خوابوں کے جھوٹے سوداگر 

 خوابوں کے جھوٹے سوداگر 
 خوابوں کے جھوٹے سوداگر 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 پاکستانی عوام کے خوابوں کی عمر بھی اتنی ہی ہے جتنی پاکستان کی ہے بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ ہے، کیونکہ جب تقسیم ہند کا عمل ابھی شروع نہیں ہوا تھا تو مسلمانوں نے ایک علیحدہ وطن کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے تھے۔ قائد اعظمؒ اور بانیان پاکستان کی رہنمائی میں وہ علامہ اقبالؒ کے اس خواب کی تعبیر کے منتظر تھے جو انہوں نے مسلمانوں کے لئے علیحدہ وطن کے حوالے سے دیکھا تھا پھر جب انہیں یہ نوید سنائی گئی کہ 1947ء میں 14 اگست کو آزادی کا خواب شرمندہئ تعبیر ہو گیا ہے تو وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر اس پاکستان میں آگئے، اس سفر میں انہیں لاکھوں جانیں بھی قربان کرنا پڑیں اور عصمتوں کو قربان گاہ پر علیحدہ چڑھایا گویا عوام کے خوابوں کی عمر پاکستان کی عمر سے زیادہ ہے وہ خواب جو قیام پاکستان کے وقت متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں نے دیکھا تھا، اتنا تو سچ ثابت ہوا کہ ایک علیحدہ خطہئ زمین پاکستان کے نام سے معرض وجود میں آ گیا مگر اس کے ساتھ جو امیدیں، توقعات اور خواب وابستہ تھے وہ نجانے کہاں راستے ہی میں گم ہو گئے۔ ان خوابوں کو یہ قوم آج تک تلاش کر رہی ہے اور 75 سال گزر جانے کے باوجود ان خوابوں کی تعبیر دور دور تک کہیں نظر نہیں آ رہی۔ یہ خواب کیا تھے؟ ایک خوشحال پاکستان کے خواب، ایک انصاف پرور اور مساوات کے حامل پاکستان کے خواب، طبقاتی اونچ نیچ اور غربت و امارت کے علیحدہ خانوں سے ماورا پاکستان کے خواب۔ یہ خواب تو آج تک پورے نہیں ہوئے کتنے ہی ادوار آئے اور چلے گئے۔ انصاف اور نا انصافی کے درمیان خلیج گہری ہوتی چلی گئی، ہاں دست اور زیر دست طبقات کا فرق بڑھتا چلا گیا۔ ایک طرف محدود طبقے کی خوشحالی اور دوسری طرف عوام کی بدحالی کے بدنما مناظر نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ ایک طرف قانون کی بے بسی اور دوسری طرف قانون کی منہ زوری قوم کا منہ چڑاتی رہی کہتے ہیں 79 سال بعد تو روڑی کی بھی سنی جاتی ہے، یہاں تو ترقی معکوس کا سفر جاری ہے اور بہتری کی بجائے ابتری کے آثار ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔


میں نے اپنی نصف صدی پہلے محیط شعور کی نگاہ سے کیسے کیسے مناظر نہیں دیکھے۔ عوام کی حکمرانی کے دعوؤں کا ایک ایسا طویل سلسلہ ہے کہ جسے یاد کر کے سوائے شرمندگی کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ یہ آج کی بات نہیں کہ عمران خان حقیقی آزادی کا نعرہ لگا رہے ہیں ایسے ملے جلے نعرے تو گزشتہ نصف صدی سے ہمیشہ ہی لگتے رہے ہیں۔ عوام کی حکمرانی کا ڈھنڈورا اگر نہ پیٹا جائے تو عوام میں حرکت بھی نہیں ہوتی، انہیں ایسے خواب ضرور دکھانے پڑتے ہیں جن میں سب کچھ ہرا ہی ہرا ہوتا ہے۔ ایک خوشحالی اور ترقی یافتہ پاکستان کو ترسے ہوئے عوام کے لئے ایسے نعروں میں بڑی کشش ہوتی ہے جن میں انہیں عوامی حکمرانی کے خواب دیکھائے جاتے ہیں۔ ذرا ماضی پر غور کیجئے آپ کو کوئی ایسا نعرہ کامیاب ہوتا نظر نہیں آئے گا جس میں عوام کو طاقت کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہو۔ انہیں حقوق دلوانے کا ذکر نہ ہو اور طبقاتی ظلم و جبر سے نجات دلانے کے خوشنما دعوے شامل نہ ہوں۔ مجھے یاد ہے ہم سکول میں پڑھتے تھے۔ جب ذوالفقار علی بھٹو کے عوامی نعروں نے ہمیں متاثر کیا اگرچہ اس وقت اتنا شعور نہیں تھا تاہم اس کے باوجود یوں لگتا تھا جیسے کوئی ہماری بات کر رہا ہے۔ بھٹو نے پہلی بار عوام کو یہ احساس دلایا تھا کہ طاقت کا سرچشمہ کوئی اور نہیں وہ خود ہیں یہ اتنی بڑی خوش فہمی کی بنیاد رکھی گئی کہ عوام سچ مچ میں خود کو طاقت کا سرچشمہ سمجھ بیٹھے، اس طاقت کے سرچشمے نے 1970ء کے انتخابات میں جو فیصلہ دیا اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک کر پاکستان کے دو لخت ہونے کی بنیاد رکھ دی گئی۔ آدھا پاکستان باقی بچا تو امید تھی کہ بھٹو اپنی حکومت کے ذریعے عوام کے حق میں فیصلے کریں گے۔ وہ اصلاحات نافذ کریں گے جو عوام کی طاقت کو عملی جامعہ پہنائیں۔ مگر ہوا یہ کہ بھٹو جیسے شخص پر بھی مصلحتیں غالب آ گئیں۔ عوام کو طاقت سمجھنے کی بجائے انہوں نے بھی اسٹیبلشمنٹ اور بالا دست اشرافیہ میں طاقت تلاش کرنے کی کوشش کی۔ یہ پہلا بڑا سیٹ بیک تھا جس کا عوامی طاقت کو سامنا کرنا پڑا جب بھٹو جیسا عوامی لیڈر بھی عوام کو خواب دکھا کر پیچھے ہٹ گیا تو پھر عوام کی رہی سہی امید بھی ختم ہو گئی۔


بھٹو کی ناکامی سے یہ ہوا کہ عوام کو بے وقوف بنانے کی ایک نئی روایت کا آغاز ہو گیا۔ فوجی آمروں نے بھی عوام کو حقوق دینے کا نعرہ لگایا اور ان آمروں کے خلاف جدوجہد کرنے والی سیاسی قوتیں بھی یہی نعرہ لگا کر عوام کو بے وقوف بناتی رہیں کوئی بھی سنجیدہ نہیں تھا کہ انہوں نے اس پاکستان کے لئے جدوجہد کرنی ہے جو قائد اعظمؒ کا پاکستان تھا اور جس کے لئے عوام قربانیاں دے کر نئی سرزمین پر آئے تھے۔ ہمارے سیاستدانوں کا طریقہئ واردات یہ رہا ہے کہ جب تک وہ اس نظام کا اقتدار میں حصہ ہوتے ہیں، انہیں کچھ یاد نہیں رہتا عوام یاد آتے ہیں اور نہ ان کے حقوق کا خیال آتا ہے۔ اقتدار سے باہر آتے ہیں تو انہیں عوام کی یاد بھی ستانے لگتی ہے اور یہ بھی یاد آ جاتا ہے کہ ملک ایک استحصالی نظام کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ آج عمران خان یہ کہتے ہیں کہ وہ اس کرپٹ نظام کا حصہ نہیں رہنا چاہتے حالانکہ یہی اسمبلیاں تھیں جن کے ذریعے وہ ساڑھے تین سال تک ملک پر حکمرانی کرتے رہے آج وہ حقیقی آزادی کی بات کرتے ہیں مگر اپنے دور اقتدار میں کوئی ایک ایسا قانون بھی نہیں بنا سکے جو ملک میں عدم مساوات کو ختم کرنے کے لئے زاد راہ ثابت ہو سکتا ہو۔ آج وہ اس بے بسی کا اظہار کرتے ہیں کہ اپنے دور میں بالا دست طبقوں کو قانون کے نیچے نہیں لا سکے مگر اس کی وضاحت نہیں کرتے کہ اس سلسلے میں اگر وہ مجبور تھے تو حکومت چھوڑ کر عوام کے پاس کیوں نہیں آئے اگر وہ ڈیڑھ سال مزید حکمرانی بھی کر لیتے تو عوام کے حصے میں پھر بھی کچھ نہیں آنا تھا کہ مجبوری تو انہیں تب بھی لاحق رہنی تھی۔


عوام کو یاد رہے کہ اسی قسم کی داستانِ غم محمد نوازشریف نے بھی سنائی تھی، جب انہیں وزارتِ عظمیٰ سے بے دخل کیا گیا تھا۔ وہ بھی یہی کہتے پائے گئے کہ ان کے پاس اختیارات نہیں تھے اور سارے اختیار اسٹیبلشمنٹ استعمال کر رہی تھی۔ وزارتِ عظمیٰ سے نکالے جانے کے بعد انہوں نے ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بھی لگایا۔ جو ایک طرح سے طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں کی ایک شکل تھی۔ سوال یہ ہے کہ جب سب منتخب لوگوں کی داستان ایک جیسی ہے اور مجبوریاں بھی سانجھی ہیں، تو پھر وہ اکٹھے کیوں نہیں ہو جاتے، کیوں صرف اقتدار کے لئے اپنا کندھا پیش کرتے ہیں جب ہر ایک مجبور جمہوریت کا لاشہ اٹھا کر انہیں چلنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نسبت آج اگر دیکھا جائے تو صورتحال خاصی روبہ زوال نظر آتی ہے۔ عوام کے حقوق کا نام تک لینا جرم بن گیا ہے اور کوئی ان کا پرسان حال نہیں سیاسی قوتیں بری طرح تقسیم ہو چکی ہیں اور جمہوریت کے نکتے پر بھی اکٹھی ہونے کو تیار نہیں۔ جب تک سیاسی قوتوں کی یہ تقسیم برقرار رہے گی عوام کے حقوق اور خوابوں کی باتیں رف ایک ڈھکوسلا ہی رہیں گی۔ 75 برسوں میں عوامی استحصال بڑھا ہے اور اشرافیہ نے پورے نظام پر پنجے گاڑے ہیں ایسا اس لئے ممکن ہوا کہ عوام کی بات کرنے والے سیاستدان بھی کسی نہ کسی شکل میں اس اشرافیہ کا حصہ ہی ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -