اہلِ سیاست اور صحافت احتیاط سے کام لیں 

اہلِ سیاست اور صحافت احتیاط سے کام لیں 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گلف نیوز کا انٹرویو دیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ فوج کوسیاست سے الگ کر کے اسے صرف آئینی ذمہ داری تک محدود کر دیا گیاہے،لیکن اِس فیصلے کو ایک طبقے کی طرف سے منفی رنگ دیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے انہیں ذاتی سطح پرتنقید کا سامنا کرنا پڑا (اس کے باوجود)یہ فیصلہ جمہوری اقدار کو دوبارہ زندہ اور مضبوط کرنے میں سہولت فراہم کرے گا۔ اُنہوں نے نوجوانوں کو تفرقہ انگیز پراپیگنڈے اور انفارمیشن وارفیئر سے محفوظ رہنے کی نصیحت بھی کی اور اسے معاشرے کو تقسیم کرنے اور باہمی اعتماد کو ختم کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قوم صرف اپنی دفاعی قوت کی وجہ سے محفوظ نہیں ہوتی۔ جنرل باجوہ  نے انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ اندرونی محاذ پر دہشت گردی کو ختم کیا، انتہاء پسندی کی لعنت اور دہشت گردی کی باقیات پر قابو پانے کے لئے بامعنی کوششیں جاری ہیں تاہم معاشرے میں سیاسی عدم برداشت کا نیا رجحان تشویشناک ہے۔ معاشرے کو ”روادار“ ہونا چاہئے جس میں سیاسی رجحان، عقیدے، نسل یا مسلک کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ ہو۔ معاشی محاذ کے بارے میں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ملک کا بڑا مسئلہ معاشی کمزوری ہے کیونکہ یہ انسانی سلامتی سے متعلق دیگر مسائل میں اضافہ کر دیتی ہے جن میں صحت، تعلیم، خوراک اور صاف پانی تک کی عدم رسائی شامل ہے۔ جنرل باجوہ نے فوج کو سیاست سے دور کرنے کے بارے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاک فوج کا قومی فیصلہ سازی میں ہمیشہ اہم کردار رہا ہے، ملکی سیاست میں اپنے تاریخی کردار کی وجہ سے فوج کو عوام اور سیاستدانوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے فوج کوغیر سیاسی بناتے ہوئے آئینی ذمہ داری تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اُنہوں نے اُمید ظاہر کی کہ بڑے پیمانے پر پراپیگنڈے، سوچے سمجھے جھوٹے بیانیے اور مسلح افواج پر بے جا تنقید کے باوجود غیر سیاسی رہنے کا ادارہ جاتی عزم ثابت قدم رہے گا، مسلح افواج کا ”سیاسی قرنطینہ“ طویل مدت میں پاکستان کے لیے سیاسی استحکام کو فروغ دے گا اور فوج سے عوام کے تعلقات کو مضبوط کریگا۔ اس فیصلے سے مستقبل میں فوج کے وقار کو بڑھانے میں مدد دے گا، انہوں نے تسلیم کیا کہ فوج کو سیاسی معاملات میں ملوث دیکھ کر فوج کے احترام اور اس پر اعتماد میں کمی آتی ہے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے ہر چوک اور چوراہے پر سیاست میں فوج کے کردار سے متعلق گفتگو کی جا رہی تھی، فوج نے تو اپنے آپ کو سیاست سے الگ کرنے کا عزم کر لیا تھا اور وقتاً فوقتاً اُس کی طرف سے اِس کا اظہار بھی ہو رہا تھا لیکن اس کے باوجود ایک سیاسی جماعت ایسی ہے جس کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ اِس کی جانب سے اسٹیبلشمنٹ کو دخل اندازی پر اُکسایا جاتا رہا، نیوٹرل رہنے کے اعلان پر پھبتیاں کسی گئیں، اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے روز ایک نیا بیانیہ بنایا گیا، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمیں چلائی گئیں۔ ملک کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی طرف سے فوج کے سیاسی کردار پر تنقید کرتے ہوئے اُسے سیاست سے دور رہنے کی تلقین کی جاتی رہی لیکن اِس مرتبہ فوج کے غیر سیاسی ہونے پر شور مچایا گیا اور اُس کو مختلف طریقوں سے للکارا گیا۔ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے سلسلے میں جو کچھ ہوا وہ بھی اپنی نظیر آپ  ہے۔ چند روز قبل آرمی چیف کے اثاثوں سے متعلق خبر سامنے آئی جس کے بعد سوشل میڈیا پر کہرام برپا ہو گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے اُس خبر کو جھوٹ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے اور کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے خلاف مذموم مہم حقائق کے منافی، کھلا جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی ہے، گمراہ کن اعداد و شمار مفروضوں کی بنیاد پر بڑھا چڑھا کر پیش کئے گئے ہیں۔ ایک خاص گروپ نے نہایت چالاکی و بد دیانتی کے ساتھ جنرل باجوہ کی بہو کے والد (سمدھی) اور فیملی کے اثاثوں کو آرمی چیف اور ان کے خاندان سے منسوب کر دیا۔ 
اِس ملک کے سوشل میڈیا وارئیررز نے عجیب روش اختیار کر لی ہے کہ جب چاہے، جو چاہے حقائق اپنی مرضی کے مطابق اپنی مرضی و منشاء کے مطابق توڑ مروڑ کر اپنے مذموم مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا دئیے جائیں، کسی کی بھی عزت خاک میں ملا دی جائے، بہتان اور الزام تراشی کا بازار گرم ہو اور مدعی چاہے پھرساری زندگی صفائیاں ہی دیتا رہ جائے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بہت سے ذمہ دار اور مہذب شہری بھی اسی ڈگر پر چل رہے ہیں جبکہ بعض اوقات صحافی حضرات بھی اِس پراپیگنڈہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ صحافتی اقدار کا تقاضہ تو یہ ہے کہ اگر کبھی کسی کے بارے میں کوئی بھی خبر پھیلانے سے پہلے اُس کی مکمل تحقیق کی جائے، مفروضوں کی بنیاد پر کسی پر بھی الزام لگا دینا اور بنا ثبوت کسی کو بھی مجرم ثابت کرنے پر تُل جانا کہاں کا انصاف ہے؟ بے بنیاد الزامات اور نعروں کی وجہ سے ہی ہمارے لوگ تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں، برادشت ختم ہوتی جا رہی ہے، ایک دوسرے کی بات سننے کی روایت دم توڑ رہی ہے۔ اہل سیاست اور صحافت دونوں پر لازم ہے کہ کسی پر الزام لگانے سے پہلے، سو مرتبہ سوچیں،  صحیح اور غلط کے درمیان فرق کریں ۔ جو دوسروں کی عزت کو داغ لگاتے ہیں وہ خود بھی بے داغ نہیں رہ پاتے۔

مزید :

رائے -اداریہ -