مریضوں میں سب سے زیادہ کون سی علامت سامنے آ رہی ہے؟’اومیکرون‘ دریافت کرنے والی ڈاکٹر نے بتادیا

مریضوں میں سب سے زیادہ کون سی علامت سامنے آ رہی ہے؟’اومیکرون‘ دریافت کرنے ...
مریضوں میں سب سے زیادہ کون سی علامت سامنے آ رہی ہے؟’اومیکرون‘ دریافت کرنے والی ڈاکٹر نے بتادیا

  

کیپ ٹاﺅن(مانیٹرنگ ڈیسک) کورونا وائرس کی ’اومیکرون‘ نامی نئی قسم جنوبی افریقہ میں پہلی بار دریافت ہوئی اور اب کئی دیگر ممالک میں بھی اس کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ ماہرین اس نئی قسم کو پہلی اقسام سے کئی گنا زیادہ خطرناک قرار دے رہے ہیں اور اس نئی قسم کے سبب دنیا ایک بار پھر کورونا وائرس کے خوف میں مبتلا نظر آتی ہے تاہم اس نئی قسم کو دریافت کرنے والے جنوبی افریقہ کے ڈاکٹروں میں سے ایک نے اس کے متعلق کچھ حوصلہ افزاءبات کہہ دی ہے۔ ایکسپریس ٹربیون کے مطابق اس ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ اومیکرون کے مریضوں میں علامات بہت مدھم ہوتی ہیں اور اس کا گھر پر ہی علاج کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس ڈاکٹر کا نام اینجیلک کوٹزی ہے۔ وہ ان ڈاکٹروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بتایا تھا کہ کئی مریضوں میں کورونا وائرس کی یکسر مختلف علامات ظاہر ہو رہی ہیں، جس کا مطلب ہے کہ وائرس کی ایک نئی قسم وجود پا چکی ہے۔ بعد ازاں ان کا خدشہ درست ثابت ہوا اور یہ نئی قسم اومیکرون کے نام سے سامنے آئی۔ ڈاکٹر اینجلیک نے کہا ہے کہ ان کے کلینک پر 18نومبر کو ایک مریض آیا تھا، جو شدید قسم کی تھکن اور بدن درد میں مبتلا تھا۔ اس کے سر میں بھی شدید درد تھا اور اس میں یہ علامات دو دن سے مسلسل موجود تھیں۔

پرائیویٹ پریکٹس کرنے والی ڈاکٹر اینجلیک کا کہنا تھا کہ اسی دن مزید کئی مریض بھی انہی علامات کے ساتھ کلینک پر آئے۔ تب ہمیں شک گزرا کہ یہ وائرس کی کوئی نئی قسم ہے جو اس تیزی کے ساتھ لوگوں میں سرایت کر رہی ہے۔ بہرحال ان مریضوں میں سے اکثر میں علامات انتہائی مدھم تھیں اور ان میں سے کسی ایک کو بھی اب تک ہسپتال میں داخل نہیں کیا گیا۔ہم نے ان کے ٹیسٹ کرکے گھر روانہ کر دیااور ان کا گھر پر ہی علاج کیا گیا۔ اومیکرون میں جو علامت سب سے زیادہ سامنے آ رہی ہے وہ شدید نوعیت کی تھکن ہے جو ایک سے دو دن تک رہتی ہے۔ اس کے ساتھ سر درد اور پورے جسم میں تکلیف رہتی ہے۔ 

مزید :

کورونا وائرس -