فیض: آج تم یاد بے حساب آئے (2) 

فیض: آج تم یاد بے حساب آئے (2) 
فیض: آج تم یاد بے حساب آئے (2) 

  

 کبھی سوچتا ہوں کہ قیامِ پاکستان کے دنوں میں کسی عزیز کے توسط سے فیض احمد فیض کے ساتھ والد کی یہ سرسری ملاقات قریبی تعلق کا اشارہ تو نہ ہوئی۔ پھر گمان ہوتا ہے کہ بات طبعی قربت کی نہیں، جذبہء محبت کی ہوا کرتی ہے۔ ڈاکٹر نور حسین کی باغ و بہار شخصیت کا خاصہ یہ رہا کہ پیشہء طب سے وابستگی ہوتے ہوئے بھی، جس کی ڈگری کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے 1924 ء میں حاصل کی، انہیں مشرقی زبانوں سے گہرا شغف تھا اور انگریزی اردو لٹریچر کا پختہ ذوق رکھتے تھے۔ انسان دوستی کا وصف اور یہی رجحان انہیں فیض احمد فیض، ایم ڈی تاثیر، حفیظ جالندھری اور جعفر علی خاں اثر لکھنوی کے قریب لے آیا۔ ڈاکٹر نورحسین بتایا کرتے کہ سرینگر میں فیض اور ایلس کا نکاح مشہور کشمیری رہنما شیخ عبداللہ نے پڑھایا اور نکاح نامہ پر ڈاکٹر صاحب کے دستخط بھی تھے۔ 

نکاح کی تقریب میں جوش ملیح آبادی بھی شریک ہوئے۔ بعد کے برسوں میں کسی  بزرگ نے یہ بھی کہا کہ ایلس فیض اور کرسٹابیل تاثیر کے سگی بہنیں ہونے کے ناتے سے فیض اور تاثیر ایک دوسرے کے ہم زلف تھے، لیکن نظریا تی اعتبار سے بھی کم و بیشً ہم زلف ہی تھے۔ یہ نکتہ میرے لیول سے اوپر کا ہے، بس لطف لیں اور آگے چلیں۔ لوگ شاید یہ بھی پوچھنا چاہیں کہ شاہد ملک، یہ بتاؤ کہ اگر تمہیں اِن گہرے دوستوں کے درمیان ایک باریک نظریاتی رشتے اور اِس کے بیچوں بیچ بال برابر فرق کی سمجھ نہیں تو پھر سمجھ کِس چیز کی ہے۔ عرض کروں گا کہ زیادہ تو نہیں، البتہ دو باتوں کی کچھ کچھ سمجھ آ گئی تھی۔                    

 ایک تو وہ دن نہیں بھولتا جب فیض کو پہلی مرتبہ قریب سے دیکھا۔ دوسرا وہ موقع جب انہیں پہلی بار قریب سے محسوس کیا۔ یہ نہ کہیے  ”دھت ترے کی، پھر چکر میں ڈال دیا“۔ کہانی صرف اتنی ہے کہ واہ والے مشاعرے میں ہجوم اتنا زیادہ تھا کہ نو سالہ لڑکے کو بیٹھنے کی جگہ ہی نہ ملی اور  ابا نے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتا دیا ”وہ ہیں فیض احمد فیض“۔ قسمت تو ایم اے فائنل میں جاگی ہے جب گورڈن کالج کے استاد ڈاکٹر فرانس زیویئر نے مجھ سمیت تین طالب علم شاعروں کا اردو مجموعہ شائع کرنے کی تحریک دی۔  قومیائے گئے کالج کے اولین پرنسپل پروفیسر خواجہ مسعود ایک صبح ہم تینوں کو اپنی فوکسی کار میں بٹھا کر فیض صاحب کے پاس لے گئے اور جاتے ہی بے تکلفی سے کہا ”فیض، اینھاں مُنڈیاں نے رل کے شعراں دی کتاب بنائی اے“۔ یوں فیض احمد فیض نے ہماری ”شعراں دی کتاب“ پڑھی اور اُس کے دو طرفہ ٹائیٹل پیج کے لیے، جو ابھی زیرِ طبع تھا، فلیپ بھی لکھ دیا۔ 

 نہیں، یہ بات اتنی سیدھی سادی نہیں۔ وجہ یہ کہ فیض صاحب کے فلیپ کی واردات ہماری طالب علمی کے اُس راولپنڈی سازش کیس سے جُڑی ہوئی ہے جس میں میرا کردار کسی سلطانی یا وعدہ معاف گواہ سے کم نہیں۔ فیض والے مشہور مقدمہ کے برعکس ہماری راولپنڈی سازش کسی فوجی بنگلہ میں نہیں بلکہ گورڈن کالج کے ایک کلاس روم میں تیار ہوئی، جس میں  میرے ساتھ اپنے شعبہ کے دو  اور طالب علم شاعر بھی شریک تھے۔ وہی گورڈن کالج جو کبھی اپنے تعلیمی معیار اور ہم نصابی مشاغل کے لیے جانا گیا اور اب اس لیے معروف ہے کہ اسے مرکز مان کر ایک کلومیٹر نصف قطر کا دائرہ لگائیں تو تین منتخب وزرائے اعظم کی قتل گاہوں کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔ آپ کا ذہن شاید کسی اَور طرف چلا جائے۔ لیکن ہم نے فیض  کے ساتھ جو نیم فوجداری حرکت کی اُس کے لیے نہ تو پنجاب پولیس کی روایتی ایف آئی آر کے مطابق سامنے آکر للکارا مارنا پڑا، نہ واردات کے آلات ِ جرم برآمد ہو سکے۔ بس، ہم نے ایک لسانی ہیرا پھیری کر کے چپکے سے یہ ثابت کر د یا تھا کہ جناب فیض احمد فیض ہم تینوں نو آموز شعرا کی تخلیقی عظمت  کے قائل ہو گئے ہیں۔

اِس کے لیے آپ کو ’لوحِ سفال‘ کے نام سے ہمارے شعری مجموعہ کی شانِ نزول سُننا ہوگی۔ کتاب کا ابتدائی منصوبہ 1973 ء کے اپریل، مئی میں اُس وقت وضع ہوا جب گورڈن کالج میں ہمارے استاد اور انگریزی کے صدرِ شعبہ ڈاکٹر فرانسس زیوئیر ٹانگ پر چوٹ لگ جانے کے سبب کالج میں واقع اپنی کوٹھی میں مقید ہو کر رہ گئے تھے۔ ابتدا میں انہوں نے اِس مجبوری کو غنیمت جانا کہ کچھ پڑھنے لکھنے کا موقع مِل جائے گا، مگر چند دن گزرے تو طبیعت بوجھل ہونے لگی۔ اِس دوران اُن کے بیوی بچے لان سے رنگا رنگ پھولوں کے گلدستے بنا کر لاتے اور میز پر رکھ دیتے  مگر پھر بھی طبیعت کی بشاشت نہ لوٹتی۔ جیسا کہ ہمارے شعری مجموعہ کے تعارف میں ڈاکٹر زیویئر نے لکھا: ”اِسی اثنا میں میرے کچھ طالب علم عیادت کے لیے آئے۔ کلاس روم میں پیشہ ورانہ تدریس کے باعث اکثر اساتذہ اپنے طلبہ کے اصل جوہر سے لاعلم رہتے ہیں۔ لیکن عیادت کے لیے آئے ہوئے اِن طالب علموں نے بڑی شدت سے مجھے اپنے ادبی وجود کا احساس دلایا اور اُن کی ہم جلیسی نے مجھے کچھ ایسے فروزاں اور مہکتے ہوئے لمحے عطا کیے کہ مَیں اپنی طبیعت کی ناسازی کو یکسر بھول گیا“۔ 

اِس سے آگے چند جملے اَور بھی تھے جنہیں پڑھ کر ہم تینوں کی شاعرانہ حیثیت کا تاثر مزید اجاگر ہو جاتا ہے۔ فرمایا: ”’مَیں یہ فروزاں لمحے آپ تک بھی پہنچانا چاہتا ہوں۔ میری یہی خواہش ’لوحِ سفال‘ کی شکل میں آپ تک پہنچی ہے۔ اِس آئینے میں آپ ہماری درس گاہ میں سر اٹھاتی شادابی بھی دیکھ سکتے ہیں، اور نئی نسل کے حسی تجربوں کی تلخی بھی چکھ سکتے ہیں۔ یہ کتاب ہمارے کالج کے اُن معترضین کو خاص طور پر ہمارا جواب ہے جو پوچھتے ہیں: ’کیا ناصرت سے کوئی اچھی چیز نکل سکتی ہے؟‘ (یوحنا +‘ ۱،  ۴۶) 

کتاب کا متن چھپ گیا تو اگلا مرحلہ دوطرفہ ٹائٹل کے لیے  فلیپ لکھوانے کا تھا۔ اِس غرض سے جن بزرگوں سے پیشگی رجوع کیا گیا اُن میں ڈاکٹر توصیف تبسم، ڈاکٹر رشید امجد اور قدرت اللہ شہاب تو تھے ہی۔ مگر یہی وہ مرحلہ ہے جب ہمارے ادب نواز پرنسپل خواجہ مسعود تینوں نوجوان شعرا کو اپنی تاریخی فوکسی میں بٹھا کر فیض احمد فیض کے پاس بھی لے گئے جو اُن دنوں اسلام آباد میں نیشنل کونسل آف آرٹس کے سربراہ تھے۔ کہانی کی اگلی قسط اِس سے کہِیں زیادہ دلچسپ ہے۔ (جاری ہے)

(نوٹ: یہ دوسری قسط ہی ہے۔ سابقہ پہلی تھی۔ سہواً دوسری لکھی گئی، احساس بعد میں ہوا)

مزید :

رائے -کالم -