ملکی سیاست، احتجاج اور کورونا

ملکی سیاست، احتجاج اور کورونا
ملکی سیاست، احتجاج اور کورونا

  

 ابھی چند روز قبل ہی حکومت کی طرف سے کوروناکی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لئے منعقدہ اجلاس کا اپوزیشن نے مکمل طور پر بائی کاٹ کردیا جو میری نظر میں شاید کوئی اچھا فیصلہ نہیں تھا۔ کیونکہ ملک کو درپیش تمام مسائل پر اپوزیشن کو اپنی رائے کا اظہار اور عوام کی نمائندگی جمہوری و آئینی طور پر کرنی چاہیئے،یہ اپوزیشن کا اولین فریضہ بھی ہے اور قومی ذمہ داری بھی۔ اب چونکہ ملک کورونا کی دوسری لہر میں داخل ہو چکا ہے جلسے جلوسوں کے علاوہ عوام مجموعی طور پر بھی احتیاطی تدابیر کرتے دکھائی نہیں دیتے جو خدا نخواستہ کسی مصیبت کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ بد قسمتی سے پاکستان تو ہمیشہ سے ہی وسائل کی کمی کا شکار رہا ہے اور ویسے بھی بقول وزیراعظم لاک ڈاؤن کی سب سے مشکل چیز دیہاڑی دار طبقے کے مسائل ہیں، مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس وقت پوری قوم ہی اس تکلیف میں مجموعی طور پر گھری ہوئی ہے، کاروبار تباہ حال ہیں، نوکریاں ناپید ہو چکی ہیں، مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے اور غریب دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں ان حالات میں پاکستان کسی طور بھی اس قسم کے چیلنجز کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

 ملک میں وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی شدت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ایک ہی دن میں 3000 سے بھی زیادہ کورونا کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کے برابر ہے۔وینٹی لیٹر ز کی تعداد بہت محدود ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ویکسین تو بن چکی ہے مگر پوری دنیا کے لیے ویکسین بنانے کے لیے شاید ابھی مزید ایک سال درکار ہو گا۔ اس وقت احتیاط ہی واحد حل ہے، میری حکومت، اپوزیشن و عوام سے گزارش ہے کہ خدا را اپنے اور ملک و ملت کے حال پر رحم کیجیے۔ اس وقت پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کی صورت حال ہے۔ برطانیہ، اٹلی، جرمنی،آئر لینڈ، بھارت اور امریکہ سمیت بے شمار ممالک اس مصیبت میں پھر سے مبتلا ہیں۔ یورپ و امریکہ میں تو عوام کو کاروبار کے لئے آسان قرضے ذاتی نوعیت کے قرضے و حکومتی  امداد فراہم کی جارہی ہے، مگر پاکستانی حکومت وسائل کی کمی کے باعث ایسا کرنے کی خواہش کے باوجود کرنے سے قاصر ہے۔اپوزیشن کو اب اپنے احتجاج کا طریقہ کار بدلنا ہوگا۔اگر اپوزیشن چاہے تو مختلف طریقوں سے اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -