کراچی،چوتھی بین الاقوامی واٹر کانفرنس اختتا م پذیر

کراچی،چوتھی بین الاقوامی واٹر کانفرنس اختتا م پذیر

  



کراچی(پ ر) دو روزہ ”چوتھی کراچی بین الاقوامی واٹر کانفرنس“کے دوسرے دن بھی کانفرنس کے شرکاء سارا دن مختلف سیشنز سے مستفید ہوتے رہے۔اس کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد واٹر اورانرجی فوڈ پر مل کر کام کرنے والے آبی شعبوں کے رہنماؤں‘ اداکاروں اور کھلاڑیوں کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنا ہے۔ واٹر انرجی فوڈ نیکسز میں پانی کی مرکزیت تجزیہ کاروں کیلئے بطور آلہ اور قابل عمل مثال ہے۔اس کانفرنس کے ذریعے بڑی عالمی‘ علاقائی اور قومی تنظیمیں اور ان کے نمائندے‘ محققین‘ پیشہ ور افراد‘ فیصلہ سازوں‘ کاروباری جدت پسندوں‘ پریکٹیشنرز‘ ماہرین‘ خواتین کے گروپوں‘ نوجوانوں کے گروپوں اور ڈبلیو ای ایف کے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کے درمیان تبادلہ خیالات‘نئی سوچ کو فروغ دینے‘ جدید حل تیار کرنے اور اکیسویں صدی کے پانی کے ایجنڈے پر کام کرنے کے مواقع میسر آئے۔دوسرے دن کی شروعات سیشن فائیو بعنوان ”فائیر سائیڈ چیٹ آن ویلیونگ واٹر“ سے ہوئی‘جس میں پانی کا دفاع کرنے والی تین شخصیات ڈاکٹر عادل نجم‘ عائشہ خان اور نادیہ نقی کی جانب سے مختلف وجوہات پیش کرتے ہوئے ماحولیاتی نظام کی حفاظت میں پانی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ سیشن سکس اے ”واٹر گورننس اینڈ سیکیورٹی‘ فوڈ پروڈکشن اینڈ ایگریکلچر ڈویلپمنٹ“کے تحت پاکستان کے لئے فوڈ سکیورٹی کا حل تلاش کیا گیا۔ سیشن سکس بی میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ کیاڈبیلو ای ایف نیکسیز کا لائحہ عمل ہماری پالیسی سے مطابقت رکھتا ہے۔ سیشن سیون اے کا موضوع تھا ”واٹر انفراسٹرکچر اینڈ انویسٹمنٹ“اس سیشن کی صدارت گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر تھے۔ اس سیشن میں تحت اکیسویں صدی میں پاکستان میں واٹر فنانسنگ کے لئے ایک بیس پوک ماڈل نے واٹر فنانسنگ کے آلات اور پانی کے لئے فنانسنگ ماڈل کی نشاندہی کی گئی۔ سیشن سیون بی ”کسی کو پیچھے نہیں چھوڑنا۔ ماحولیاتی تبدیلی کیلئے نوجوانوں کو مدعوکرنا“اس حصے میں نیکسیز اور آب و ہوا کی ہنگامی صورتحال کے سلسلے میں نوجوانوں کی کوششوں کو اجاگر کیاگیا۔ کانفرنس کا اختتامی سیشن میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایلنگوان پچہم یتھو اور پاکستان میں ایف اے او کی نمائندہ مینا دولتچاہی کی سیر حاصل گفتگو سے حاضرین مستفید ہوئے۔ اس موقع پر سیمی کمال نے این ای ڈی یونیورسٹی کراچی میں قائم اپنی نوعیت کے انتہائی منفرد اور پہلے واٹر سینٹر ”پنجوانی واٹر حصار انسٹیٹیوٹ“ کے حوالے سے لوگوں کو آگاہ کیا۔مہر نوشیروانی نے دو روزہ کانفرنس کے اعلامئے کو سمیٹے ہوئے اختتامی کلمات ادا کئے جبکہ گورنر سندھ عمران اسماعیل نے اپنے خطاب میں حصار فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر