کینیڈا دنیا کے بڑے بجلی پیدا کرنیوالے ملکوں میں شمار ہوتا ہے، جنگلات، کان کنی اور زراعت سے کافی آمدنی ہوجاتی ہے جو وہاں بسنے والوں کیلئے کافی ہے

کینیڈا دنیا کے بڑے بجلی پیدا کرنیوالے ملکوں میں شمار ہوتا ہے، جنگلات، کان ...
کینیڈا دنیا کے بڑے بجلی پیدا کرنیوالے ملکوں میں شمار ہوتا ہے، جنگلات، کان کنی اور زراعت سے کافی آمدنی ہوجاتی ہے جو وہاں بسنے والوں کیلئے کافی ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف:ع۔ غ۔ جانباز 
قسط:30
جنوبی اونٹاریو میں وسیع جنگلات ہیں جہاں پائن ایپل Papays اور کیلے سارا سال ہوتے ہیں۔ کینیڈا دنیا میں چھٹا بڑا ملک تیل کی پیداوار کے لحاظ سے ہے۔ تقریباً 306 ملین بیرل تیل روزانہ نکالا جاتا ہے۔ تیل برآمد کرنے والے ملکوں میں کینیڈا کا تیرہواں نمبر ہے۔
”سروس انڈسٹری“ کا کینڈا میں اچھا خاصا پھیلاؤ ہے۔ بجلی کی پیداوار میں کینیڈا دنیا کے بڑے بجلی پیدا کرنے والے ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔ جنگلات، کان کنی اور زراعت سے مل ملا کر کافی آمدنی ہوجاتی ہے جو وہاں بسنے والوں کی گذر بسر کیلئے کافی ہوتی ہے۔ لاکھوں ڈالر مالیت کا سونا بھی ہر سال کینیڈا میں نکالا جاتا ہے۔ 
کینیڈا میں نوع و اقسام کے درخت، جھاڑیاں، جانور اور پرندے بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جو کنیڈا کے حُسن اور معیشت میں حصّہ بقدر جُثہ ڈالے ہوئے ہیں۔
پھر وِنڈسر شہر کے ہاؤس نمبر 2259 میں احمد ندیم کے دوست زاہد منیر کے گھر گئے۔ وہاں ہی ڈاکٹر طارق کو بلا لیا گیا۔ یہ تینوں انجینئرنگ یونیورسٹی کے کلاس فیلوز تھے اور خوب گپ شپ چلتی رہی۔ کھانا لگا۔ کھانا بڑا پُر تکلف اور لذیذ تھا۔ سب نے حسب توفیق اپنے اپنے پیٹ کی تنابیں کسیں اور چائے پی۔ پھر سیر کو چل دئیے۔ شہر سے تفریح کے لیے سمندر کی طرف چل دئیے۔ راستے میں چند Sky Scroppers۔ لو جناب سامنے ہے امریکہ کی مسّی گن اسٹیٹ کا Detroit City اور اِدھر ہے Windsor۔ یہ دونوں شہر ایک عدد Tunnel اور ایک پل سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہزاروں لوگ صبحWindsor سےAmbassador Bridge کاروں میں اور بذریعہ Tunnel امریکہ کے شہر Detroit City جاتے ہیں۔ وہاں Jobs کرتے ہیں اور شام کو اُسی راستے سے واپس Windsor شہر واقع کینیڈا میں آجاتے ہیں۔ کہنے کو تو اسے River کہتے ہیں لیکن یہ دو بڑی Creeks کی درمیانی پانی کی گذرگاہ ہے جو عام دریاؤں سے کشادہ ہے، اِس میں کشتیاں بھی چلتی ہیں۔ 
کچھ سال پہلے امریکہ میں کار انڈسٹری بڑے عروج پر تھی تو بہت سے لوگوں کو وہاں کام مل جاتا تھا اور شام کو واپسی ہوجاتی۔ لیکن کار انڈسٹری کی کساد بازاری کی وجہ سے اب  Unemployment عام ہوگئی ہے۔ 
اِدھر Windsor کی طرف ایک لمبے پول پر کینیڈا کا جھنڈا "Mapple Leaf" کی سُرخی کے ساتھ لہرا رہا ہے۔ اِس طرف واقعہ Casino میں امریکہ سے ٹین ایجر لڑکے لڑکیاں اِدھر شراب نوشی کے لیے چلے آتے ہیں۔ اِدھر 19 سال کی عمر کے بعد شراب نوشی کی اجازت ہے جبکہ امریکہ میں 21 سال کی عمر کے بعد یہ اجازت ہے۔ تو وہاں سے 19 تا 21 سال کی عمر کے لڑکے لڑکیاں آرام سے اِدھر آکر شراب نوشی کر کے واپس Ambassador Tunnel یا Bridge کے ذریعے واپس اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ یاد رہے 2012ء سے پہلے Windsor میں سفید فام لوگ ہی رہتے تھے اور دوسرے لوگ خال خال ہی تھے۔ لیکن اب یہاں گورا کوئی نظر نہیں آتا۔ دریا کی سیر کے بعد University of Windsor بھی دیکھی۔ جو ایک بڑی یونیورسٹی ہے۔ انڈیا کے سٹوڈنٹس کی بھرمار ہے۔ زاہد منیر اور منصب صاحب یہاں پڑھتے تھے اور یہاں سے ہی انہوں نے ماسٹر کی ڈگریاں لیں۔ 
واپسی پر پرویز بٹ صاحب سے بھی ملے۔پرویز بٹ صاحب واپڈا میں تھے XEN کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے۔ وہاں اُن کا ایک واجبی سا Utility Store ہے۔ دو منزلہ مکان کے نچلی منزل میں واقع ہے وہاں ہی بٹ صاحب نے سٹور کے پچھلی طرف بیڈ لگایا ہوا ہے۔ غالباً وہ مکان کی اوپر جانے والی سیڑھیوں کا ہر روز بار بار سامنا کرنے سے کتراتے ہیں۔ پچھلی طرف واقع پورشن کو مرمت کر کے کرایہ پر دینے کی سوچ رہے ہیں۔ دو لڑکے ایک لڑکی ہے۔ سبھی سٹور میں ہی بٹ صاحب نے لگائے ہوئے ہیں۔ لڑکوں کو چھوٹی موٹی نوکری پر لگانے کے لیے بٹ صاحب مائل نہیں لگ رہے تھے۔  (جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم“ نے شائع کی ہے۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں)

مزید :

ادب وثقافت -