پیش گوئیاں 

پیش گوئیاں 
پیش گوئیاں 

  

حکومت اپنی سیاسی سپیس کھوتی جا رہی ہے، کیونکہ جنرل مشرف کی طرح عمران خان نے بھی کرپشن ختم کرنے کے نام پر گونگلووں سے مٹی ہی جھاڑی ہے، حقیقت میں کیا کرایا کچھ نہیں۔ یادش بخیر، جب جنرل مشرف ناکام ہونے کے قریب تھے تو اس زمانے میں انہی کالموں میں ایک جملہ لکھا تھا کہ ''مشرف نے کرپشن ختم کرنی تھی ہم خوش تھے، عمران کرپشن ختم کرے گا ہم خوش ہیں۔ '' تب عمران خان کے ووٹر سپورٹر شدومد کے ساتھ عمران خان کے کرپشن کے خاتمے کے نعرے کا ذکر کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ عمران چور نہیں ہے، اس لئے چوروں کو نہیں چھوڑے گا۔ لیکن جب عمران خان مسند اقتدار پر براجمان ہوئے تو ان کے اردگرد سے چور برآمد ہونا شروع ہو گئے، پھر کسی کو نیب لے گئی تو کوئی لندن بھاگ گیا۔ 

عین ممکن تھا کہ عمران خان کے کرپشن کے خاتمے کا بھرم رہتا اگر رانا ثنا اللہ کے خلاف ہیروئن کا مقدمہ نہ بنتا اور شاہد خاقان عباسی کو جیل میں نہ ڈالا جاتا۔ اس سے احتساب کا سارا عمل انتقام کی سیاست میں بدل گیا اور آج نیب کو سپریم کورٹ کی جانب سے لعن طعن کا سامنا ہے اور حکومت کو اپنی ساکھ بچانے لئے محکمہ اینٹی کرپشن کو متحرک کرنا پڑ رہا ہے۔ 

عوام کو یہ بات بھی اچھی طرح سمجھ آگئی ہے کہ خالی کرپشن کے خاتمے سے ان کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اس کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ اشیائے ضروری کے دام ان کی پہنچ میں رہیں۔ اگر ملک میں مہنگائی آسمان سے باتیں کرنے لگے اور لوگوں کو روزگار کے لالے پڑ جائیں تو کسی کو اس میں دلچسپی نہیں رہتی کہ حکومت کرپشن کو ختم کر رہی ہے یا کرپٹوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لوگ حکومت سے غیر متعلق ہوتے جا رہے ہیں اور ان کا رجحان اپوزیشن کے جلسوں کی جانب بڑھتا جا رہا ہے۔ اسی لئے نون لیگ تمام تر آزمائش اور ابتلا کے باوجود جلسوں میں اپنے ووٹروں اور سپورٹروں کی حاضری یقینی بنا رہی ہے۔ اب ملک میں جیسی مہنگائی ہوگئی ہے اور بے روزگاری کا دور دورہ ہے، عمران کرپشن ختم کر بھی کر لیں تو بھی عوام ان سے خوش نہیں ہوں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے حامی بھی حکومت کی کامیابیوں کو گننے کی بجائے اپوزیشن کی ناکامیاں گننے پر لگے ہوئے ہیں۔ خدا معلوم پی ٹی آئی والے لہریں گننے کا عمل کب تک  جاتی رکھیں گے۔وہ خود تو کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کر رہے اور نون لیگ والوں کو پکڑ پکڑ کر بتا رہے ہیں کہ کورونا سے بچاؤ کی کیا ایس او پیز ہیں۔ جب آپ ان سے پوچھتے ہیں کہ احتیاطی تدابیر تو آپ بڑھ بڑھ کر بتا رہے ہیں لیکن خود آپ نے ماسک نہیں پہنا ہوا ہے تو جھٹ سے کہتے ہیں کہ میں نے ماسک جیب میں رکھا ہوا ہے۔ کوئی ان سے پوچھے کہ کورونا سے خطرہ خود انہیں ہے یاان کی جیب کو ہے۔ دوسرے الفاظ میں پی ٹی آئی والے کورونا جیب میں لئے پھر رہے ہیں، جہاں موقع ملتا ہے نکال کر خوف پھیلا دیتے ہیں۔ ان کی جانب سے پھیلائی جانے والی خوف کی یہ سیاست کارگر ثابت نہیں ہو رہی، حکومت جس قدر کورونا کا خوف پھیلا رہی ہے لوگ اسی قدر بے خوف ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ پی ڈی ایم کی قیادت کورونا کا خوف خود پر طاری نہیں ہونے دے رہی ہے۔ 

پی ڈی ایم جس شدومد سے اپنے شیڈول پر عمل پیرا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس نے کہیں پر کسی سے کچھ طے کر رکھا ہے اور تمام طرح کے اچھے برے حالات کے باوجود اپنے جلسے پورے کرنا چاہتی ہے۔ سرکس کا یہ سرکٹ پورا کر کے وہ کچھ ایسا کرنے جا رہی ہے جس سے ملک میں تبدیلی کا آغاز ہو جائے گا۔ نہ صرف حکومت بلکہ اسٹیبلشمنٹ بھی اپوزیشن کے ساتھ ایک پیج پر آ جائے گی اور آئین کی بالادستی کے لئے بہت کچھ ہو رہا ہوگا۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ اپوزیشن اس بات پر راضی نہیں ہو رہی کہ یہ ڈائیلاگ عمران خان کی وزیراعظم ہاؤس میں موجودگی میں نہیں ہو سکتا۔ لگتا بھی یہی ہے کہ کہیں فیصلہ ہوچکا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ عمران خان مزید وزیر اعظم ہاؤس میں بیٹھے رہیں کیونکہ نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن کسی بھی صورت اس کے لئے تیار نہیں ہوں گے، البتہ آصف زرداری کی بات علیحدہ ہے، وہ کچھ بھی کرنے کے لئے تیار ہو سکتے ہیں اور کسی بھی وقت کہہ سکتے ہیں کہ ''وعدے حدیث نہیں ہوتے ہیں۔'' البتہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا غفور حیدری کہہ رہے تھے کہ کوئٹہ کے جلسے کے بعد حکومت چلی جائے گی، جلسہ ہو گیا حکومت نہیں گئی۔ اب مریم نواز کہہ رہی ہیں کہ لاہور کے جلسے تک حکومت چلی جائے گی لیکن ایسا بھی نہیں لگتا۔ اس کے بجائے لگتا ہے کہ اپوزیشن کو سخت سردی کے موسم میں لانگ مارچ کرنا پڑے گا اور کارکنوں کو  سرد موسم اور بارش میں اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھنا پڑے گا۔

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان میں اسٹیبلشمنٹ کا کردار ختم ہو جائے گا تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔یہ الگ بات کہ اسٹیبلشمنٹ ملک میں مارشل لاء لگانے کی پوزیشن میں نہیں رہی، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاسی معاملات میں اپنی جگہ بنانے کے قابل نہیں ہے، وہ یقینی طور پر اپنی کرسی وزیراعظم کی کرسی کے برابر ڈال کر بیٹھنے کی اہلیت رکھتی ہے، کیونکہ پاکستان میں کسی ایک پاپولر سیاسی شخصیت کے مقابلے میں پورا ایک پاپولر نظام لڑرہا ہوتا ہے اور اسے گرانے میں کامیاب رہتا ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -