آرمی چیف کی مدت ملازمت کا فیصلہ ہوچکا لیکن اب حکومت جارہی ہے یا نہیں؟ سینئر صحافی نے حیران کن انکشاف کردیا

آرمی چیف کی مدت ملازمت کا فیصلہ ہوچکا لیکن اب حکومت جارہی ہے یا نہیں؟ سینئر ...
آرمی چیف کی مدت ملازمت کا فیصلہ ہوچکا لیکن اب حکومت جارہی ہے یا نہیں؟ سینئر صحافی نے حیران کن انکشاف کردیا

  



اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف کی مدت ملازمت کے کیس کا فیصلہ سنادیا ہے اور حکومت کو قانون سازی کے لیے چھ ماہ کی مہلت دے دی لیکن اب لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال اٹھنا شروع ہوگیا کہ آئندہ الیکشن تک بھی جنرل باجوہ آرمی چیف ہوں گے ؟حکومت کا مستقبل کیا ہوگا؟ حکومتی مستقبل کے سوال کا جواب سینئر صحافی عطاالحق قاسمی نے دیدیا۔

روزنامہ جنگ میں انہوں نے لکھا کہ  ’’حکومت کے جانے یا نہ جانے کا انحصار سونامی پر ہے اگر اس ’’سونامی‘‘ کا قبلہ درست نہ ہوا تو موجودہ سیٹ اَپ برقرار نہیں رہے گا، بصورتِ دیگر سونامی کے ساتھ آنے والی زرخیز مٹی سے اپوزیشن کی مرجھائی ہوئی فصلیں دوبارہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگیں گی۔آپ کو ایک راز کی بات اور بتا دوں، وہ یہ کہ بالادست طبقے کو ہمیشہ نامقبول حکومتیں اچھی لگتی ہیں کیونکہ وہ صرف ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی ہوتی ہیں جبکہ گاڑی کوئی اور ڈرائیو کر رہا ہوتا ہے۔

بالا دست طبقہ اگر کبھی چہرہ شناسی میں غلطی کر بیٹھے تو بھٹو اور نواز شریف کی مثالیں سامنے ہیں۔ بھٹو کی جان عدالت نے لے لی تو بالآخر جان چھڑا لی گئی لیکن نواز شریف ابھی تک بالا دست طبقے کے لئے مسئلہ بنا ہوا ہے۔مجھے علم ہے کہ ان سطور کی اشاعت کے ساتھ ہی کسی ’’خمار آلود‘‘ شام میں انٹرنیٹ پر بیٹھے یار لوگ کروڑوں روپے میرے بینک اکاؤنٹ میں ڈال دیں گے اور میری ساری جیبیں لفافوں سے بھی بھر دیں گے نیز میرے حسب نسب کو بھی ہاکی کے اناڑی کھلاڑی کی طرح گیند اپنی ہی ’’ڈی‘‘ میں لے جائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ میں ’’مستقبل کا حال‘‘ بتانے سے گریز کرتا ہوں لیکن اب تو بتا دیا ہے!

اور ہاں ان باتوں سے قطع نظر، میڈیا پرسنز کے بارے میں یہ خوش فہمی بھی عام ہے کہ ان کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں، حکمران ان کے اشارے کے منتظر ہوتے ہیں چنانچہ وہ ان سے جو کام کہیں، وہ چشم زدن میں ہو جاتا ہے یعنی میڈیا پرسنز کسی میٹرک پاس کو کسی محکمے کا ڈائریکٹر جنرل لگوا سکتے ہیں اور آرٹس والے کو کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں داخلہ دلا سکتے ہیں اور اس کے علاوہ چھوٹی موٹی نوکریاں اور پوسٹنگ ٹرانسفر تو ان کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہیں۔

اس خوش فہمی کا سبب یہ ہے کہ ایک عام آدمی انہیں پریس کانفرنسوں اور دوسرے مواقع پر انہی حکمرانوں کے ساتھ بیٹھا دیکھ کر اسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ سب کچھ ان کے ہاتھ میں ہے اور اگر کوئی ان کا کام نہیں کر رہا تو وجہ صرف یہ ہے کہ وہ کام کرنا نہیں چاہتا۔ان کا یہ خیال اتنا غلط بھی نہیں ہے لیکن انہیں شاید اس بات کا علم نہیں کہ حکمرانوں سے کام لینے کے لئے حکمرانوں کے ’’کام‘‘ بھی کرنا پڑتے ہیں جو لوگ اپنے ضمیر کے خلاف جا سکتے ہیں،

وہ واقعی ہر کام کرانے پر قادر ہوتے ہیں لیکن ضمیر کے قیدی اگر کسی کے حق یا مخالفت میں لکھتے ہیں تو ان کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہوتا، یہ اپنے ضمیر کے گھڑے کی مچھلی ہیں اور گھڑے کی مچھلی کی اوقات کا تو سب کو علم ہے!‘‘َ۔

مزید : قومی