تحریک انصاف کے دونوں ادوار خیبر پختونخوا کے لیے بدترین ثابت, 2 پروجیکٹ بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی کرپشن کے ہمالیہ ثابت ہوئے: سلیم صافی نے اہم اعدادوشمار شیئر کر دیئے

تحریک انصاف کے دونوں ادوار خیبر پختونخوا کے لیے بدترین ثابت, 2 پروجیکٹ بی آر ...
تحریک انصاف کے دونوں ادوار خیبر پختونخوا کے لیے بدترین ثابت, 2 پروجیکٹ بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی کرپشن کے ہمالیہ ثابت ہوئے: سلیم صافی نے اہم اعدادوشمار شیئر کر دیئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد ( خصوصی رپورٹ ) پی ٹی آئی  کے دونوں ادوار خیبر پختونخوا کے لیے بدترین  ثابت ہوئے,صرف 2 بڑے پروجیکٹ یعنی بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی سامنے آئے جو دراصل کرپشن کے ہمالیہ ثابت ہوئے۔ ان کے سوا صوبے میں کوئی بڑا پروجیکٹ شروع نہیں ہوا.سینئر صحافی و تجزیہ کار  سلیم صافی نے اہم اعدادوشمار شیئر کر دیئے ۔

"جنگ " میں شائع ہونیوالے اپنے بلاگ بعنوان "پی ٹی آئی اور پختونخوا میں سلیم صافی نے لکھا  کہ کیا خیبر پختونخوا میں الیکٹیبلز اپنی مرضی سے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے تھے اور باقی ملک میں انہیں جبراً شامل کردیا گیا تھا جو دیگر صوبوں کے برعکس پی ٹی آئی پختونخوا میں مختلف طریقوں سے اپنے وجود کا احساس دلارہی ہے ؟۔ نہیں ہر گز نہیں۔ پختونخوا میں بھی الیکٹیبلز کو اسی طرح بلیک میل کرکے اور لالچ دے کر پی ٹی آئی میں شمولیت بالجبر پر آمادہ کیا گیاتھا جس طرح کہ باقی ملک میں کیا گیا تھا۔ تو کیا خیبر پختونخوا کے لوگ عمران خان کو پختون سمجھتے ہیں اور اسی لئے ان سے جڑے رہنا ضروری سمجھتے ہیں ۔ نہیں ہر گز نہیں ۔ یہ فیکٹر ہوتا تو 1997ء، 2002ء یا 2008ء کے انتخابات میں بھی وہاں کے لوگ عمران خان کا ساتھ دیتے۔ تب عمران خان زیادہ پاپولر اور غیرمتنازعہ تھے ۔ ان کے بڑے بڑے سکینڈلز آئے تھے اور نہ لوگوں کو یہ علم ہوا تھا کہ اقتدار ملنے کے بعد عثمان بزدار اور زلفی بخاری ان کی سلیکشن ہوں گے ۔توکیا پی ٹی آئی نے اپنے دونوں ادوار میں خیبر پختونخوا میں بڑے انقلابی اور غیرمعمولی ترقیاتی کام کئے ہیں؟ نہیں ہر گز نہیں۔ پی ٹی آئی کے دونوں ادوار اور بالخصوص دوسرا مالی اور انتظامی حوالوں سے تاریخ کے بدترین ادوار ثابت ہوئے۔صرف 2 بڑے پروجیکٹ یعنی بی آر ٹی اور بلین ٹری سونامی سامنے آئے جو دراصل کرپشن کے ہمالیہ ثابت ہوئے۔ ان کے سوا صوبے میں کوئی بڑا پروجیکٹ شروع نہیں ہوا۔ یونیورسٹیاں تباہ کردی گئیں۔ ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کی حالت ابتر ہے۔ جتنا قرضہ قیام پاکستان سے لے کر 2013تک صوبے نے لیا تھا، وہ پی ٹی آئی کے 10 سالوں میں ڈبل ہوگیا لیکن نہ جانے وہ رقم کہاں گئی۔ فاٹا کی آبادی شامل ہوجانے کے بعد وفاقی محاصل میں صوبے کا حصہ19 فی صد تک جانا چاہئے تھا لیکن اسے پی ٹی آئی حکومت میں سابقہ 15 فی صد پر منجمد رکھا گیا ۔ این ایف سی کا اجلاس نہیں بلایا گیا اور ضم شدہ اضلاع کے لئے این ایف سی ایوارڈ کے3 فی صد (جو تقریبا سوا ارب روپے بنتے تھے) ایک سال بھی ادا نہیں کئے گئے ۔

اپنے بلاگ میں سلیم صافی نے مزید لکھا کہ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ 5سال گزرنے کے باوجود وہاں پولیس کے تھانے تک نہیں۔کئی قبائلی اضلاع میں تو جج اور ایس پی کے بیٹھنے کے لئے بھی موزوں جگہ نہیں۔ یوں فاٹا مرجر جسے لوگ غنیمت سمجھ رہے تھے، کو الٹامصیبت بنا دیا۔ کیا خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی دوسری اور تیسری درجے کی لیڈر شپ عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے؟ نہیں ہر گز نہیں ۔ پرویز خٹک بغاوت کرکے اپنی پارٹی بناچکے ہیں ۔ وزیراعلیٰ محمود خان پرویز خٹک کے ساتھ جاچکے ۔ سابق گورنر شاہ فرمان پہلے سے عمران خان کے بیانئے کے حامی نہیں تھے ۔ عمران خان کے چیف آف سٹاف شبلی فراز غائب ہیں اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ غائب بھی سکرپٹ کے مطابق ہیں ۔ پختونخوا میں بھی پی ٹی آئی کے جو رہنما غائب یا جیل میں نہیں ، وہ کسی نہ کسی چینل سے رابطے میں ہیں ۔ بلکہ جو چند ایک عمران خان کے شیر دکھنے کی کوشش کررہے ہیں ، وہ بھی درپردہ طاقتور حلقوں کی مخبری کررہے ہیں ۔پختونخوا ہماری اسٹیبلشمنٹ کے لئے لیبارٹری کی حیثیت رکھتاہے جو بھی نیا تجربہ کرنا ہو اسے پہلے وہاں کیا جاتا ہے ۔ عمرانی پروجیکٹ کے لئے باقی ملک کو 2018میں تجربہ گاہ بنایا گیا لیکن خیبر پختونخوا کو پانچ سال قبل ٹیسٹ کے طور پر 2013میں تجربہ گاہ بنایا گیا ، اس لئے وہاں پر نسبتا لوگوں کے پی ٹی آئی سے مفادات زیادہ وابستہ ہوگئے تھے اور بیوروکریسی میں بھی ان کا اثر اسی طرح گہرا ہو چکا جس طرح کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا ہے یا سندھ میں پیپلز پارٹی کا ہے۔

اپنے بلاگ کے آخر میں سلیم صافی نے لکھا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی بقاء کی ایک اور وجہ وہاں پر دیگر سیاسی جماعتوں کی عدم دلچسپی یا ابتر صورت حال ہے ۔ یہاں آج کل پی ٹی آئی کے سامنے کوئی متبادل قوت تھی اور نہ آج ہے ۔ شریف برادران نے ماضی میں پختونخوا کو توجہ دی اور نہ اب دے رہے ہیں ۔ ان کی توجہ کا مرکز پنجاب ہے۔ زرداری نے بھی سندھ کی خاطر پختونخوا سے عملاً پارٹی کا جنازہ نکال دیا ہے ۔ جے یو آئی نے ایک سال کی ماردھاڑ سے 5سال قربان کردئیے۔ اے این پی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں اور تنظیم بڑی محنت بھی کررہی ہے لیکن ایمل ولی خان کی پالیسیوں کا کوئی رخ معلوم نہیں  ۔ پی ٹی آئی کو سب سے زیادہ فائدہ اس بات کا پہنچ رہا ہے کہ پیپلز پارٹی، (ن) لیگ، پرویز خٹک ، اے این پی اور وزارت اعلیٰ اور لاڈلا بننے کی خواہش میں آپس میں لڑپڑے ہیں۔ مثلاً اگر جے یو آئی اوراے این پی کے رہنماؤں کی تقریریں سنی جائیں تو ان کا نشانہ پی ٹی آئی نہیں بلکہ پرویز خٹک ہوتے ہیں ۔ پیپلز پارٹی کا نشانہ پی ٹی آئی سے زیادہ مسلم لیگ(ن) ہے۔ مسلم لیگ(ن) کی طرف سے امیرمقام اپنے تئیں محنت کررہے ہیں لیکن میاں صاحب کو مری کی سیر سے فرصت نہیں۔ اب آپ اندازہ لگالیجئے کہ پی ٹی آئی کو اس سے بہتر سازگار ماحول اور کہاں مل سکتا ہے جو یہاں اسے ملا ہوا ہے۔