فلم سٹار وحید مراد مرحوم کی شادی ہوئی ہم کالج کے یونیفارم میں تھے، اپنی ٹائیاں اور کتابیں لیبارٹری میں چھپا دیں اور کھانا کھانے شامیانوں میں گھس گئے

 فلم سٹار وحید مراد مرحوم کی شادی ہوئی ہم کالج کے یونیفارم میں تھے، اپنی ...
 فلم سٹار وحید مراد مرحوم کی شادی ہوئی ہم کالج کے یونیفارم میں تھے، اپنی ٹائیاں اور کتابیں لیبارٹری میں چھپا دیں اور کھانا کھانے شامیانوں میں گھس گئے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف:محمد سعید جاوید
قسط:110
 ہماری خوش قسمتی یہ تھی کہ ہمارے کالج کے نزدیک ہی ایک سینما تھا جہاں فلم سب سے آخر یعنی چار بجے کے قریب شروع ہوتی تھی۔ ہم لوگ دوسری شفٹ میں تھے اس لیے بڑے آرام سے فزکس اور کیمسٹری کے پریکٹیکل سے غائب ہو کر فلم دیکھ آتے تھے۔ مالی طور پر دشواری اس لیے نہیں تھی کہ دو تین دن کے سموسوں اور چائے کے پیسے بچا کر یہ کام آسانی سے انجام پا جاتا تھا۔ ویسے بھی ان دنوں طلباء کا ٹکٹ آدھا ہوتا تھا۔ ابا جان کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی اور اس طرح ہم فلموں کے بارے میں اپنا علم ہر وقت تروتازہ رکھتے تھے۔
پاکستان کے مایہ ناز اور ہمارے پسندیدہ فلم سٹار وحید مراد مرحوم کی شادی ہوئی۔ بارات اور کھانے کا انتظام کالج کے بالکل پچھلی گلی میں ان کے سسرال کے بڑے سے گھر میں کیا گیا تھا۔کچھ دوستوں نے مل کر منصوبہ بنایا کہ کھانے میں شرکت کی جائے جو ظاہر ہے نا ممکن نظر آتا تھا کیونکہ ہم کالج کے یونیفارم میں تھے اور فوراً ہی پہچانے بلکہ پکڑے جاتے۔ کافی غور کے بعد طے پایا کہ اپنی ٹائیاں اور کتابیں یہیں کہیں لیبارٹری میں چھپا دی جائیں اور پینٹ شرٹ میں شامیانوں میں گھس جائیں، پھر ایسا ہی ہوا، بغیر کسی پوچھ گچھ کے اندر گھس ہی گئے اور کامیابی سے اپنے منصوبے کو تکمیل کے مراحل تک پہنچایا اور نہ صرف پیٹ بھر کے بہترین کھانے کھائے بلکہ عزت بچا کر واپس آ گئے۔ ساتھیوں کو نیچا دکھانے اور متاثر کرنے کے لیے مدتوں یہ کہانی سنا کر انھیں حسد میں مبتلا کیے رکھا۔ اس میں ہم خاص طور پر وحید مراد سے ملاقات کا ذکر ضرور کرتے کہ کس طرح اس نے آکر ہم سے ہاتھ ملایا اور ہمیں خوش آمدید کہاجب کہ حقیقت یہ تھی کہ ہم کوشش کے باوجودبھی اس کی جھلک تک نہ دیکھ سکے تھے لیکن کہنے میں کیا حرج تھا۔ کیونکہ ان دنوں وحید مراد کو چلتا پھرتا دیکھ لینا ایک بہت بڑا اعزاز تھا اور ہم شیخی مارنے کا یہ موقع گنوانے کو ہرگزتیار نہیں تھے۔
یہ قسمت کی بات ہے کہ وحید مراد سے میری اکلوتی اوردوبدو ملاقات بہت عرصے بعد مری کے سول ہسپتال میں ہوئی جہاں میں ایک معمولی سرجری کے سلسلے میں داخل تھا۔ میں نے ایسے ہی کھڑکی کھول کر دیکھا تو نیچے وحید مراد انتہائی غمزدہ اور پریشانی کی حالت میں تنہا کھڑاتھا، ساتھ ہی زمین پر رکھے ہوئے ایک اسٹریچر پر ایک میت رکھی ہوئی تھی جس پر سفید چادر ڈال دی گئی تھی۔میں تیزی سے نیچے اتر کر اس کے پاس گیا تو اس نے بتایا کہ وہاں فلم ”بہارو پھول برساؤ“ کی شوٹنگ کے دوران فلم کے ڈائریکٹر ایم صادق کودل کا دورہ پڑا تھا اور وہ اسے ہسپتال لائے تھے۔ یہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ وہ انتقال کر چکے ہیں۔اور اب وہ ایمبولینس کے انتظار میں کھڑے تھے تاکہ ان کی میت کو لاہور لے جایا جا سکے۔ شاید وحید مراد نے زندگی میں پہلی دفعہ کسی کی ناگہانی موت کو اتنا قریب سے دیکھا اور محسوس کیا تھا اس لیے خوف اور پریشانی اس کے چہرے پر عیاں تھی۔کئی برسوں بعد اس نے خود بھی ایسے ہی حالات میں محض پینتالیس برس کی عمر میں اپنی جان جان آفریں کے سپرد کی۔
خواہشِ ناتمام
1965ء کا سال شروع ہو گیا تھا، شفیق بھی اب یہیں تعلیم جاری رکھنے کے لیے آگیا تھا اور یوں ہم تین ہو گئے تھے۔اور حالات قدرے بہتر ہو گئے تھے۔سال کا آغاز پُرسکون تھا۔ زندگی معمول کے مطابق چلی جا رہی تھی۔ تب ہی یکدم خیال آیا کہ میں اب چونکہ ایف ایس سی کر چکا تھا تو کیوں نہ فوج میں چلا جاؤں اور خاندانی روایت کو آگے بڑھاؤں۔یہ سوچ کر دل میں عجب سی کھلبلی مچی۔ گھر میں ابا جان اور دوستوں سے مشورہ کیا، سب نے ہی ہمت افزائی کی اور میں نے محکمہ ئ فوج میں کیڈٹ بھرتی ہونے کے لیے درخواست جمع کروا دی۔ چند روز میں ہی ابتدائی انٹرویو کے لیے بلا لیا گیا۔ دل بلیّوں اچھلا، لگتا تھا کہ میرا ایک دیرینہ نہ صحیح، مگر ایک اہم خواب پورا ہونے جا رہا تھا۔ (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں)ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

ادب وثقافت -