اقتصادی گراوٹ کا تسلسل

 اقتصادی گراوٹ کا تسلسل
 اقتصادی گراوٹ کا تسلسل

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اقصادی معاملات سے جان کاری رکھنے والے کسی بھی شخص سے پوچھیں کہ پاکستانی معیشت کا بنیادی مسلہئ کیا ہے تو وہ کہے گا کہ یہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ہے  اور یہ درست جواب ہوگا، ہماری معیشت میں دکھائی دینے والے یک لخت اتار چڑھاؤکی وجہ یہ ہے کہ ہم جب بھی اقتصادی شرح نمو بلند کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ جاتا ہے (یہ ایک الگ موضوع بحث ہے کہ ہماری غربت کی وجہ ہماری کم پیداواری سکت ہے)۔ 
کرنٹ اکاؤنٹ خسارے سے مراد زرمبادلہ کی بیرون ملک ترسیل (درآمدات وغیرہ کی مد میں) اور آمد(برآمدات اور محنت کش افراد کی بیرونی ممالک سے بھجوائی رقوم کی صورت) میں فرق ہے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسے اپنی زندگی کے 75 برسوں میں سے تین برسوں کے سوا ہمیشہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کاسامنا رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم بیرونی ممالک کے ہاتھ کم چیزیں فروخت کرتے جب کہ ان کی تیارکردہ مصنوعات زیادہ بڑی تعداد میں استعمال کرنے کا رجحان رکھتے ہیں۔ تاہم ایسا بندوبست ہمیشہ کے لیے برقرار نہیں رکھاجاسکتا۔ اور ہم اس مرحلے تک آن پہنچے ہیں جب یہ کسی صورت مزید جاری نہیں رہ سکتا۔ 1950 ء کی دہائی میں ایک وقت تھا جب پاکستان کی برآمدات جنوبی کوریا سے زیادہ تھیں۔ 1990 کی دہائی میں بھی ایک وقت تھا جب ہمار ا برآمدی حجم ویت نام سے زیادہ تھا۔ آج جنوبی کوریا اور ویت نام کی برآمدات پاکستانی برآمدات سے بالترتیب اٹھارہ اور چھے گنا زیادہ ہیں۔ اس لیے ہماری اقتصادی گراوٹ کی کہانی پرانی بھی ہے اور مسلسل بھی، لیکن رواں صدی کے آغاز سے گراوٹ کا سفر تیز تر ہوتا گیا۔ 


جب جنرل پرویز مشرف نے 1999  ء میں مارشل لا لگایا تو ہماری برآمدات جی ڈی پی کا 16  فیصد تھیں۔جب آخر کار جنرل صاحب نے رخصت سفر باندھاتو برآمدات جی ڈی پی کے 12   فیصد تک گر چکی تھیں۔ 2007-08 میں حکومت نے روپے کو مصنوعی سہارا دے کر ڈالر کے مقابلے میں 60 تک رکھا، اونچے داموں پٹرول خرید کر سستا بیچا، اور یوں ملک کو ہماری تاریخ کے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی کھائی میں دھکیل دیا (ہم اپنی پالیسی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے والے نہیں، بلکہ انھیں دہراتے رہنے کی تاریخ رکھتے ہیں)۔ جب پیپلز پارٹی کی نئی حکومت اقتدار میں آئی، اسے روپے کی قدر کم کرنا اور آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا اگرچہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے سوا اس کی گورننس کے توشہ خانے میں کچھ بھی قابل ذکر نہیں، لیکن اسے یہ کریڈٹ ضرور دینا پڑے گا کہ اس نے برآمدات بڑھا کر جی ڈی پی کے 13   فیصد تک پہنچا دیا۔ 


اس کے بعد آئی پاکستان مسلم لیگ ن کی باری۔ اگرچہ اس نے توانائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں کی تعمیر پر بہت کام کیا، سی پیک شروع کیا،لیکن اس دوران ہماری برآمدات  38 فیصد گراوٹ کے ساتھ جی ڈی پی کے محض 8.5 فیصد تک رہ گئیں،اور ہمیں اپنی تاریخ کے دوسرے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک مرتبہ پھر کرنسی کو ڈالر کے مقابلے میں سہارا دے کر گراوٹ سے روکا گیا۔ اس کی وجہ سے درآمدات پر بھاری سبسڈی دی گئی۔ اس کے باوجود ہماری برآمدات مہنگی ہوتی گئیں۔ 
جس دوران میں شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں وزیر خزانہ تھا، ہم نے ان پانچ ماہ کے دوران کرنسی کی قدر گراکر اس نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی لیکن مسلے کا حل آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تھا۔ اور اس کے لیے ضروری تھا کہ تازہ انتخابات کے بعد نئی حکومت اقتدار میں آئے۔ انتخابات کے بعد اقتدار سنبھالنے والی تحریک انصاف کی حکومت کچھ دیر تذبذب کاشکار رہنے کے بعد آخر کار آئی ایم ایف سے نیا پروگرام لینے پر تیار ہوگئی۔ 


عالمی وبا کرونا وائرس، جسے تحریک انصاف کی حکومت نے بخوبی ہینڈل کرلیا،کی وجہ سے آئی ایم ایف نے شرائط اٹھا لیں جب کہ قرض کی رقوم آتی رہیں۔ اس رعایت کی وجہ سے حکومت نے قرض کی رقم کو خرچ تو کرلیا لیکن ٹیکس کے حجم میں اضافہ نہ کرسکی۔ ناپائیدار شرح نمو نے ہماری درآمدات کا گراف یک لخت بڑھا دیا۔ اس دوران برآمدات جی ڈی پی کے مقابلے میں جمود کا شکار رہیں، اور ہم اپنی تاریخ کے تیسرے سب سے بڑے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا شکار ہوگئے  اگرچہ گزشتہ دسمبر میں تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کا پروگرام، جس کی اشد ضرورت تھی، دوبارہ شروع کرلیا تھا لیکن فروری میں اسے عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تحریک انصاف نے قومی مفاد کی بجائے اپنے سیاسی مفاد کو ترجیح دی اورآئی ایم ایف پروگرام سے قدم پیچھے ہٹالیا اور بجلی اور پٹرول پر بھاری سبسڈی دینے لگی، اس دوران بزنس کو ایک اور ایمنسٹی سکیم بھی دی گئی۔ یہ آئی ایم ایف پروگرام کی معطلی تھی جس نے ہمارے اقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے کے خطرے کی لکیر واضح کردی۔ 
 جب نئی حکومت آئی تو ہم نے آئی ایم ایف پروگرام کی تجدید کی۔ ڈیفالٹ سے بچنے کے لیے جو بن پڑتا تھا وہ کیا۔ اس میں واضح طور پر کچھ سخت اور مشکل فیصلے کرنا بھی شامل تھے جن کی وجہ سے مجھ پر ہر طرف سے مسلسل تنقید کی گئی۔ بنیادی تنقید ہماری مارکیٹوں کو روپے اور ڈالر کی قدر کا فیصلہ کرنے کی اجازت، ایندھن کے نرخوں اور ٹیکسوں میں اضافے کے حوالے سے تھیں۔


ہمیں خوشی ہوتی اگر ڈالر کی قدر میں کمی ہوتی، لیکن میں ڈالر کو ایک خاص شرح پر رکھنے کے لیے پیسہ خرچ کرنے یا انتظامی احکامات جاری کرنے کے حق میں نہیں تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ ڈالر کا بہترین ریٹ کیا ہے۔میرے خیال میں صرف مارکیٹ ہی اس کا تعین کر سکتی ہے۔ گزشتہ سال ہماری درآمدات 80 بلین ڈالر، جب کہ برآمدات صرف 31 بلین ڈالر تھیں۔ یقینا کسی بھی وزیر خزانہ کی اولین ترجیح یہ نہیں ہونی چاہیے کہ درآمدات کو سستا اور برآمدات کو مہنگا کردیا جائے۔ روپے کی قدر میں اضافے سے ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہم نے 2007-08  اور پھر 2017-18  میں یہ ”معرکہ“ مار کے دیکھ لیا تھا۔ خسارے کے سوا ہمارے ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ 1990ء کی دہائی میں مغربی ممالک کو چین سے یہی تو گلہ تھا کہ وہ اپنی کرنسی کی قدر گھٹا کر برآمدات میں اضافہ کررہا ہے۔ دوسری طرف ہم روپے کی قدر اونچی رکھ کردرآمدات بڑھانے اور برآمدات اور بیرونی دنیا سے آنے والی رقوم کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد پھر ہم یہ شکایت کرتے کہ اب ڈالر ختم ہوگئے ہیں۔ 
آج بھی کھلی مارکیٹ اور انٹر بنک ایکس چینج کے نرخوں میں بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسٹیٹ بنک بنکوں کو شرح مبادلہ پر غیر رسمی طور پر گائیڈ کررہا ہے۔ یہ وسیع فرق ہماری برآمدات اور بیرونی دنیا سے آنے والی رقوم کے حجم کو بھی نقصان پہنچاتا اور برآمدات کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ 


دوسری تنقید ایندھن کی قیمت میں اضافے اور نئے ٹیکسز کے نفاذ پر تھی۔ لیکن کیا ہماری حکومت کو پٹرول مسلسل نقصان میں فروخت کرنا چاہیے؟ مزید یہ کہ اگر پاکستان میں بائیس لاکھ دکانیں ہیں اور ان میں سے صرف تیس ہزار انکم ٹیکس ادا کرتی ہیں تو کیا ان سے یہ کہنا ناروا ہے کہ وہ ماہانہ صرف تین ہزار روپے ہی ادا کردیا کریں؟ 
آج ہمارا ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ایک بار پھر بڑھ کر خطرناک حد وں کو چھو رہا ہے۔اگر دسمبر کے بانڈز کی ادائیگی کردی جاتی ہے تو بھی یہ خطرہ نہیں ٹل جائے گا۔ جب خطرے کی گھنٹیا ں بجنا شروع ہوگئی ہیں تو مجھے کہنا پڑے گا کہ اب ہمارے پاس غلطی کی کوئی گنجائش نہیں بچی۔ ان ٹھوس اقدامات کی اشد ضرورت ہے جس سے مارکیٹ اور قرض فراہم کرنے والوں کا اعتماد بحال ہو۔ 
اگر سیاسی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دینے کا کوئی وقت ہوتا ہے تو وہ یہی وقت ہے۔ موجودہ حکومت کو تحریک انصاف یا کسی اور کو ہدف تنقید بنانے کا کوئی حق نہیں کہ اگر اس نے شوق سے اقتدار کی ذمہ داری اٹھائی تھی، لیکن ملک کے لیے درست اقدامات اٹھانے سے قاصر ہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -