آرٹس فورم کا بائیکاٹ، آرٹس کونسل کا سالانہ اجلاس ناکامی سے دوچار ہو گیا

آرٹس فورم کا بائیکاٹ، آرٹس کونسل کا سالانہ اجلاس ناکامی سے دوچار ہو گیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


        کراچی (اسٹا ف رپورٹر) دی آرٹس فورم کی جانب سے آرٹس کونسل کراچی کے سالانہ اجلاس عام کے بائیکاٹ کے بعد گزشتہ روز ہونے والا اجلاس ممبران کی عدم شرکت کے باعث مکمل ناکامی کا شکار ہوگیا۔انتظامیہ کی جانب سے سالانہ اجلاس عام جیسی سنجیدہ سرگرمی میں میوزیکل کنسٹرٹ اور پرتکلف ضیافت کے انتظامات بھی ممبران کو اجلاس میں شرکت کے لیے مجبور نہ کرسکے۔8ہزار سے زائد ممبران میں صرف چند سو ارکان نے ہی سالانہ اجلاس عام میں شرکت کی۔تفصیلات کے مطابق آرٹس کونسل آف کراچی کا سالانہ اجلاس عام ممبران کی عدم دلچسپی کے باعث مکمل ناکامی کا شکار ہوگیا۔اجلاس سے قبل دی آرٹس فورم کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا تھا،جس پر ممبران کی بڑی تعداد نے اپویشن پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ دی آرٹس فورم کی جانب سے بائیکاٹ کے اعلان کے بعد آرٹس کونسل کی انتظامیہ نے فرداً فرداً ممبران سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے انہیں اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تھی جبکہ اجلاس میں میوزیکل کنسٹرٹ اور پرتکلف ضیافت کا اہتمام کرکے بھی ممبران کو مدعو کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ممبران کی اکثریت اجلاس سے غیر حاضر رہی اور صرف چند سو ممبران ہی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں شہر کی اہم شخصیات نے عدم دلچسپی کا اظہارکرکے موجودہ انتظامیہ پر عدم اعتماد کردیا ہے۔اپوزیشن کے نمائندے نہ موجود ہونے کی وجہ سے اجلاس میں کوئی جوش و خروش بھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ممبران نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ آرٹس کونسل میں جمہوری اقدار کا جنازہ نکل گیا ہے جس کی وجہ سے اجلاس عام ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔دوسری جانب سے دی آرٹس فورم کے  صدر نجم الدین شیخ،سیکرٹری مبشرمیر،کرنل(ر)مختار بٹ،  ڈاکٹر جاویدمنظر،زیڈ ایچ خرم، قندیل جعفری،نسیم شاہ ایڈوکیٹ،منظر نقوی،تحسیم الحق حقی،ڈاکٹرعین الرضا،نعیم طاہر،کشور عدیل جعفری،آفتاب عالم، اور دیگرنے صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سندھ اور کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا ہے کہ ممبران کی عدم دلچسپی کے اصل وجہ موجودہ انتظامیہ اور جعلی ممبر شپ ہے اس لیے آرٹس کونسل کے ممبران کی اسکروٹنی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔