نریندر مودی بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں مصروف ہیں،امریکی جریدہ نے بھارت کامصنوعی چہرہ بے نقاب کردیا

نریندر مودی بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں مصروف ہیں،امریکی جریدہ نے ...
نریندر مودی بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں مصروف ہیں،امریکی جریدہ نے بھارت کامصنوعی چہرہ بے نقاب کردیا

  

نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن)بین الاقوامی ہفتہ وار میگیزین اکانومسٹ نے بھارت کا مصنوعی چہر ہ بے نقاب کر دیا،امریکی جریدے اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ نریندر مودی بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں مصروف ہیں،مودی کے بھارت میں اداروں کے اختیارات کا توازن ختم ہو گیا، مودی کے دور میں آزادی اظہار پر بھی غاصبانہ قانون بنائے گئے،بھارتی وزرا ریاسی اداروں کے اختیارات استعمال کرنے لگے ہیں،بھارتی حکومت کے وزرانے متنازع بھارتی صحافی کی ضمانت منظو ر کرائی ،وزراکی متنازع صحافی ارنب گوسوامی کی ضمانت منظورکرانابدترین مثال ہے،ارنب گوسوامی کیس ہرگزآزادی اظہاررائے کی نمائندگی نہیں کرتا۔

اکانومسٹ نے اپنی رپورٹ میں مزید کہاہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ایک آمرانہ اور ظالمانہ مستقبل کی طرف گامزن ہے،من پسند لوگوں کی حکومتی پشت پناہی، مودی کے بھارت کا وطیرہ بن چکی ہے،بھارتی عدالتیں صرف حکومتی من پسند لوگوں کی پشت پناہی کرنے میں مصروف ہے،امریکی جریدہ کاکہناہے کہ بھارت میں 60ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں ،زیر التوا مقدمات میں اکثریت اقلیتی گروہوں کی ہے۔

ایک چوتھائی مقدمات میں بے گناہ لوگ ایک سال سے جیل کاٹ رہے ہیں،مودی نے کشمیر پر ظالمانہ حکمرانی مسلط کرکے ہزاروں بے گناہ کشمیریوں کو حراست میں لیا،جن کی سماعت بھارت کی عدالتیں بھول چکی ہیں،بھارتی متنازع قانون کے تحت سیاسی جماعتوں کو لامحدود عطیات ملنے کی جازت دی گئی،متنازع بل پاس کرانے کیلئے 2017میں مودی نے راجیا سبہا کے اختیارات کم کرائے،متنازع سی اے اے 2019کے خلاف 140سے زائد پٹیشنز کی سماعت التوا کا شکار ہیں،ماضی میں بھارتی عدلیہ اور اداروں نے ایک خود مختار اور شفاف رویہ اختیار کیا،موجودہ حکومت کے اقتدار میں عدلیہ بھارت کو یک جماعتی ریاست بنانے میں آلہ کار ثابت ہوئی۔

امریکی جریدہ کاکہناہے کہ بھارت قومیت کے نشے میں آمریت کی طرف رواں دواں ہے،دہلی پولیس نے حکومتی پشت پناہی میں سی اے اے کیخلاف مظاہروں کے دوران مسلمانوں پر ظلم کیے، ان تمام مظالم پر بھارتی عدلیہ خاموش تماشائی بنی رہی، متنازع قانون میں ترمیم کرکے مسلمانوں کو دہشت گردی کے الزام میں نشانہ بنایا گیا، مودی نے اپنے اقتدار کے دوران قومی اداروں کو سیاسی رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔

اکانومسٹ کاکہنا ہے کہ بی جے پی اور ہندوتوا کے پیروکاروں کو اعلیٰ حکومتی عہدوں سے نوازا جا رہا ہے،مودی کے دور اقتدار میں بھارتی فوج کو بھی سیاست میں گھسیٹا گیا،مودی نے الیکشن سے پہلے بھی فوج کا سہارا لیا ،مودی نے لداخ میں چین کے ساتھ تنازع کا بھرپور پروپیگنڈا کیا،مودی نے بھارتی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری کو متنازع بنایا،نریندرمودی نے الیکشن کمیشن کے فرض شناس افسران اور ان کے خاندان کو نشانہ بنایا۔

مزید :

بین الاقوامی -