بیرون ملک جائیدادوں پر ٹیکس کیخلاف درخواستیں، وکلاء سے دلائل طلب

بیرون ملک جائیدادوں پر ٹیکس کیخلاف درخواستیں، وکلاء سے دلائل طلب

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 
 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویزالٰہی  کے صاحبزادے مونس الہی سمیت متعدد شہریوں کی بیرون ملک جائیدادوں پر وفاقی ٹیکس کے خلاف درخواستوں کی سماعت29نومبر تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو مزید دلائل کے لئے طلب کرلیا دوران سماعت اسسٹنٹ اٹارنی جنرل شیراز ذکاء نے وفاقی حکومت کا جواب عدالت میں داخل کرادیا  جس میں کہاگیاکہ قانون کے مطابق وفاق ٹیکس وصولی کا اختیار رکھتا ہے جبکہ ایف بی آر کیوکیل احمد پرویز عدالت پیش ہوئے،آئین کے آرٹیکل 141کے تحت بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والے پاکستانیوں پرملکی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے، ایف بی آر نے ٹیکس ریٹرنز پر قوانین کے تحت ٹیکس عائد کیاہے،مونس الہی سمیت درجنوں شہریوں نے عدالت سے رجوع کررکھا ہے،درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجہ سمیت دیگروکلاء نیموقف اختیار کررکھاہے کہ غیرمنقولہ جائیدادوں پرٹیکس کانفاذ کرنا صرف وفاق کا اختیار ہے،بیرون ملک منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں پر ٹیکس عائد کرنا وفاق کا دائرہ اختیار نہیں،حکومت کو دوہرے ٹیکس عائد کرنے کا اختیار نہیں، بیرون ملک اثاثے ایمنسٹی سکیم کے تحت تحفظ یافتہ ہیں ان پر ٹیکس بھی عائد نہیں ہوسکتا، حکومت  کو اختیار نہیں کہ وہ ان پاکستانیوں سے پوچھ سکے کہ بیرون ملک پیسہ کیوں رکھا،حکومت صرف صوبہ میں مقیم پاکستانیوں سے اس بابت پوچھ سکتی ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے اثاثے اور جائیدادیں پاکستانی قوانین کی زد میں نہیں آتی،وفاقی حکومت بیرون ملک میں واقع جائیدادوں پر ٹیکس وصولی کا اختیار نہیں رکھتی،عدالت سے استدعاہے کہ ای پوٹل پر جرمانے کے بغیر ٹیکس ریٹرن جمع کرنے کا حکم دیاجائے، عدالت درخواستوں کے حتمی فیصلے تک ممکنہ تادیبی کاروائی سے روکنے بھی استدعاکی گئی ہے۔
دلائل طلب

مزید :

صفحہ آخر -