو ڈالکر مجھے مرضی کا بیان لکھوایا، جبکہ میں انہیں کوئی فہرست یا ثبوت نہیں دیا، اسی طرح ڈاکٹر مطاہر اقبال نے دوران انکوائری مجھے سے میرا موبائل چھین لیا اور اس سے میرے بیان کا موقف لیکر اپنے سیل پر سینڈ کردیا انکوائری کمیٹی نے میرے بیان کو بنیاد بناکر دوسرے افسروں کا اس کیس میں ملوث کردیا حالانکہ میں نے ان کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا، اسی طرح ڈپٹی رجسٹرار اے ڈی عامر نے بھی درخواست دی کہ ان کی معطلی ختم کی جائے اس کیس سے میرا کوئی تعلق نہیں ناہی محمد امین میرے انڈر کام کرتے ہیں انکوائری میں اس بابت مجھے سے 8 سوال پوچھے گئے جس میں اس سکینڈل کے حوالے کچھ بھی شامل نہیں تھا یہ معطل اور الزامات صرف ساکھ خراب کرنے کے مترادف ہے، دریں اثنا ایک ذرائع کا کہنا ہیکہ ابتدائی انکوائری کے خلاف عدالت عالیہ سے حکم امتناعی کا فیصلہ آگیا، یہ فیصلہ بدھ کی سہ پہر آیا، جس میں یونیورسٹی انتظامیہ کو اس کمیٹی پر اٹھنے والے سوالاوت پر جواب مانگا گیا اور ان کے افسروں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روک دیا گیا، جس کے بعد کنٹرولر آفس متحرک ہوگیا اور فوری طور پروائس چانسلر سے احکامات جاری کرادئیے، جبکہ ایسے کیسوں پر 16(3) کی ایمرجنسی پاور استعمال نہیں کی جاسکتی اس کو سینڈیکیٹ میں لیجانا ضروری ہوتا ہے، اس صورتحال میں انکوائری کمیٹی کے جانبداری سامنے آرہی ہے اور اس کیس سے جڑے اصل ملزوموں کو بچانے کی کوشش بھی ثابت ہورہی ہے۔

سکینڈل

مزید : ملتان صفحہ آخر