اسٹیل ملز کے ملازمین کی برطرفی ظالمانہ فیصلہ، سندھ حکومت 

اسٹیل ملز کے ملازمین کی برطرفی ظالمانہ فیصلہ، سندھ حکومت 

  

 کراچی (آن لائن)سندھ حکومت نے اسٹیل ملز کے 4500 ملازمین کو نوکریوں سے نکالنے کے فیصلے کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے  ہز اروں ملازمین کو یک قلم جنبش نکالنے کو مسترد کرتے ہیں۔صوبائی وزیر اسماعیل راہو نے مزید کہا وفاقی حکومت اسٹیل ملز کے ملازموں کو بر طرف کرنے کا جابرانہ فیصلہ واپس لے، فیصلے کے پیچھے اسٹیل ملز کو اونے پونے کھپانے، ایک مرتبہ پھر ATMs کو نو ا زنے کا منصوبہ ہے۔ ملک میں کورونا کے باعث وبائی صورتحال ہے، ملازمت پیشہ طبقہ پہلے سے ہی فاقہ کشی کاشکار ہے، عمران خان کا لوگوں کو بھوکا نہ مارنے کا اعلان کہاں گیا؟ خان صاحب ریاست کا کام روزی چھیننا کب سے ہو گیا؟ وفاق نے نکالے جانیوالے ملازمین کو کوئی متبادل روزگار کاپر و گرام بھی نہیں دیا گیا۔ عملے کو بحال کر کے مرکزی پول میں شامل کر کے دوسری وزارتوں میں ایڈجسٹ کیا جائے، عمران نیازی کی حکومت میں کوئی ادارہ ایسا نہیں جو تباہ نہ ہوا ہو، خان صاحب اور اسد عمر نے مل کی بحالی کے جھوٹے وعدے اور اعلان کر کے ملاز مین کو دھوکہ دیا۔ خان صاحب کے دعوے جھوٹے نکلے، اسٹیل ملز کو مزید تباہ گیا، دارے تو تباہ ہوئے لیکن لاکھوں مزدوروں کو بھی بیروزگار کر دیا گیا۔اسماعیل راہو نے کہا ملازمت سے نکالے جانے کی خبر سن کر ملازم دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا۔ملازم کی موت کی ذمہ دار وفاقی حکومت ہے۔

سندھ حکومت

مزید :

صفحہ آخر -