پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون اٹل فلسطینی حمایت ہے،فلسطینی عوام کو اذیت اور غم کا سامنا کرنا پڑا:منیر اکرم 

پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون اٹل فلسطینی حمایت ہے،فلسطینی عوام کو ...
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون اٹل فلسطینی حمایت ہے،فلسطینی عوام کو اذیت اور غم کا سامنا کرنا پڑا:منیر اکرم 

  

 نیو یارک (آئی ا ین پی ) اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے کہا ہے کہ فلسطین کا سوال اقوام متحدہ میں حل طلب مسائل میں سے ایک ہے، فلسطینی عوام کی خودمختاری کے حصول اور اپنی خودمختار ریاست کے حصول کے لئے طویل اور بہادرانہ جدوجہد کو عالمی بین الاقوامی اتفاق رائے سے اس کی قانونی حیثیت میں جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے متعدد اعلانات سے تقویت ملی ، اس دن 1947 میں ، جنرل اسمبلی نے اپنی تاریخی قرار داد 181 منظور کی جس میں ایک فلسطینی ریاست کے قیام کے بنیادی پیرامیٹرز رکھے گئے ۔

فلسطینی عوام کے ساتھ عالمی یکجہتی کے دن کے موقع پر اپنے پیغام میں منیر اکرم نے کہا یہ انصاف کے منافی بات ہے کہ صرف یہودی ریاست وجود میں آئی اور فلسطینی عوام کو بے حد تکلیف ، اذیت اور غم کا سامنا کرنا پڑا، پاکستان ہمیشہ سے ہی فلسطینی عوام کا مضبوط حامی رہا ہے، فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرنا اور بین الاقوامی سطح پر متفقہ پیرامیٹرز یعنی 1967 سے پہلے کی سرحدوں اور القدس الشریف کو اپنا دارالحکومت بنانے کی حیثیت سے ، ایک قابل عمل ، متفق ، آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کی جلد تشکیل پانے پر زور دینا ہما ر ا صولی موقف ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہماری اٹل فلسطینی حمایت ہے، ہم دنیا پر یہ تاثر جاری رکھیں گے کہ فلسطینی عوام کے لئے قابل قبول بنیادوں پر   ایک فلسطینی ریاست کی تشکیل مشرق وسطی اور وسیع تر دنیا کے لئے امن کی واحد پائیدار ضمانت ہے۔

انہوں نے کہا ہر سال پاکستان لوگوں کی حق خودارادیت کے عالمی احساس سے متعلق جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں ایک قرار داد پیش کرتا ہے اس اور دیگر اقدامات کے ذریعے ہم ان مظلوم لوگوں کے لئے لڑنے کا عزم ظاہر کرتے ہیں جو اپنی آزادی کے حصول کے لئے جائز جدوجہد کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا عالمی دن بین الاقوامی برادری کو ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام سے اپنے عزم کی تجدید کرے اور ان کو ان کے حقوق کے حصول میں مدد کرے۔

مزید :

قومی -