تحریک انصاف کی قبر پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی گئی تو ناپائیدار ہو گی ، نواز شریف کو وزیر اعظم بن کرکامیاب حکومت چلانی ہے تو ۔۔۔؟سہیل وڑائچ نے اہم سیاسی پیشگوئیاں کر دیں

تحریک انصاف کی قبر پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی گئی تو ناپائیدار ہو گی ، نواز ...
تحریک انصاف کی قبر پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی گئی تو ناپائیدار ہو گی ، نواز شریف کو وزیر اعظم بن کرکامیاب حکومت چلانی ہے تو ۔۔۔؟سہیل وڑائچ نے اہم سیاسی پیشگوئیاں کر دیں

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

لاہور ( خصوصی رپورٹ )  عمران خان اور انکی پارٹی کی پہاڑی غلطیوں کے باوجود پی ٹی آئی کی قبر پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی گئی تو وہ ناپائیدار ہو گی بالکل اسی طرح جیسے پیپلز پارٹی کو ضیاء الحق دور میں دفنا کر جونیجو حکومت لائی گئی کیا وہ چل سکی؟ عمران کو جیل بھیجنے ،حتیٰ کہ پھانسی چڑھانےسے اس کا ووٹ بینک ختم نہیں ہوگا ،تاریخ سے یہی سبق مل رہا ہے کہ عمران خان جیل میں رہ کر بھی پاپولر رہے گا۔ عمران خان کی مقبولیت اس دن ختم ہو گی جب اسے سیاسی شکست ہو گی نواز شریف کو وزیر اعظم بن کر اگر کامیاب حکومت چلانی اور سیاسی بحران سے نکلنا ہے تو انہیں عمران خان اور تحریک انصاف کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھانا چاہیے ۔ سینئر صحافی و تجزیہ کار  سہیل وڑائچ نے "جنگ " میں شائع ہونیوالے اپنے بلاگ  بعنوان "مصالحت یا محاذ آرائی: بہتر کیا؟"میں  سیاسی منظر نامے سے متعلق اہم پیش گوئیاں کر دیں ۔ 

اپنے بلاگ میں انہوں نے لکھا کہ میرا موقف ہے نواز شریف کو وزیر اعظم بن کر اگر کامیاب حکومت چلانی اور سیاسی بحران سے نکلنا ہے تو انہیں عمران خان اور تحریک انصاف کی طرف مفاہمت کا ہاتھ بڑھانا چاہیے ۔3 بار وزیر اعظم رہنے والا نواز شریف اس دفعہ مدبر سیاست دان STATESMAN کے روپ میں سامنے آئے۔ میرے سامنے فتح مکہ کی مثال ہے کہ جس میں بدترین مخالفوں اور مسلمانوں کے قاتلوں تک کو معاف کر دیا گیا میں سکندر کے پورس سے سلوک کو مثال بنانا چاہتا ہوں ۔ تضادستان کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کوئی تاریخ سے سبق نہیں سیکھتا ذوالفقار علی بھٹو کو جب مقتدرہ اور عدلیہ مل کر پھانسی چڑھا رہےتھے تو ’’مبلغین محاذ آرائی‘‘ کا خیال تھا کہ اس سے پیپلز پارٹی اور بھٹو خاندان ختم ہو جائے گا لیکن عملاً ہوا کیا؟ پچھلے15 سال سے سندھ میں اسی پارٹی کی حکومت ہے اور آج بھی شہید بھٹو اور شہید رانی کے نام پر ووٹ ملتے ہیں اسی مقتدرہ کو بھٹو کی پھانسی کے بعد3 دفعہ وفاق میں بھٹو کی پارٹی کو حکومت دینی پڑی ہے ثابت یہ ہوا کہ عمران کو جیل بھیجنے ،حتیٰ کہ پھانسی چڑھانےسے اس کا ووٹ بینک ختم نہیں ہوگا اور تو اور نواز شریف کی مثال لے لیں نواز شریف کو مقتدرہ نے 3بار اقتدار سے نکالا ہر دفعہ اس کا ووٹ بینک پہلے سے بڑھا اور ہر بار مقتدرہ کو اس سے صلح کرکے دوبارہ لانا پڑا تاریخ سے یہی سبق مل رہا ہے کہ عمران خان جیل میں رہ کر بھی پاپولر رہے گا۔ عمران خان کی مقبولیت اس دن ختم ہو گی جب اسے سیاسی شکست ہو گی۔ یاد رکھیں کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں تب ختم ہوئی جب گیلانی زرداری حکومت اپنے 5سالہ دور میں اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی۔ عمران خان کے حامیوں کا خیال ہے کہ خان کو مزید موقع ملتا تو وہ سب کچھ بدل دیتا بس اسی آس اور امید پر ان کا ووٹ بینک اب بھی برقرار ہے ۔

اپنے بلاگ میں سہیل وڑائچ نے مزید لکھا کہ  محاذ آرائی سے نہ معیشت بہتر ہو گی نہ حکومت چلائی جاسکے گی۔ مجھے نواز شریف صاحب نے بتایا تھا کہ انکی آخری وزارت عظمیٰ کے دوران ایک دن آرمی چیف جنرل راحیل شریف فائلیں لیکر آئے اور کہا ان فائلوں میں آصف زرداری کے خلاف ثبوت ہیں آپ ان کے خلاف فوراً احتساب شروع کریں ۔بقول میاں نواز شریف اس پر انہوں نے جواب دیا کہ ابھی تو ملکی معیشت نے چلنا شروع کیا ہے اگر ہم نے یہ شروع کر دیا تو ملکی معیشت پر برے اثرات پڑیں گے۔ گویا  نواز شریف سمجھتے ہیں کہ سیاسی مخالفوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے سے صرف سیاسی بحران ہی پیدا نہیں ہوتا اس کا ملکی معیشت پر بھی برا اثر پڑتا ہے ۔

میاں صاحب وزیر اعظم بننے کے بعد کا جو بھی نقشہ بنا رہے ہیں اس میں صلح جوئی اور مفاہمت کو اہم ترین نکتہ ہونا چاہیے میری پہلے بھی رائے تھی اور آج بھی ہے کہ جس طرح میاں صاحب نے جنرل راحیل شریف کو سمجھایا تھا وہ موجودہ مقتدرہ کو بھی سمجھائیں کہ سیاسی بحران اور معاشی بحران تب ہی حل ہونگے جب مفاہمت کا دور چلے گا۔

بلاگ کے آخر میں سہیل وڑائچ نے لکھا کہ محاذ آرائی کے وکیلوں کو جان لینا چاہئے کہ عمران خان اور انکی پارٹی کی پہاڑی غلطیوں کے باوجود پی ٹی آئی کی قبر پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی گئی تو وہ ناپائیدار ہو گی بالکل اسی طرح جیسے پیپلز پارٹی کو ضیاء الحق دور میں دفنا کر جونیجو حکومت لائی گئی کیا وہ چل سکی؟ یا پھر نواز شریف کو نااہل کرکے اور جیل بھیج کر( ن) لیگ کی قبر کھود کر خان صاحب کو اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا گیا کیا وہ چل سکے؟ اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان اکیلا نہیں ہے اس کے ساتھ لاکھوں کروڑوں ووٹرز ہیں اگر انہیں آزادانہ انتخابات میں مساوی مواقع نہ ملے اور(ن) لیگ یکطرفہ فتح حاصل کرکے اقتدار میں آ گئی تو کیا وہ حکومت چل سکے گی؟ میری ناقص اور عاجزانہ رائے میں (ن )کا پارٹی مفاد مقتدرہ کی ہاں میں ہاں ملانا ہے حالانکہ انہیں چاہئے کہ جو کچھ ماضی کی مقتدرہ نے( ن) لیگ اور اسکی قیادت کےساتھ کیا اس سے سبق سیکھیں اور تحریک انصاف اور اسکے کارکنوں کو انصاف دلانے کے لئے آواز بلند کریں مگر ان کا رویہ یہ ہے کہ ہم تو اس میں فریق ہی نہیں ہیں ۔پاکستان کا ہر شہری سیاست میں شریک اور فریق ہے اگر ایک ووٹر یا ایک پارٹی کے ساتھ زیادتی ہوتی ہےتو یہ سب کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ 75سال کے تجربے کے بعد اب ہمیں بالغ ہو جانا چاہیے اور ایک دوسرے پر محاذ آرائی کی تلواریں چلانے کی بجائے قومی مفاہمت کا راگ الاپنا چاہیے خان صاحب کوبھی لڑائی ترک کرکے ڈائیلاگ کی طرف آنا چاہئے ۔اگر پولیٹکل کلاس نے مفاہمت نہ کی تو یاد رکھیے گا کہ پھر سیاستدانوں کی داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں....