نظام کی تبدیلی ، مگر کیسے ؟

نظام کی تبدیلی ، مگر کیسے ؟
نظام کی تبدیلی ، مگر کیسے ؟

  



ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے مختلف شہروں میں دھرنوں کے نئے پروگرام کے اعلان کے ساتھ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا ختم کر دیا ہے، جبکہ عمران خان صاحب کا دھرنا جاری ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ دھرنا وزیر اعظم کے استعفے تک جاری رہے گا، خواہ انہیں ساری عمر یہاں بیٹھنا پڑے۔ ان دھرنوں کا آغاز 14 اگست کو نظام کی تبدیلی کے نعرے کے ساتھ ہوا تھا۔ عمران خان کا مطالبہ یہ ہے کہ ملک کے انتخابی نظام کو تبدیل کیا جائے ۔ ان کے بقول دھاندلی کی پیداوار پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیا جائے، جبکہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری پورے ملکی نظام کی تبدیلی کی بات کر رہے ہیں اور موجودہ نظام کو ظلم و نا انصافی پر مبنی قرار دے کر نئے عادلانہ نظام کے نفاذ کا پرچم بلند کئے ہوئے ہیں۔ دو ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والے ان دھرنوں میں ہزاروں افراد شریک چلے آرہے ہیں۔ مردوں کے ساتھ خواتین بھی ان میں شامل ہیں اور شرکاءکے جوش و خروش کے مظاہرے ملک بھر کے عوام میڈیا کے ذریعے براہ راست دیکھ رہے ہیں۔

ان دھرنوں کے اصل مقاصد کیا ہیں؟ ان کے پس پشت کون سے عوامل ہیں؟ انہیں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی ہے؟ اور مستقبل میں قومی سیاست پر ان کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ یہ سوالات دھرنوں کے آغاز سے ہی قومی حلقوں میں زیر بحث ہیں اور ان پر وسیع پیمانے پر اظہار خیال کا سلسلہ جاری ہے، مگر ہم ان سب سوالات سے قطع نظر نظام کی تبدیلی کی ضرورت اور اس کے تقاضوں کے حوالے سے کچھ گزارشات پیش کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

نظام کی تبدیلی نہ صرف قومی ضرورت اور وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے، بلکہ برطانوی استعمار سے آزادی کی طویل جدوجہد اور قیام پاکستان کا مقصد بھی یہی تھا کہ نو آبادیاتی نظام، جو استعماری آقاﺅں نے اپنے مخصوص مقاصد کے لیے اس خطہ زمین پر نافذ کیا تھا، اس سے نجات حاصل کر کے ایسا نظام نافذ کیا جائے جو حقیقی آزادی اور قومی خود مختاری سے ہم آہنگ ہو اور بیرونی تقاضوں کی تکمیل کی بجائے داخلی اور قومی ضروریات کو پورا کرنے والا ہو، لیکن اگر نظام نے نو آبادیاتی دائرے میں ہی قائم رہنا تھا اور اس نے بیرونی مداخلت کاروں کے ایجنڈے کو ہی آگے بڑھانا تھا تو نہ آزادی کی جدوجہد کا کوئی فائدہ تھا اور نہ ہی پاکستان کے نام سے مسلمانوں کے لئے الگ ملک کے حصول کا کوئی جواز تھا۔ تحریک آزادی اور قیام پاکستان دونوں کی منزل نظام کی تبدیلی تھی، مگر ان دونوں کے ظاہری حصول کے بعد کم و بیش سات عشرے گزر جانے پر بھی ہم نظام کی تبدیلی کے مطالبے پر کھڑے ہیں،جبکہ سیاسی، معاشرتی، انتظامی، عدالتی اور معاشرتی کسی بھی شعبے میں نو آبادیاتی نظام اور طرز حکمرانی سے نجات حاصل نہیں کر پائے۔

قیام پاکستان کا مقصد اسلامی احکام و قوانین کی عملداری اور اسلامی روایات و اقدار کی بالاتری کو قرار دیا گیا تھا، مگر دستور میں اسلام اور قرآن و سنت کی بالادستی کے اعلان کے باوجود ہم آج جس مقام پر کھڑے ہیں ،اس کا اندازہ سپریم کورٹ کے جسٹس جناب جواد ایس خواجہ کے اس ارشاد سے کیا جا سکتا ہے جو روزنامہ انصاف لاہور 24 اکتوبر 2014ءکی ایک خبر کے مطابق کسی کیس کی سماعت کے دوران انہوں نے فرمایا ہے کہ:”اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کچھ تو اسلامی ہونا چاہیے“۔

ہمارے خیال میں اسلامی نظام کے نفاذ اور اسلامی اقدار و روایات کی عملداری کے حوالے سے موجودہ صورت حال کی عکاسی کے لئے یہی جملہ کافی ہے، جبکہ دیگر پہلوﺅں سے بھی حالات کچھ مختلف نہیں ہیں۔ انتخابی نظام مسلسل اعتراضات کی زد میں ہے۔ کم و بیش ہر سیاسی جماعت کو شکایت ہے کہ اس نظام میں عوام کی شفاف نمائندگی کی ضمانت موجود نہیں اور دھاندلی کے امکانات کا راستہ روکنا ممکن نہیں ہے۔ یہ اعتراض بہت پرانا ہے۔ 1970ءکے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی، تحریک استقلال، جماعت اسلامی، اور جمعیت علماءاسلام نے اس کے حل کے لئے اپنے اپنے انتخابی منشور میں متناسب نمائندگی کا نظام اختیار کرنے کی تجویز دی تھی، بلکہ وعدہ کیا تھا کہ وہ برسرِ اقتدار آکر متناسب نمائندگی کا طریق کار اپنائیں گی، لیکن پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام اس کے بعد اب تک متعدد بار اقتدار میں آنے یا اقتدار کا حصہ بننے کے باوجود اس وعدے کی تکمیل کے لئے کچھ نہیں کر سکیں اور معاملہ جوں کا توں لٹکا ہوا ہے۔

معاشی نظام کے بارے میں بانی ¿ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے ملک کے معاشی ماہرین کو یہ ہدف دیا تھا کہ ہمارا معاشی نظام مغربی نظام و فلسفہ کے مطابق نہیں، بلکہ اسلامی اصولوں کے دائرے میں از سر نو ترتیب پانا چاہیے اور پاکستان کو ایک اسلامی، فلاحی ریاست بنانا ہماری منزل ہونا چاہیے، مگر اس طرف بھی کوئی عملی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، حتیٰ کہ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر سودی بینکاری کے نظام کو ختم کرنے کے لئے جو واضح اور دو ٹوک فیصلے دیئے تھے، وہ بھی اپیل در اپیل کے چکروں میں الجھا دیئے گئے ہیں۔

ہمارے خیال میں اصل بات جس کی طرف توجہ دینے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے، یہ ہے کہ ہم آزادی کے حصول کے باوجود آزاد نہیں ہیں اور کسی بھی شعبے میں اپنے فیصلے خود کر سکنے کے لئے ہمیں خود مختاری بھی حاصل نہیں۔ ورلڈ اسٹیبلشمنٹ نے، جس کی کمان یہودیوں اور سیکولر قوتوں کے ہاتھوں میں ہے، ہمارے لئے نظام کی تبدیلی کا کوئی راستہ کھلا نہیں چھوڑا۔ جس سمت سے بھی تبدیلی کی طرف پیش قدمی ہوتی ہے، عالمی استعمار کی قائم کردہ کوئی نہ کوئی ریڈ لائن راستہ روک لیتی ہے اور ہم کچھ بھی نہیں کر پاتے۔ یہ معاملہ صرف ہمارے ساتھ ہی نہیں ،بلکہ پورے عالم اسلام کے ساتھ ہے۔ جو مسلمان ملک بھی اپنے نظریاتی تشخص، حقیقی آزادی اور اپنے عوام کی امنگوں کی تکمیل کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے، اسے غیظ و غضب کا نشانہ بننا پڑ جاتا ہے، اس لئے بغیر نظام کی تبدیلی کے کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ہمارے خیال میں آج سے نصف صدی قبل قومی شاعر حبیب جالب مرحوم نے اسی صورت حال کی عکاسی ان الفاظ میں کی تھی جو آج بھی تمام قومی حلقوں کے لئے لمحہ ءفکریہ ہے کہ:

جو پہنو ہم کو پہناﺅ، پھر اسلام کی بات کرو

گھر گھر جیون دیپ جلاﺅ، پھر اسلام کی بات کرو

کوٹھی بیس کنالوں کی اور نیچے ایک پجارو بھی

ہم کو سائیکل ہی دلواﺅ، پھر اسلام کی بات کرو

دیکھو کچھ تو رہ بھی گیا ہے اپنے دیس خزانے میں

کھاﺅ، لیکن تھوڑا کھاﺅ، پھر اسلام کی بات کرو

اللہ ہُو کا ورد بجا ہے، نبی کے گن بھی ٹھیک، مگر

کچھ تو ان کا رنگ دکھاﺅ، پھر اسلام کی بات کرو

توڑو یہ کشکول گدائی، اترو قرض کی سولی سے

امریکہ سے جان چھڑاﺅ، پھر اسلام کی بات کرو

مزید : کالم