ملتان جلسے کا خوف؟ حکومت نے اُس جماعت اسلامی کے کارکن گرفتار کرلیے جو پی ڈی ایم کا حصہ ہی نہیں

ملتان جلسے کا خوف؟ حکومت نے اُس جماعت اسلامی کے کارکن گرفتار کرلیے جو پی ڈی ...
ملتان جلسے کا خوف؟ حکومت نے اُس جماعت اسلامی کے کارکن گرفتار کرلیے جو پی ڈی ایم کا حصہ ہی نہیں
سورس:   Facebook

  

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پی ڈی ایم کے ملتان جلسے کا ’خوف‘ حکومت کے سر پر سوار ہوگیا، اس جماعت اسلامی کے کارکنوں کی گرفتاری شروع کردی جو پی ڈی ایم اتحاد کا حصہ ہی نہیں ہے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت ڈکٹیٹر بنی ہوئی ہے۔

جماعت اسلامی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف نے کارکنان کی گرفتاری پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ابھی سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ ‏بہاولنگر سے جماعت اسلامی کے کارکنان کو پی ڈی ایم کے جلسہ کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے حالانکہ جماعت اسلامی جلسے میں شریک ہی نہیں ہو رہی۔

انہوں نے کہا کہ ہم پی ڈی ایم اور جماعت اسلامی کے کارکنان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہیں، حکومت گرفتار افراد کی فوری رہائی عمل میں لائے، حکومت ڈکٹیٹر نہ بنے اور پی ڈی ایم کو ملتان میں جلسہ کرنے دے۔

قیصر شریف کا کہنا تھا کہ کورونا سے ڈرانے والی حکومت نے خود گلگت بلتستان میں 12 جلسے کئے، جلسہ ، جلوس کرنا اپوزیشن کا جمہوری حق ہے۔

خیال رہے کہ انتظامیہ کی جانب سے بہاولنگر سے جماعت اسلامی کے 4 کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے جن کی شناخت حاجی محمد حنیف، محمد طاہر باجوہ، محمد یونس ظفر اور محمد شکیل الرحمان کے ناموں سے ہوئی ہے۔ پولیس کی جانب سے محمد ارشاد نثار اور ریاض محمود کے گھروں پر چھاپے بھی مارے گئے تاہم گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ یہاں یہ بھی واضح رہے کہ جماعت اسلامی اپوزیشن کے اتحاد پی ڈی ایم کا حصہ نہیں ہے۔

مزید :

قومی -علاقائی -پنجاب -لاہور -