بابر اعظم پر لاہوری کی رہائشی لڑکی حامزہ مختار کا 10سال تک جنسی ہراسگی کا الزام

  بابر اعظم پر لاہوری کی رہائشی لڑکی حامزہ مختار کا 10سال تک جنسی ہراسگی کا ...

  

 لاہور(سپورٹس رپورٹر)پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم بھی عشق زادے نکلے،بابر اعظم کا دس سال سے لاہور کی رہائشی لڑکی حا مِزہ مختار سے معاشقہ چل رہا تھا، حامزہ مختار نے بابر اعظم پر دس سال تک جنسی ہراسگی کا نشانہ بنانے کے سنگین الزامات لگا دیئے۔ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حامزہ مختار نے کہا بابر اعظم نے 2010ء میں انہیں ان کے گھر میں شادی کی پیشکش کی تھی لیکن دونوں خاندان متفق نہیں تھے، وہ 2011ء میں بابر کیساتھ کورٹ میرج کیلئے بھاگیں، پھر گلبرگ اور پنجاب ہاؤسنگ سوسائٹی میں مختلف مکانوں میں رہائش پذیر رہیں،بابرنے حالات دیکھتے ہوئے مجھ سے شادی سے انکار کردیا۔حامزہ کے مطابق انہوں نے سیلون پر نو کری کرکے حاصل ہونیوالی تمام آمدنی بابراعظم کو دیدی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے بابر اعظم کو مالی اعانت دیکر کرکٹر بنانے میں کلید ی کردار ادا کیا۔ وہ دنیا کے سامنے بابر اعظم کے ہاتھوں برداشت کیے گئے جنسی اور مالی استحصال پر روشنی ڈالنے آئی ہیں۔بابر کا قومی ٹیم کے انتخاب کے بعد ہی اس کیساتھ رویہ تبدیل ہونا شروع ہوگیا۔ ایسے حالات تھے کہ وہ اپنے گھر نہیں جاسکتی تھیں اور بابر نے وعدہ کیا تھا جب وقت ٹھیک ہوگا تو وہ ان سے شادی کرلیں گے۔ حامزہ نے دعویٰ کیا کہ 2015ء میں وہ حاملہ ہوگئی تھی اور جب بابر کو معلوم ہوا تو انہوں نے مجھ پر تشدد کیا اور بعد میں مجھے اپنے دو دوستوں اور بھائی کی مدد سے اسقاط حمل پر مجبور کیا۔ حامزہ نے دعویٰ کیا کہ عثمان قادر کو اس سارے وا قعے کے بارے میں بھی معلوم تھا۔حامزہ نے بتایا بابر نے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے گھر واپس جاکر اہل خانہ سے صلح کرلیں، انہوں نے پی سی بی اور تھانہ نصیرآباد میں بھی بابراعظم کیخلاف کاروائی کی درخواستیں دیں لیکن ابھی تک ان کیخلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ حامزہ مختار نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ فوری طور پر بابراعظم کیخلاف ایکشن لیتے ہوئے اسے کپتانی سے ہٹائے ورنہ میں پی سی بی کے دفتر کے با ہر خود سوزی کرلوں گی۔

حامزہ مختار

مزید :

صفحہ آخر -