تاجر برادری کو درپیش مسائل حل کئے جائیں، تاجر برادری

تاجر برادری کو درپیش مسائل حل کئے جائیں، تاجر برادری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
  اسلام آباد(اے پی پی):تاجر برادری نے ٹیکسٹائل ا نڈسٹری کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے والی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو خام مال کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر ثاقب رفیق نے اے پی پی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ٹیکسٹائل ملک کا سب سے بڑا مینوفیکچرنگ سیکٹر ہے جس کا حصہ جی ڈی پی میں 8 فیصد اور برآمدات میں 60 فیصد ہے۔حالیہ عرصہ میں ٹیکسٹائل شعبہ کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جس کی وجہ سے انڈسٹری کو مسائل درپیش ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کو مسائل کے گرداب سے نکالا جائے۔دریں اثناتاجر رہنما اوراسلام آباد چیمبر کے سابق صدر شاہد رشید بٹ نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
جو خام مال کی عدم دستیابی توانائی کی قیمتوں لوڈشیڈنگ اور ٹیکس کے مسائل کے بوجھ تلے دب کر تباہ ہو رہا ہے۔ شرح مبادلہ میں اتار چڑھا ؤ اور ریفنڈز کی عدم ادائیگی بھی اس شعبے کو نقصان پہنچا رہی ہے۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ اس شعبے میں چالیس فیصد شہری مزدور کام کرتے ہیں لیکن اب تقریبا نصف فیکٹریاں مختلف مسائل کی وجہ سے بند ہو رہی ہیں۔ اس اہم شعبے کے لیے کپاس کی قلت بھی ایک مسئلہ ہے کیونکہ لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بہہ چکی ہیں۔اس شعبہ کے زوال کی دیگر وجوہات میں بلند افراط زر، بلند شرح سود، توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور صنعتی علاقوں میں بجلی اور قدرتی گیس دونوں کی لوڈ شیڈنگ شامل ہیں۔شاہد رشید بٹ نے کہا کہ مہنگائی، توانائی کے اخراجات اور قرضہ کی لاگت کی وجہ سے امریکہ، برطانیہ اور یورپ میں کپڑوں اور ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں کمی آئی ہے اورخریدار ادائیگیوں میں تاخیر کر رہے ہیں جس کی وجہ سے برآمد کنندگان پریشان ہیں۔پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابلے ٹیکسٹائل کی برآمدات میں 16.3 فیصد کمی ہوئی ہے اور اگر اس اہم شعبے کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کئے گئے تو یہ مزید کم ہو جائے گی۔ٹیکسٹائل مل مالکان کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل کی برآمدات پر 17 فیصد جی ایس ٹی کی موجودگی میں ایکسپورٹ انڈسٹری کا چلنا ناممکن ہے اس لیے ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

مزید :

کامرس -