وزیراعظم بن کرعمران خان کےاَرمان پورےمگر عوام کےاَرمانوں کاخون ہوا:سینیٹر سراج الحق

وزیراعظم بن کرعمران خان کےاَرمان پورےمگر عوام کےاَرمانوں کاخون ہوا:سینیٹر ...
وزیراعظم بن کرعمران خان کےاَرمان پورےمگر عوام کےاَرمانوں کاخون ہوا:سینیٹر سراج الحق

  



تبی سر(ڈیلی پاکستان آن لائن)امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نےکہاہےکہ وزیراعظم بن کرعمران خان کےاَرمان پورے ہوگئےمگرعوام کے اَرمانوں کا خون ہوا،عمران خان کےحلقہ میں لوگ اَب بھی جوہڑوں کاپانی پی رہے ہیں،آرمی چیف کی ایکسٹینشن کےمعاملے میں حکومت نےفوج کاتقدس پامال کیا، 22 دسمبر کا اسلام آباد میں’کشمیر مارچ‘ موجودہ حکمرانوں اورمودی کے خلاف ہوگا،ہم کشمیر کی طرف لانگ مارچ سےپہلےاَتمامِ حجت کیلئےحکمرانوں کوجگانے کی کوشش کریں گے، چیف جسٹس ملک میں آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کیلئے حکومت کودستور پاکستان پراُس کی روح کے مطابق عمل درآمد کا حکم دیں،اگر سود کا خاتمہ ہوجائے تو پاکستان عالمی صیہونی مالیاتی اداروں کی غلامی سے آزاد ہوجائے گااور ملک پر چھائی ہوئی نحوست ہمیشہ کیلئے ختم ہوجائے گی۔

میانوالی کی خٹک بیلٹ   تبی سر میں جلسہ عام سے خطاب اورمیڈیاکےنمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئےسینیٹر سراج الحق نے کہا کہ 116دن سے کشمیر میں بدترین کرفیو ہے،کشمیر ی 13واں جمعہ بھی مساجد میں ادا نہیں کرسکے،تعلیمی ادارے،مارکیٹیں اور ہسپتال بند ہیں،لوگ گھروں میں محصوراورمحبوس ہیں مگر کشمیر میں ہونے والے ظلم اور مسلم کشی پر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور ہمارے حکمران بھی چپ سادھے بیٹھے ہیں،ہم کشمیر کی طرف لانگ مارچ سے پہلے اِن بے حس اور قومی غیرت سے محروم حکمرانوں کو جگانے کیلئے اَتمامِ حجت کریں گے،22دسمبر کو ملک بھر سے لاکھوں لوگ اسلام آباد پہنچیں گے،اگر حکمرانوں نے غیرت و حمیت کا ثبوت نہ دیا تو ہم قوم کو آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے۔اُنہوں نے کہا کہ کشمیر کی آزادی پاکستان کی بقا،سالمیت اور تحفظ کا مسئلہ ہے،حکمران خوابِ غفلت سےبیدارنہ ہوئےتو نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ کشمیر کی مظلوم مائیں بہنیں اوربیٹیاں بھی اِن حکمرانوں کےگریبان پکڑیں گی،اللہ کےنظام سےبےاعتنائی حکمرانوں کاوطیرہ بن چکاہےجس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہی ہے،دنیا و آخرت میں کامیابی کی ایک ہی چابی ہے اور وہ اللہ کاعطاکردہ نظام ہے،جب تک حکمران اللہ کے نظام سے بغاوت کا رویہ نہیں چھوڑتے،ملک مسائل کی دلدل سے نہیں نکل سکتا۔

اُنہوں نے کہاکہ عام آدمی کواپنے مسائل کےحل کےلیےایک وسیع تراسلامی انقلاب کےلیےاٹھنا ہوگا،حکمرانوں کےدِل پتھر سےبھی زیادہ سخت ہیں،عام آدمی کی حالت انتہائی قابل رحم ہے،کوئی غریب کی بات سننے کو تیار نہیں،حکومت بےحسی اورہٹ دھرمی کی تمام حدیں پھلانگ چکی ہے،لوگ مہنگائی کے ہاتھوں فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں،بجلی گیس اورتیل کی قیمتوں میں آئے روزاضافہ سےغریب اورمتوسط طبقہ بری طرح متاثر ہواہے،اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو عام آدمی کے مسائل کا ادراک ہی نہیں،یہ عوام کو کیڑے مکوڑے اور خود کو کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سمجھتے ہیں،مہنگائی، بے روزگاری، گھر کے کرائے جیسے مسائل سے اِنہیں کبھی پالا نہیں پڑا،اِن لوگو ں نے کبھی بھوک اور پیاس دیکھی ہے نہ اِنہیں موسم کی شدت کا احساس ہواہے،علاج اور تعلیم کی سہولتوں سے محرومی اور انصاف کی عدم فراہمی جیسے مسائل عوام کےہیں حکمرانوں کےنہیں،حکمران اپنی ذات کےعشق میں مبتلا ہیں،ہر کوئی خدا بننے کی ناکام کوشش کر رہاہے،چند روزہ زندگی کوبھی وہ فرعون کی طرح گزارنا چاہتے ہیں۔

مزید : قومی /علاقائی /پنجاب /میانوالی