سموگ کا خطرہ،سروسز، جناح،جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی فوری فعال کرنیکا حکم

سموگ کا خطرہ،سروسز، جناح،جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی فوری فعال کرنیکا حکم

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس شاہد کریم نے سرکاری ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف دائردرخواست پر سموگ میں اضافہ کے خطرہ کے پیش نظر شہر کے بڑے 3ہسپتالوں کی ایمرجنسی کو فوری فعال کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے سروسز، جناح اور جنرل ہسپتال کی ایمرجنسی میں تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کے لئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی،عدالت نے سرکاری ہسپتالوں کے مانیٹرنگ کے لئے از سر نو کمیٹی تشکیل دینے اورایمرجنسی میں تعینات سینئرپروفیسرز کی ڈیوٹیوں کو یقینی بنانے کا حکم دینے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر کرنے کے لئے رولز اینڈ ریگولیشنز کے لئے تجاویز دینے کی ہدایت بھی کی ہے،عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ حکومت کی پالیسی تو ہے نہیں، پتہ نہیں آپ کو بھی رہنے دینا ہے یا تبدیل کردینا ہے، آپ حکومت کو چھوڑیں آپ کو فنڈز سمیت دیگر جو چیز چائیے عدالت کو بتائیں، ہم آرڈر کریں گے،قبل ازیں سماعت شروع ہوئی تو سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ احمد جاوید قاضی سمیت دیگر متعلقہ افسرعدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے،فاضل جج نے قراردیا کہ سرکاری ہسپتالوں میں جائیں تو وہاں کی ایمرجنسی کی حالت دیکھ کر شرمندگی ہوتی ہے، عدالت نے سیکرٹری سپشلائزڈ ہیلتھ احمدجاوید قاضی کومخاطب کرتے ہوئے استفسارکیا کہ آپ نے پبلک ہسپتالوں کی ایمرجنسی کا کب وزٹ کیا؟ جس پر انہوں نے کہا کہ گزشتہ ہفتے وزیر آباد، گوجرانوالہ اور گزشتہ روز سروسز ہسپتال کا وزٹ کیا، عدالت نے استفسارکیا آپ سروسز ہسپتال گئے ہیں تو آپ نے دیکھا ہے وہاں کیا حالت ہے؟وہاں مناسب سہولیات نہیں،سیکرٹری سپشلائزڈ ہیلتھ نے کہا میں عدالت کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں، عدالت نے کہا بتائیں ہسپتالوں کی بہتری کے لئے کیا ہوسکتا ہے؟سیکرٹری صحت نے کہا حکومت نے ہسپتالوں کے لئے فنڈز بھی جاری کیے ہیں، ڈاکٹرز کو ڈیوٹی کے حوالے سے ہدایات بھی دی ہیں، عدالت نے کہا بعض ہسپتالوں میں کھانے بھی دئیے جاتے ہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں اگر وہاں ادویات ہی میسر نہیں، ہسپتالوں کو تو کسی کی پرواہ ہی نہیں، ہم عدالتوں میں صبح نو بجے سے دوبجے تک کام کرتے ہیں، سیکرٹری سپشلائزڈ ہیلتھ نے کہا انشاء اللہ ہسپتالوں کی بہتری کے لئے مزید اقدمات کریں گے، فاضل جج نے کہا پوری دنیا میں ایمرجنسی ایک مختلف شعبہ ہے وہاں سپشلسٹ کے علاوہ کوئی اور ڈاکٹر مریض کو ہاتھ نہیں لگاتا، ہر ہسپتال میں چار پانچ سو بیڈز ہونے چاہئیں، اگر بیڈز نہیں ملنے تو پھرہسپتالوں کو بند کردیں، عدالت نے سیکرٹری صحت کوہدایت کی کہ آپ میڈیکل سپرنڈنٹس کے ساتھ اجلاس کرکے ہسپتالوں کی ضروریات بارے معلوم کریں،سموگ کی وجہ سے ہسپتالوں میں زیادہ مریض آئیں گے،  ایمرجنسی میں ایک ہفتہ کے اندر تمام سہولیات ہونے چائیں،ہسپتالوں کی مانیٹرنگ سسٹم بہتر اور وہاں بھی کیمرے فعال کئے جائیں،عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کرتے ہوئے عمل درآمد رپورٹ طلب کرلی ہے۔
لاہورہائیکورٹ

مزید :

صفحہ اول -