متعلقہ افسران کی سرپرستی میں لیاقت آباد غیر قانونی تعمیرا ت کا جنگل بن گیا 

متعلقہ افسران کی سرپرستی میں لیاقت آباد غیر قانونی تعمیرا ت کا جنگل بن گیا 

  



کراچی (رپورٹ/ندیم آرائیں)لیاقت آباد کو غیر قانونی تعمیرات کا جنگل بنانے کا سلسلہ تاحال جاری، افسران نوٹوں کی چادر تان کرخواب خرگوش کے مزے لوٹنے میں مصروف،اینٹی کرپشن کی اس جانب سے خاموشی سوالیہ نشان، بار بار نشاندہی کے باوجود افسران کا اپنے ماتحت  کرپٹ افسران اور  غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی سے گریز، پلاٹ نمبر 246 قاسم آبادگراؤنڈ پلس فور، پلاٹ نمبر 5/665شاپس پلس فائیو،لیاقت آباد، 5/366گراؤنڈ پلس فائیو،لیاقت آباد، 6/517شاپس پلس فائیو،لیاقت آباد،8/ 483شاپس پلس فور،لیاقت آباد،پلاٹ نمبر6/671, پلاٹ نمبر 10/623شاپس پلس 6,اور اس طرح کے کئی پلاٹس پر زور  و شور  سے کھلے عام غیر قانونی تعمیرات کا کام جاری ہے علاقہ مکینوں کی جانب سے لیاقت آباد کے کئی پلاٹوں پر ایس بی۔سی اے کے افسران کو متعدد بار شکایات کی جاچکی ہیں  مگر اعلی افسران کی جانب سے ان غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں کی گئی چند دنوں میں یہاں رہائش شروع کردی جائے گی پھر یہی افسران کہیں گے کہ اب ہم کیا کرسکتے ہیں، درخواست گزراوں نے روزنامہ پاکستان کو نام نہ ظاہر کرنے پر بتایا کہ کرپٹ افسران کے پاس جب ہماری درخواست پہنچتی ہے تو ہماری درخواست پر قانونی کارروائی کرنے کے بجائے متعلقہ افسر بلڈرز مافیا  کو ہمارے مکمل کوائف کے ساتھ  وٹس ایپ کرکے اس کاکھایا ہوا نمک حلال کرنے کی کوشش کرتا ہے، بلڈر مافیا درخواست ملتے ہی ہمارے پیچھے پڑجاتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں کہ یا تو درخواست واپس لو یا پھر برے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجاِؤ، اگر درخواست گزار دھمکیوں سے نہ مانے تو ایس بی سی کے کرپٹ افسران بلڈر سے لاکھوں روپے لے کر انہی۔ 15 ست 20 دن کی مہلت دے دیتا ہے اور درخواست گزار کو حیلے بہانوں سے ٹالتا رہتا ہے اسی دوران بلڈر پلاٹ پر تعمیرات مکمل کرکے خریداروں۔کو قبضہ دے دیتا ہے،زرائع نے بتایا کہ۔اس وقت لیاقت آباد میں،ڈائریکٹر عامر کمال،ADایاز شہاب, AD زبیر مرتضی، AD عمران رضوی،نے رشوت کا بازار گرم کررکھا ہے، علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ڈی جی ایس بی سی اے کو کیوں اپنے ان افسران کی کرپشن نظر نہیں آرہی؟ کیا انہوں نے کبھی لیاقت آباد کا دورہ نہیں؟کیا کیا ان تک ہماری درخواستیں نہیں پہنچتی؟ان کو کیوں نظر نہیں آرہا؟ کیاانہیں لیاقت آباد کا تباہ ہوتاہواانفرااسٹرکچر نہیں آرہا؟ شہریوں نے ڈی جی ایس بی سی اے سے اپیل کی ہے کہ اگر آپ واقعی میں شہر کو تباہی سے بچانا چاہتے ہیں تو اپنے ارد گرد چھپے راشی افسران کو اپنی صفوں سے باہر نکالیں اور شہر کا روزانہ کی بنیاد پر دورہ کریں جہاں غیر قانونی تعمیرات نظر آئیں ان کے خلاف فوری کارروائی کروائیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر