آئی ایم ایف کی جانب سے نویں جائزہ میں تاخیر،1.18بلین ڈالر کی قسط تاحال نہ مل سکی

آئی ایم ایف کی جانب سے نویں جائزہ میں تاخیر،1.18بلین ڈالر کی قسط تاحال نہ مل سکی
آئی ایم ایف کی جانب سے نویں جائزہ میں تاخیر،1.18بلین ڈالر کی قسط تاحال نہ مل سکی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان اور انٹرنیشنل  مانیٹری فنڈ کے درمیان قرض کے حصول کیلئے  ہونے والے 9ویں جائزہ اجلا س میں تاخیر کا سامنا ہے ، جس سے پاکستان کو تاحال 1.18بلین ڈالر کی قسط تاحال نہیں مل سکی ہے ۔

مقامی انگلش اخبار "ڈان نیوز "کے مطابق آئی ایم ایف پاکستان کی مالی پوزیشن کا تجزیہ کر رہا ہے، خاص طور پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور  اس سے ہونے والی تباہی  پر خرچ ہونے والی رقم سے قرض پروگرام کے میکرو اکنامک مفروضوں کو تبدیل کر دیا ہے۔

 رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ سے 9ویں جائزہ اجلاس میں تاخیر سے متعلق سوال کیا گیا، جس پر ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف سمجھتا ہے کہ سیلاب نے پاکستان کے  معاشی اعدادوشمار کو تبدیل کر دیا ہے، جن پر آئی ایم ایف نے پاکستان کا قرض پروگرام تشکیل دیا تھا، اس لیے ان کی ٹیم دوبارہ سے فراہم کردہ ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے تفصیلی تجزیہ کر رہی ہے۔

 واضح رہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے اس مہینے کے 9ویں جائزے کو حتمی شکل دینے کیلئے مصروف تھے تاکہ  1.18 بلین ڈالر کی اگلی قسط کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ سے منظور کیا جا سکے،  ایسا کرنے سے یورپین ممالک میں کرسمس اور نئے سال کی تعطیلات سے پہلے پاکستان کو یہ قرض مل جائے گا، ورنہ  یہ عمل 2023 تک منتقل ہو  جائے گا کیونکہ آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ  نئے سال کی چھٹیوں کے باعث جنوری کے پہلے ہفتے تک دستیاب نہیں ہوگا، رپورٹ کے مطابق وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیم 9ویں جائزے کی تکمیل کے لیے جلد ہی اسلام آباد کا دورہ کرے گی۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -بزنس -