ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں "سالانہ سیرت النبیؐ کانفرنس

ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں "سالانہ سیرت النبیؐ کانفرنس

  



کراچی(اسٹاف رپورٹر)ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے زیرِ اہتمام سالانہ سیرت النبیؐکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقرین نے کہا ہے کہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ دیکھ کر سیکھتا ہے، اسے زندگی کے لیے ایک ماڈل کی ضرورت ہوتی ہے، اسی لیے اللہ نے انسانوں کو بتا دیا ہے کہ رسولؐ کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے قدیم و جدید ہر زمانے کے لیے رسول اللہ نے رہنما اصول متعین فرمادیئے ہیں، ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے عبدالقدیر خان آڈیٹوریم میں منعقدہ سیرت النبیؐ کانفرنس سے اقبال پیر زادہ، ڈاکٹر رضوان نقشبندی، ڈاکٹر جمیل راٹھو نے خطاب کیا، جب کہ اس موقع پر ڈاؤ یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر خاور سعید جمالی، رجسٹرار پروفیسر امان اللٰہ عباسی،ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کی وائس پرنسپل پروفیسر رملہ ناز، ڈاؤ کالج آف فارمیسی کی ڈائریکٹر سنبل شمیم،پروفیسر افتخار احمد، پروفیسر اسحاق الرحمٰن، پروفیسر جہاں آرا، پروفیسر اورنگزیب، اسسٹنٹ پروفیسر یحیٰی نوری، اسسٹنٹ پروفیسر سیف اللٰہ بیگ،ڈاکٹر رستم زمان، اسسٹنٹ پروفیسر کاشف سیمیت سینئر فیکلٹی ممبرز اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی، کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر رضوان نقشبندی نے کہا کہ نبیؐ کی ذات ا ور ان کا کردار ہی درحقیقت دنیا کے لیے معجزہ ہے، اللٰہ نے انہیں حضوراکرم ؐ کے پاس جامع فرمادیا اورا نہیں ایک کامل انسان بنایا، آج تک کائنات میں ایسی جامعیت اور کاملیت کسی انسان کو حاصل نہ ہو سکی، انہو ں نے کہا کہ ہر شخص سائنسی اور فنی علوم اور انکی شاخوں میں کاملیت حاصل نہیں کر سکتا، اسے کسی کو بھی کاملیت حاصل کرنے کے لیے کسی ایک علم کی ایک شاخ کا انتخاب کرنا ہوگا، مگر حضورِ اکرمؐ نے جو رہنما اصول بیان کئے ہیں، ان کے مطابق آپ ساری دنیا کے علوم حاصل کر یں، جہاں چاہیں سیر کریں، مگر روحانی مرکز اور سرچشمہ ہدایت سرکا رِ مدینہؐ کی تعلیمات کو بنالیں، آپ نے دین کا تقاضا پورا کردیا، انہوں نے کہا کہ حضورؐ کی تعلیمات میں فطرت، روحانیت اور فلسفے کا عروج یکجا ملے گا، فلسفی کے پاس عقل کا عروج مل سکتا ہے، صوفی کے پاس روحانیت مل سکتی ہے، عقل اور فطرت نہیں مگر حضور کی تعلیمات میں عقل فطرت، روحانیت کی معراج ملے گی، انہوں نے کہا کہ حضورؐ نے علم کی ہر شاہراہ پر اللٰہ کی معرفت بچھادی ہے، اسلیے خدا کی معرفت سے عاری علم آخرت میں کوئی فائدہ نہیں دے سکے گا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر جمیل راٹھور نے کہا کہ نبیؐ کی جس قدر بھی شان بیان کریں تب بھی تو حق ادا نہیں ہوسکے گا، انہو ں نے کہا کہ ہمارا ان کی شان بیان کرنا، ان کا ذکر کرنا عظیم کام ہے، جو بھی عبادت نماز، روزہ، حج اور زکوۃ ہم کرتے ہیں ِ،وہ ہمارے نبیؐ کی سنت ہے، جبکہ نبیؐ کا ذکر کرنا اللٰہ کی سنت ہے، اللٰہ پاک نے نبیؐ کو بے مثل و بے مثال بنایا، انہو ں بتایا کہ اللٰہ پاک نے قرآنِ پاک میں سو سے زائد آیات آپؐ کی شان میں نازل فرمائیں، انہو ں نے کہا کہ بچے وہ کرتے ہیں جیسا آپ کو کرتا دیکھتے ہیں، وہ نہیں جو آپ کہتے ہیں، آپ اپنے بچوں کو بنیؐ، اہلِ بیت و صحابہ اور قرآن کی محبت سیکھائیں تاکہ ان کے دلوں میں قرآن، اہلِ بیت و محبتِ رسول اجاگر ہو، ایسا لوگ دونون جہا نوں میں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں، انہو ں نے کہا کہ اللٰہ پاک نے آپؐ کی شان منفرد انداز میں بیان کی، کبھی انہیں شہرت والا، کبھی سخاوت والا، کبھی طہارت دینے والا، ہدایت والا، کبھی لائق تو کبھی بعثت والا کہ کر بیان کی۔ انہو ں نے کہا کہ سورۃ حجرات میں جگہ جگہ ان کی شان بیان فرمائی اور مومنوں کو ادب سیکھایا کہ اپنی آوازوں کو بھی بلند نہ کریں کہ ایسا نہ ہو کہ ان کے اعمال ضائع ہوجائیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو، انہو ں نے کہا کہ نبیؐ صرف وہی بولتے اور سوچتے ہیں جو وحیِ الہی ہوتا ہے، قبل ازیں حافظ حمزہ انور، ایمن گلزار، ایمن بشیر، طوبٰی فاطمہ اور بسمٰہ فاطمہ،محمدذیشان صدیقی قادری رضوی، ڈاکٹر عروج نے حضورسرورِ کونینؐ کی بارگاہ میں ہدیہ نعت پیش کی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر