چودھری ثناءاللہ مرحوم کی یاد میں

چودھری ثناءاللہ مرحوم کی یاد میں
چودھری ثناءاللہ مرحوم کی یاد میں

  

نماز جمعہ کے دوران یونیورسٹی آف سرگودھا سے متصل جامع مسجد حمزہ میں اکثر ایک باریش بزرگ سے ملاقات ہوتی۔ وی سی ہاﺅس کے عقبی گیٹ سے اپنے اولڈ ایج واکر کے ہمراہ داخل ہوتے اور خراماں خراماں مسجد کے صحن سے ملحقہ چھوٹے برآمدے کے ایک کونے میں پڑی کرسی پر متمکن ہو جاتے، کبھی کبھار ادھر ادھر نظر دوڑاتے جو جوان یا بچہ نظر آتا اسے اپنی چھڑی سے سرکی طرف اشارہ کرکے کہتے سر ڈھانپ کر نماز پڑھا کرو۔مَیں صحن میں چھٹی سے ساتویں صف میں براجمان رہتا اور ساری کارروائی کا بغورمشاہدہ کرتا رہتا ۔پھر دعا اور تکمیل نماز کے بعد بزرگ بغیر کسی سہارے اور پروٹوکول کے آہستہ آہستہ واپس وی سی ہاﺅس داخل ہو جاتے۔ یہ باریش بزرگ چودھری ثناءاللہ مرحوم تھے۔ ہر جمعہ کو ان سے رسمی ملاقات رہتی ۔چودھری ثناءاللہ مرحوم وائس چانسلر یونیورسٹی آ ف سرگودھا پروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری کے والد محترم تھے ۔چودھری ثناءاللہ مرحوم کی آپ بیتیاں سناتے وقت ڈاکٹر اکرم چودھری صاحب کی آنکھیں کئی بار چھلک پڑتیں ۔مجھے اس وقت یہ احساس شدت سے ہوتا کہ انسان جتنا بھی بڑا کیوں نہ ہو جائے ،والدین کی آنکھوں میںپےارا ہی رہتا ہے اور والدین بھی ہر عمر میں پیارے ہوتے ہیں بالکل قدرت اللہ شہاب کے حقیقی افسانے ”ماں“ کی طرح ،جس بارے وہ لکھتے ہیں کہ انہوںنے 70سال کی عمر میں اپنی ماں کی یاد میں لکھا اور اس کی آخری سطور پڑھ کر آنکھیں بھیگ جاتی ہیں ....”قدرت اللہ شہاب لکھتے ہےں کہ ان کی والدہ کے پاس کپڑوں کے کل دو جوڑے تھے ،اےک جو انہوں نے پہن رکھا ہوتا اور دوسرا دھو کر اپنے تکےے کے نےچے رکھا ہوتا۔وہ مزےد لکھتے ہےں کہ انہےں ان کی والدہ کی نصےحت تھی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی ےاد مےں آنسو نہ بہائے جائےں ،جس پر قدرت اللہ شہاب کہتے ہےں کہ والدہ جب ےاد آتی ہےں تو ان کی نصےحت بھی ےاد آجاتی ہے ،مگر آنسو ضبط کرنا بڑا مشکل ہوجاتا ہے“ ۔

اپنے والد محترم کی فاتحہ پر بیٹھے دوستوں کے درمیان ڈاکٹر اکرم چودھری صاحب نے بتایا کہ ان کے والد جناب چودھری ثناءاللہ مرحوم نے 95سالہ بھرپور زندگی گذاری۔ چودھری ثناءاللہ مرحوم 1943ءمیں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے اور اپنے کیئریر کا آغاز محکمہ بلڈنگ مےں بطور اوورسےئر کے کیا اور بطور ایکسئین محکمے سے ریٹائر ہوئے اور 34سال سے زائد عرصے تک پنشنراور سینئر سیٹزن بھی رہے۔ اپنے عرصہ ملازمت کے دوران چودھری ثناءاللہ مرحوم نے امور انتہائی ایمانداری ،دیانتداری اور خدمت کے جذبے کے تحت سر انجام دیئے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چودھری صاحب اپنے مرحوم والد کے ذکر کے دوران کئی بار آبدیدہ ہوجاتے ،پھر مسکراتے ہوئے ان کا تذکرہ کرتے اور کہتے ابا جان نے بڑی سادہ زندگی گزاری۔ ساری عمر ایمانداری کا درس دیتے رہے۔ اذان ہوتی تو پھر پیچھے مڑ کر نہ دیکھتے ،مسجد کو روانہ ہو جاتے ۔عید الالضحیٰ سے تین چار روز قبل تک چودھری ثناءاللہ بالکل عافیت سے تھے ،مگر اچانک غشی کادورہ پڑا ،پھر صاحب فراش ہو گئے اورعید سے پہلی رات کو جان جان آفریں کے سپر د کر دی ۔

عید کی صبح بہاولپور میں نماز کے بعد آپ کی نماز جنازہ ادا کی گئی ،پھر اس کے بعد ان کو ان کے آبائی قبرستان میں آسودخاک کر دیا گیا۔ اگلے روز وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چودھری سرگودھا آگئے، کیونکہ یہاں سے احباب کی بڑی تعداد فاتحہ کے لئے بہاولپور جانا چاہتی تھی۔ وی سی ہاﺅس میں فاتحہ خوانی کے لئے آنے والوں کا تانتا بندھارہا ۔کہتے ہیں کہ نیک روح کے ایصال کے لئے بھی اسباب خود بخود اتنے ہی زیادہ ہو جاتے ہیں۔ عمائدین شہر نے قل خوانی سے ایک روز قبل بھی وی سی ہاﺅس میں فاتحہ خوانی میں بھرپور شرکت کی ،جبکہ اگلے روز قرآن خوانی میں تمام مکاتب فکر کے سینکڑوں افراد نے بھرپور شرکت کو ایک بار پھر یقینی بنایا ۔اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اکرم چودھری نے شرکاءکی تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اہل سرگودھا جس قدر مجھے پیار اور محبت دیتے ہیں۔ اس پر میں ان کا شکرگزار ہوں ڈاکٹر اکرم چودھری نے کہا کہ ان کے والد محترم چودھری ثناءاللہ مرحوم نے عمر بھر کسی کی دل آزاری نہیں کی اور ہم نے تمام عمر ان کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔

وائس چانسلر ڈاکٹر اکرم چودھری نے کہا کہ ان کے والد بڑے مشفق اور امور کی انجام دہی میں عادلانہ اور منصفانہ رویہ رکھتے تھے ،جبکہ ایمانداری اور دیانتداری ان کا خاصہ تھا۔ انہوںنے کہا کہ ان کے والد نے ہمیشہ انہیں ہدایت اور نصیحت کی کہ وہ اپنے امور میں دیانتداری کو فروغ دیں وائس چانسلر نے تبایا کہ جب انہوں نے قرآن کریم پر مستشرقین اور مغرب کے دیگر لوگوں کے اعتراضات اکٹھے کرکے ان کا جواب ایک مقالے کی شکل میں دیا ،تو اس پر ان کے والد محترم نے کہا کہ آج مجھے کمائی کا صلہ مل گےا، اسی طرح ڈاکٹر اکرم چودھری نے مزید بتا یا کہ ٹی وی پر رمضان المبارک کی خصوصی نشریات کے دوران ان کے تمام لیکچرز سننے کے لئے ان کے والد محترم چودھری ثناءاللہ مرحوم خوب اہتمام کرتے ،قوت بصارت و سماعت کی کمزوری کے باوجود ٹی وی کے ساتھ لگ کر بیٹھ جاتے اور اکثر مجھے کہتے کہ تمہاری باتوں مےںبڑی تاثےر ہے اور ےہ جو تم ےتےم اور حفاظ بچوں کی فےس معاف کرتے ہو، ےہ تمہےں قرب خداوندی عطا کرے گا۔

 ڈاکٹر اکرم چودھری نے شرکاءسے گذارش کی کہ وہ ان کے والد کے درجات کی بلندی اور مغفرت کے لئے خصوصی دعا فرمائیں۔اس موقع پر پروفیسر فضل حق نے اجتماعی دعا سے قبل اپنے خطاب میں کہا کہ جس طرح وائس چانسلر نے تبایا کہ ان کے والد پابند صوم و صلوة تھے ،یہی عمل بخشش کا ذریعہ ہوتا ہے ،کیونکہ نماز اسلام کا اول رکن ہے اور اس کی پابندی ہر مسلمان پر فرض ہے۔ مختصر خطاب کے بعد پروفیسر فضل حق نے اجتماعی دعا کروائی کہ اللہ تعالیٰ چودھری ثناءاللہ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاءفرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاءکرے قرآن خوانی میں ملک کی مختلف یونیورسٹیوں سے پروفیسر ز،ڈینز،اساتذہ طلبہ کے علاوہ تاجروں وکلاءارکان اسمبلی،ڈاکٹر ز،علماءمشائح اور صحافیوں سمیت تمام مکاتب فکر کے نمائندہ افراد نے بھرپور شرکت کی اور فرداً فرداً وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم چودھری سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے ان کے غم میں برابر کے شریک ہوئے۔

مزید :

کالم -