آپ ایک مثالی بیوی کیلئے کشش کا باعث کیسے بن سکتے ہیں؟یہ الفاظ کہیے  ”میں اس خاتون کی زندگی کو بھرپور، مکمل اور شاندار بنا سکتا ہوں“

 آپ ایک مثالی بیوی کیلئے کشش کا باعث کیسے بن سکتے ہیں؟یہ الفاظ کہیے  ”میں اس ...
 آپ ایک مثالی بیوی کیلئے کشش کا باعث کیسے بن سکتے ہیں؟یہ الفاظ کہیے  ”میں اس خاتون کی زندگی کو بھرپور، مکمل اور شاندار بنا سکتا ہوں“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: ڈاکٹر جوزف مرفی
مترجم: ریاض محمود انجم
قسط:115
آپ ایک مثالی بیوی کیلئے کشش کا باعث کیسے بن سکتے ہیں؟
اس مقصد کے حصول کیلئے مثبت سوچ کے ذریعے مندرجہ ذیل الفاظ کہیے: ”میں اس وقت ایک مناسب، صحیح اور مثالی خاتون کیلئے باعث کشش ہوں جو میری خواہش اور پسند کے عین مطابق ہے۔ یہ ایک پاکیزہ، روحانی اور مقدس بندھن ہے کیونکہ ایک روحانی، پاکیزہ اور مقدس محبت، اس شخصیت میں رواں دواں ہے جس کے ساتھ میری مکمل اور بھرپور ہم آہنگی موجود ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اس خاتون کو محبت، چاہت، روشنی، اطمینان اور خوشی مہیا کر سکتا ہوں۔ مجھے احساس ہے بلکہ میں تو یہ بھی سمجھتا ہوں کہ میں اس خاتون کی زندگی کو بھرپور، مکمل اور شاندار بنا سکتا ہوں۔
اب میری خواہش ہے کہ یہ خاتون مندرجہ ذیل خوبیوں اور خصوصیت کی مالک ہو۔ یہ خاتون ایک پاکیزہ، روحانی اور تقدس آمیز شخصیت ہے۔ مزیدبرآں یہ خاتون وفادار، قابل اعتماد اور معقول شخصیت کی مالک ہے اور پھر یہ خاتون، باہمی آہنگی، طمانیت اور خوشی و مسرت کی عکاس ہے۔ ہم ایک خودکار طریقے کے ذریعے ایک دوسرے کیلئے باعث کشش بن رہے ہیں۔ صرف یہی خاتون ہے جو مجھے محبت، پیار، چاہت، سچائی اور حسن سے آشنا کرا سکتی ہے۔ اب میں اپنی پسندیدہ شخصیت کو اپنے لیے قبول کرتاہوں۔“
جب آپ اپنے ساتھی میں موجود پسندیدہ خوبیوں اور خصوصیات کے متعلق چپکے چپکے اور نہایت دلچسپی کے عالم میں غور کرتے اور سوچتے ہیں تو آپ اس عمل کے ذریعے اپنے اور اس خاتون میں ذہنی مطابقت پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور پھر آپ کے تحت الشعور کی اندرونی لہریں، آپ دونوں کو ایک پاکیزہ، مقدس اور روحانی انداز میں یکجا کردیں گی۔
تیسری بار غلطی کی قطعاً گنجائش نہیں ہے:
حال ہی میں ایک ٹیچر نے مجھ سے کہا: ”میرے 3 خاوند تھے اور وہ سب کے سب، ہر قسم کے گھریلو معاملات میں میرے محتاج تھے۔ میں کس طرح ان جیسے مردوں کو پسند کر سکتی ہوں۔“
میں نے اس ٹیچر سے استفسار کیا کہ کیا ا س کا دوسرا خاوند نسوانی انداز و اطوار کا مالک تھا۔ اس نے جواب دیا: ”نہیں، بالکل نہیں، اگر وہ اس قسم کا ہوتا تو میں اس سے کبھی شادی نہ کرتی۔“ ظاہر ہے کہ اس نے اپنی پہلی غلطی سے کسی بھی قسم کا کوئی سبق نہیں سیکھا تھا۔ اصل مسئلہ، اس کی اپنی شخصیت کی ساخت اور بناوٹ کا تھا۔ اس عورت کے انداز و اطوار مردانہ تھے اور اس کے مزاج میں حاکمیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور تحت الشعوری طور پر وہ ایک ایسا مرد بطور خاوند چاہتی تھی جو اس کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرے تاکہ وہ اپنا حاکمانہ کردار ادا کر سکے۔ یہ سب کچھ اس کی تحت الشعوری تحریک کا نتیجہ تھا اور اس کے تحت الشعوری مقصد اور تخیل نے اسے وہ سب کچھ اس کیلئے باعث کشش بنا دیا تھا جو وہ چاہتی تھی۔ اس عورت کو چاہیے تھا کہ وہ دعا کرنے کے صحیح طریقے کو اپنانے کے ذریعے اپنے منفی انداز و اطوار کو بدلنے کا طریقہ سیکھ لیتی۔(جاری ہے) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -