اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ کوئی لاپتہ شخص عدالت پہنچ کر کہے کہ میں کارروائی نہیں کرانا چاہتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے طلبہ بازیابی کیس میں ریمارکس

اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ کوئی لاپتہ شخص عدالت پہنچ کر کہے کہ میں کارروائی ...
اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ کوئی لاپتہ شخص عدالت پہنچ کر کہے کہ میں کارروائی نہیں کرانا چاہتا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے طلبہ بازیابی کیس میں ریمارکس

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)اسلام آباد ہائیکورٹ نے طلبہ بازیابی کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ پیشی کی گئی رپورٹ سے لگتا ہے پاکستان میں کوئی قانون نہیں، اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ کوئی لاپتہ شخص عدالت پہنچ کر کہے کہ میں کارروائی نہیں کرانا چاہتا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں طلبہ بازیابی کیس کی سماعت ہوئی،جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر سماعت کی، نگران وزیرداخلہ اور سیکرٹری داخلہ عدالتی احکامات پر پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل پاکستان نے لاپتہ افراد سے متعلق نئی تفصیلات عدالت میں پیش کردیں،اٹارنی جنرل نے کہاکہ 22افراد گھروں کو پہنچ چکے، 28ابھی لاپتہ ہیں،28لاپتہ افراد کی تفصیلات موجود نہیں، شناختی کارڈ نمبر بھی نہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ پیشی کی گئی رپورٹ سے لگتا ہے پاکستان میں کوئی قانون نہیں،لاپتہ افراد میں کالج اور یونیورسٹی کے طلبہ ہیں، کیا وہ پاکستانی نہیں؟قانون موجود ہے، کسی نے کوئی خلاف قانون کام کیا ہے تو ٹرائل کریں،آپ یہاں کم وقت کیلئے ہیں، قانون کے مطابق کام کرنے کی ضرورت ہے،اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ کوئی لاپتہ شخص عدالت پہنچ کر کہے کہ میں کارروائی نہیں کرانا چاہتا۔