سردیاں کڑا امتحان بن گئیں، سیلاب متاثرین حکومتی توجہ کے منتظر

سردیاں کڑا امتحان بن گئیں، سیلاب متاثرین حکومتی توجہ کے منتظر

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


کراچی (اسٹا ف رپورٹر)سندھ اور بلوچستان میں سیلاب آئے 5 ماہ ہوگئے تاہم حکومت کے ناکافی اقدامات نے متاثرین کی مشکلات بڑھا دی ہیں اور سردیاں ان کے لیے کڑا امتحان بن گئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق رواں سال جولائی میں ہونے والی طوفانی بارشوں سے ملک کا وسیع علاقہ سیلاب سے متاثر ہوا تاہم سب سے زیادہ صوبہ سندھ اس کا نشانہ بنا جہاں تین کروڑ سے زائد افراد کی زندگی تباہ وبرباد ہوگئی۔ ان کے گھر مویشی سیلاب میں بہہ گئے۔ سینکڑوں قیمتی جانیں ضائع، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ وبرباد ہوگئیں اور متاثرین بے بسی کی تصویر بنے سڑک کنارے آگئے اور اب تک بے سروسامان بیٹھے ہوئے ہیں۔سیلاب متاثرین نے موسم گرما جیسے تیسے سڑک کنارے گزار لیا لیکن اب سردیاں جو اپنی مکمل طور پر نہیں آئی ہیں ابھی سے ان کے لیے کڑا امتحان بن گئی ہیں کیونکہ کھلے آسمان تلے بیٹھے متاثرین جن میں خواتین، بچوں سمیت اس آفت کے بعد پیدا ہونے والے ہزاروں نومولود بھی ہیں کے پاس سردی سے نمٹنے کے لیے گرم کپڑے، لحاف، کمبل اور سرد ہوائیں روکنے کے لیے مناسب خیمے نہیں ہیں۔موسم سرما کے ساتھ ہی متاثرین سیلاب کو سردی سے متعلقہ نزلہ، زکام، بخار اور دیگر بیماریوں نے بھی اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا ہے لیکن ادویات کی قلت نے لاکھوں افراد کی صحت اور زندگی کو بھی داو پر لگا دیا ہے۔تکلیف دہ بات یہ ہے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے جو خیمہ بستیاں بنائی گئی تھیں وہ اب ختم کی جا رہی ہیں اور متاثرین کو واپس ان کے علاقوں کی جانب بھیجا جا رہا ہے جب کہ متاثرین کو حکومت کی جانب سے کھانے کی فراہمی بھی بند کردی گئی ہے انہیں چند این جی اوز کھانا فراہم کر رہی ہیں۔ صوبے کے 50 فیصد متاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی اتر چکا ہے تاہم اس وقت بھی سندھ کے علاقے دادو، میہڑ، خیرپور، تھری میرواہ سمیت دیگر ایسے کئی علاقے ہیں جہاں اب بھی 7 سے 8 فٹ تک پانی موجود ہے اور جن علاقوں سے پانی اتر بھی گیا ہے تو بغیر کسی انتظام کے وہاں جا کر کریں گے کیا؟ کیونکہ سیلاب ان کی تمام املاک اور گھروں کو بہا کر لے گیا تو کیا وہاں وہ سردیاں سیلی زمین پر کھلے آسمان تلے گزاریں گے؟