پاکستان 113ارب ڈالر سے زائد بیرون قرضوں کے جال میں پھنس چکا:اسحاق ڈار

پاکستان 113ارب ڈالر سے زائد بیرون قرضوں کے جال میں پھنس چکا:اسحاق ڈار

  

 لندن(آئی این پی) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پی ٹی آئی کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کے سبب پاکستان قرضوں کے جال میں پھنس چکا ہے، معیشت جمود کا شکار ہے، بڑھتی غربت اور انتہا درجے کی بے روزگاری سے پاکستان کی معاشی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں،متضاد پالیسیاں، غیر یقینی صورتحال، کاروبار ی اخراجات میں اضافہ اور دائمی سرکلر قرضوں کے نتیجے میں ملک کے مجموعی ملکی پیداوار میں کمی سے ملکی معیشت کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ایک برطانوی    جریدے فرائیڈے ٹائمز میں لکھے اپنے مضمون میں اسحاق ڈار نے لکھا کہ ن لیگ کی حکومت کے آخری مالی سال 2018میں ملک کی جی ڈپ پی گروتھ 5.8فیصد تھی جوپی ٹی آئی کی حکومت کے پہلے سال 1.9فیصد اور مالی سال 2020میں منفی 0.38فیصدتک گرگئی ہے۔ اس کے باوجود مشیر خزانہ کا یہ کہنا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دو سالوں میں 48فیصد کم بیرونی واجبات اور 78فیصد زیادہ قرض کی ادائیگی کی گئی گمراہ کن اعداد و شمار ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے نجی بینکوں سے لئے گئے قرضے کی حد 8.774بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ دو سالوں کے دوران بیرونی قرضے جو کہ 30ستمبر 2018کو 95.23بلین ڈالر تھے بڑھ کر 30ستمبر 2020کو 113.80بلین ڈالر ہو گئے۔ خالص بیرونی قرض میں 18.57بلین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ پی ٹی آئی حکومت نے 48.33 بلین ڈالر کا نیا بیرونی قرضہ لیا ہے۔ جس میں سے29.77بلین کا بیرونی قرض ادا کیا۔ پی ٹی آئی کی اقتصادی ٹیم عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہے نہ انہوں نے ملکی شرح نمو کی ترقی کے لئے اقدامات کئے نہ افراط زر میں کمی کے اسی وجہ سے آبادی کی شرح نمو کے مقابلے میں ملکی جی ڈی پی گروتھ انتہائی گر چکی ہے۔ افراط زر (سی پی آئی) چار فیصد سے بڑھ کر 10فیصد سے اوپر ہوچکا ہے، غذائی افراط زر کو دو فیصد سے بڑھ کر 15فیصد تک پہنچ چکا ہے، موجودہ نا اہل حکومت نے ملکی معیشت کابیڑہ غرق کر دیا۔

اسحاق ڈار

مزید :

صفحہ آخر -