گورنر راج، اعتماد کا ووٹ، تحریک اعتماد یاکوئی اور آپشن، فیصلہ آج، پنجاب اسمبلی کی تحلیل روکنے کیلئے آخری حد تک جائینگے۔(ن) لیگ

  گورنر راج، اعتماد کا ووٹ، تحریک اعتماد یاکوئی اور آپشن، فیصلہ آج، پنجاب ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


       لاہور(جنرل پورٹر)وزیر اعظم کے مشیر عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پنجاب میں گورنر راج،تحریک عدم اعتماد،اعتماد کا ووٹ یا کوئی اور آپشن، اس حوالے سے آج فیصلہ پیپلز پارٹی سے مشاورت کے بعد کیا جائیگا۔ گزشتہ روز مسلم لیگ ن پنجاب کی کور کمیٹی کے اجلاس کے بعدماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطاء تارڑ نے مزید کہا کہ مسلم لیگ ن کے پارلیمانی مشاورتی گروپ کے اجلاس میں طے پایا آخر ی حد تک جائیں گے کہ اسمبلی نہ توڑی جائے،ہم نے پرامن طریقے سے جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کیلئے اپنا کردارادا کیا، ایک قرارداد پاس کی گئی پنجاب اسمبلی کی مدت کو تکمیل تک پہنچایا جائے گا،تحریک عدم اعتماد یا گورنر اعتماد کاووٹ لینے کیلئے وزیر اعلی کو کہیں اس پر بھی مشاورت ہوئی،انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا ایک پارلیمانی وفد آج بروز منگل پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں حمزہ شہباز اور دیگر ممبران و پارٹی رہنماؤں سے ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کرے گا، اس ملاقات میں پنجاب کی سیاسی صورتحال،پنجاب حکومت کیخلاف عدم اعتماد یا اعتماد کا ووٹ لینے کے حوالے سے باہمی مشاوت کی جائیگی اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ سوال رکھنا چاہتا ہوں کہ جولائی میں ریویو پٹیشن کا کیس دائر ہوا چار ماہ کے باوجود کیس پر کچھ نہیں ہوا،پچیس ووٹوں کی گنتی پر فیصلہ دیا جائے فی الفور مطالبہ ہے کہ سپریم کورٹ اس پر فیصلہ کرے،عدالت سپیکر کا کیس جس کا کوئی بھی رزلٹ نکلے اس کیس کو بھی فکس کرے،اعتماد یا عدم اعتماد میں ووٹ کا حق رہے گا جو ممبرز معطل ہوئے اس کا بھی فیصلہ کیاجائے،ان کا کہنا تھا کہ سیاسی و قانونی آپشن استعمال کی جائے اسمبلیاں نہ توڑی جائیں،پی ٹی آئی کے لوگ جو جمہوری ذہن رکھتے ہیں وہ بھی چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں نہ ٹوٹیں  اوروہ ہمارے رابطے میں ہیں، فی الحال کوئی مشاورت یاہمارا بیک ڈور پی ٹی آئی سے رابطہ نہیں ہے،گورنر راج کا آپشن ہے اس پر مشاورت ہوئی آصف علی زرداری نے حسن مرتضی کو بات چیت کیلئے منتخب کیا ہے،پرویز الٰہی بگڑا رئیس زادا کا خوب جواب دیں گے، عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی اور عمران خان کی ذاتی جاگیر نہیں ہے، کیونکہ عمران خان تمام مقاصد میں ناکام ہوا تو اسمبلی کو تہس نہس کر دیں بہت مشکل سے ملک کو ٹریک پر لایا گیا، پہلے آمر اب عمران خان آمر اسمبلیوں کو توڑنا چاہتا ہے ایک پارٹی عوامی مینڈیٹ کا فیصلہ نہیں کر سکتے،گزارش کرتی ہوں کہ مائی لارڈ حمزہ شہباز کا فیصلہ اسمبلی کے ٹوٹنے سے ہے،ہماری شنوائی نہیں ہو رہی 75 سالوں میں ایسا نہیں ہوا جو اسمبلی میں پی ٹی آئی کے لوگ سیٹیاں لوٹے لے کر آئے،پنجاب اسمبلی گجرات کی اسمبلی ہے کیا؟اسے پنجاب کے غنڈے چلائیں گے پندرہ دن پورے ہوگئے معطل لوگوں کو بحال کریں،ان کا کہنا تھا کہ جناب عالی پاکستان کی عوام نے مینڈیٹ دے کر ہمیں بھیجا اسے قتل کرنے اور اسمبلیاں توڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں،ہم بھی ایک سو اسی لوگ ہیں مینڈیٹ کو چوری اور شب خون مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے،عدالتوں کا احترام کرتے ہیں برائے مہربانی اس تاثر کو دور کرنا ہوگا کسی کو رات کو انصاف مل جاتا ہے،عمران خان اور پرویز الہی کو کہنا چاہتی اخروٹ بادام نہیں بلکہ نمائندہ اسمبلی ہے اس کو ایک شخص کو توڑنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔اعلیٰ عدلیہ سے درخواست ہے کہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے معاملے پر حمزہ شہباز کی نظر ثانی اور سپیکر کے انتخاب کے موقع پر خفیہ بیلٹ کی راز داری کے حوالے سے درخواستوں کو سماعت کے لئے فکس کیا جائے،بڑی مشکل سے پاکستان کو ٹریک پر لایا گیا ہے۔
(ن)لیگ

 لاہور(نمائندہ خصوصی)پنجاب میں پی ڈی ایم وزیراعلی کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک اور وزیراعلی کو اعتماد کاووٹ لینے کا کہنے کے معاملے پر آئینی و قانونی مشکلات میں پھنس گئی۔ذرائع کے مطابق پنجاب میں گزشتہ چار ماہ سے جاری صوبائی اسمبلی کے 42 اجلاس کے باعث عدم اعتماد کی تحریک پیش نہیں کی جا سکتی عدم اعتماد کی تحریک یش کرنے کیلئے اسمبلی کا جاری اجلاس ختم کرنا ضروری ہے رولز آف پروسیجر کے تحت اجلاس ختم کرنے کا اختیار صرف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس ہے۔ قومی اسمبلی ذرائع کے مطابق اعتماد کے ووٹ کیلئے جاری موجودہ سیشن کا خاتمہ ضروری ہے وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کا معاملہ بھی 41 وین سیشن کے خاتمے کے ساتھ ہی ختم ہو گیاوزیراعلی کے خلاف پیش کی جانے والی سابقہ عدم اعتماد کی تحریک 41 وین سیشن کے پارلیمانی بزنس کا حصہ تھی پنجاب اسمبلی کے رولز آف پروسیجر کے تحت پی ٹی آئی کا اتحاد مضبوط پوزیشن میں ہے۔
آئینی مشکلات

مزید :

صفحہ اول -