تاجروں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائیگا: تیمور جھگڑا

تاجروں پر کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائیگا: تیمور جھگڑا

  



پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا سے پشاور چیمبر آف کامرس کے تاجروں پر مشتمل نمائندہ وفد نے ایک اہم ملاقات کی۔وفد جس کی قیادت پشاور چیمبر کے صدر عاطف حلیم کررہے تھے، کے علاوہ پشاور سے تعلق رکھنے والے مختلف تاجر بھی ان کے ہمراہ تھے۔تاجر برادری نے وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کوانہیں درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔وفد کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی تاجر برادری نے ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ مشکل حالات کا سامنا کیا ہے،دہشت گردی کے باعث یہاں لوگوں کے کاروبار بری طرح متاثر ہوئے جبکہ ماضی میں حکومتوں کی جانب سے ان کے مسائل پر خاطر خواہ توجہ نہ دینے کی وجہ سے ان کی تکالیف اور مسائل مزید بڑھ گئے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ نہ صرف ٹیکس نظام کو بہتر بنانے بلکہ کاروبار آسان بنانے کے ساتھ ساتھ خدمات کی فراہمی کے مختلف شعبوں پر ٹیکس کی شرح میں مناسب کمی کی ہے جس سے تاجر برادری کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔وفد نے وزیر خزانہ کو بتایا کہ ملک کے دیگر صوبوں کی نسبت خیبر پختونخوا میں تاجروں پر عائد بعض ٹیکسوں کی شرح غیر منصفانہ ہے اور دہرے ٹیکسوں اورحال ہی میں محکمہ ایکسائز کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس میں اضافے سے ان کی مشکلات بڑھنے کے علاوہ تاجر برادری کی بے چینی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ تاجروں سے متعلق کوئی بھی پالیسی بنانے کے لئے حکومت تاجر برادری کی رائے کو بھی شامل کرے تاکہ بعد میں اس پر عملدرامد کے سلسلے میں حکومت کوئی مشکل درپیش نہ ہو۔وفد نے صوبائی وزیر کو یقین دلایا کہ تاجر برادری ٹیکس وصولی میں بھرپور ساتھ دیتے ہوئے حکومت کی جانب سے مقررہ وصولیوں کے اہداف کو حاصل کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے گی۔ وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اس موقع پر پشاور چیمبر کے وفد کی جانب سے انہیں پیش کئے جانے والے مسائل کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت تاجر برادری کو درپیش مسائل کے حل اور ان کے دیگر جائز مطالبات کے لئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے تاجر برادری کے تحفظات کے پیش نظر اضافی پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے عمل کوفوری طور روک دیا گیا ہے جبکہ تاجروں پرٹیکس کی مد میں کوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا جائیگا۔انہوں نے کہا کہ حکومت رینٹل ویلیو ٹیکس سمیت تاجروں پر عائد دیگر ٹیکسوں کی شرح کا جائزہ لے کرآئندہ بجٹ سے قبل تاجروں کو بھرپور ریلیف فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ جب تک موجودہ تاجروں کے مسائل حل نہیں ہوں گے اور انہیں کاروبار کرنے میں سہولیات فراہم نہیں کی جائیں گی صوبے میں سرمایہ کاری کے فروغ کو ممکن نہیں بنایا جاسکتا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس نظام کو موئثر بنانے،ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ٹیکس وصولی کے نظام کو شفاف بنانے کے لئے مختلف اصلاحات نافذ کی ہیں جس کے بہتر نتائج سامنے آرہے ہیں اور صوبائی محاصل میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے حکومتی اقدامات کی بدولت مقامی سرمایہ کاروں کے علاوہ بین الاقوامی سرمایہ کار بھی صوبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں تاجروں کے مسائل حل کرنے اور ٹیکس نظام کی خرابی کو دور کرنے کے لئے سنجیدگی سے کام نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے ملک کے کسی بھی صوبے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف ہندوستان کے دوسرے درجے کے شہروں سے بھی زیادہ نہیں۔انہوں نے تاجروں سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی اپنی صفوں میں موجود ٹیکس چوری کرنے والے عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے انہیں اس قومی فریضے کی ادائیگی کے لئے راغب کریں،انہوں نے کہا کہ صوبے کے معاشی استحکام میں تاجروں کا کلیدی کردار ہے،صوبے کی ترقی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے حکومت اور تاجر برادری کو مل کر کام کرنا ہوگا۔وفد نے صوبائی وزیر خزانہ کی جانب سے ان کے مسائل میں دلچسپی ظاہر کرنے اور ان کے حل کی بھرپور یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔اس موقع پر چیمبر کے صدر نے وزیر خزانہ تیمور سلیم کو یادگاری شیلڈ پیش کی اور پشاور چیمبر کے دورے کی دعوت بھی دی

مزید : صفحہ اول