کچھ عورتیں صبح کی تازگی کی مانند ہوتی ہیں، تازہ اور معطر۔ گو آج کل کم ہی نظر آتی ہیں اور جو ہیں کسی انعام سے کم نہیں،نین بھی ایسی ہی عورت ہے

 کچھ عورتیں صبح کی تازگی کی مانند ہوتی ہیں، تازہ اور معطر۔ گو آج کل کم ہی نظر ...
 کچھ عورتیں صبح کی تازگی کی مانند ہوتی ہیں، تازہ اور معطر۔ گو آج کل کم ہی نظر آتی ہیں اور جو ہیں کسی انعام سے کم نہیں،نین بھی ایسی ہی عورت ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:شہزاد احمد حمید
 قسط:202
 صبح اٹھا تو فجر کی نرم روشنی ہر طرف پھیلنے لگی ہے۔ سورج نے اپنی کرنوں کو روئے زمین پر بکھیر نا شروع کر دیا ہے۔ تمام چرند پرند اور جاندار رات کی گود میں آرام کی نیند سونے کے بعد جاگ رہے ہیں۔ میری نظر نین کے چہرے پر پڑی جو ابھی بھی پرسکون گہری نیند سوئی ہے۔ میں خود سے ہی بولا؛”کچھ عورتیں صبح کی تازگی کی مانند ہوتی ہیں، تازہ اور معطر۔ گو آج کل کم ہی نظر آتی ہیں اور جو ہیں کسی انعام سے کم نہیں۔ نین بھی ایسی ہی عورت ہے۔ صبح کی تازگی اور خوشبو لئے۔ اس کا حسن راحت چشم ہے اور ساتھ راحت قلب ہے۔“ 
”آج کئی ہزار سال گزرنے کے بعد پاکستان اور بھارت دونوں کو ہی سندھو کے پانی میں کمی کا گلہ ہے۔ پانی کا یہ قدرتی ذخیرہ کتنی تیزی سے کم ہو رہا ہے کوئی بھی درست اندازہ لگا نے میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔اگر پاکستان میں سندھ اور پنجاب واسی تمھارے دوست سندھو کے پانی پر تحفظات رکھتے ہیں تو کچھ ایسے ہی جذبات بھارتی پنجاب اور ہریانہ والے دریائے راوی کے پانی کے حوالے سے بھی رکھتے ہیں۔پانی کے حوالے سے آنے والے وقت میں تمھارے ملکوں پر کتنا کڑا وقت آنے والا ہے اس کا اندازہ تمھیں نہیں ہے۔بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کشمیر پر کنٹرول کی پاک بھارت کوششیں دراصل ان دریاؤں کے پانی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش ہی ہے اور شاید یہ غلط بھی نہیں ہے۔“
سندھو خاموش ہوا تو باس نے جون ایلیا کا ایک لطیفہ سنا یاسبھی بھی بہت محظوظ ہوئے ہیں۔ اس لطیفے نے سنا ماحول کو سنجیدہ گفتگو سے ہنسی میں بدل دیا ہے۔ لطیفہ کچھ یوں ہے؛”مجھ میں اور میری بیوی میں ایک بڑا عجیب اتفاق ہے نیند کی گولی وہ کھاتی ہے اور سکون مجھے ملتا ہے۔“واہ کیا گہری بات ہے۔ نین کی ہنسی میں غصہ بھی ہے۔ویسے جون الیا عجب شخصیت اور کمال شاعر تھے۔ ایک جگہ فرماتے ہیں؛
دھوکے ایسے ہی نہیں ملتے 
بھلا کرنا پڑتا ہے لوگوں کا
 واہ واہ باس، عمدہ، بہت اعلیٰ۔حقیقت کی نشاندہی کتنی سادہ مگر گہری بات سے کی ہے۔
سسکتا دریا
”مصر،دریائے نیل اور پاکستان سندھو کی بخشش ہیں۔“
  ہیروڈوس
سندھو کے گرد بسنے والے لوگ اسے عظیم دریا مانتے ہیں۔اس کے غضب سے خوف زدہ اور اس کی پرسکونیت کے متمنی رہے ہیں۔ اپنے آغاز سے ڈیلٹا تک سندھو مکمل تہذیب، ثقافت اور رسم ورواج کو پروان چڑھاتا انڈس ویلی تہذیب کا امین ہے۔ دنیا کا شاید واحد دریا ہے جس کے نام پر تہذیب پروان چڑ ھی اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ہو گا کہ دنیا کی سب سے قدیم تہذیب(مہر گڑھ) بھی اسی کے کنارے پلی بڑھی۔ پرانے دور میں بھی یہ لوگوں، بستیوں، قصبوں کا امین تھا آج بھی اس کے کناروں پر کچھ زیادہ نہیں بدلا ہے۔ اُس دور میں بھی لاکھوں لوگوں کا روزگار اس سے وابستہ تھا تو آج بھی ایسا ہی ہے۔ ہاں اگر کچھ تبدیل ہوا ہے تواس کے کناروں پر رونق کچھ کم ہو گئی ہے۔ پہلے گھاٹ تھے جہاں لوگ آزادی سے نہاتے،مستورات کپڑے دھوتی اور لوگ سندھو کے آر پار آیا جایا کرتے تھے۔ اب گھاٹ قریباً قریباً اجڑ گئے ہیں۔اس کے کنارے نہانے کپڑے دھونے اور باتیں سننے اور سنانے کا دور شاید بھی گزر گیا ہے۔ سندھو کی روانی بھی کمزور ہو گئی ہے۔ ہزاروں کلو میٹر میں پھیلا اس کا ڈیلٹا بھی سکڑ کے ننھا سا رہ گیا ہے۔ پانی گدلا ہو گیا ہے اور اس کی مقدار کم ہو گئی ہے۔ اس کے پیٹ میں زندگی بھی سکڑ گئی ہے۔ اس کی محبوب اور مخصوص بلائینڈ ڈولفن بھی کم ہو گئی ہے۔ اس کے پانیوں پر آبی مہمان پرندے بھی کم اترنے لگے ہیں۔وقت اور تغیر زمانے نے شاید اس کو بھی بوڑھا کر دیا ہے۔ ڈیلٹا کے قریب کا رہائشی”کرم د ین (کرمو)“جوخود بھی عمر کی دسویں دھائی دیکھ رہا ہے بتاتا ہے؛”کبھی یہ شیروں کی طرح سمندر میں اترتا تھا اب سو میل اپ سٹریم دیکھو اس کی روانی کتنی کمزور ہو گئی ہے لگتا ہے رینگ رہا ہو۔ بیٹا! یہ بھی میری طرح بوڑھا ہو گیا ہے۔میرے چہرے کی طرح اس پر بھی جھریاں اترآئی ہیں۔ تم  ڈیلٹا دیکھو کتنا خشک ہے۔بیٹا! شاید یہ ہم سب سے ناراض ہو گیا ہے۔ ہم سب نے مل کر اسے بوڑھا اور کمزور کر دیاہے۔“ کرمو بابا سچ ہی کہتا ہے۔میں نے مڑ کر سندھو کو دیکھا  اس کی ہلکی سے لہر کرمو بابا کی بات کی تصدیق کر رہی ہو جیسے۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -