ایس ای سی پی، کاروبار میں آسانی کیلئے جا مع انضباطی فریم ورک کی منظوری

ایس ای سی پی، کاروبار میں آسانی کیلئے جا مع انضباطی فریم ورک کی منظوری

اسلام آباد (اے پی پی) سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے ڈَیٹ اور ایکوٹی سکیورٹیز کی پبلک آفرنگ کے لئے سکیورٹیز ایکٹ، 2015 کے تحت ایک جامع انضباطی فریم ورک کی منظوری دے دی۔ اس کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا اور پورے پبلک آفرنگ کے عمل کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہے۔اس کی منظوری سے قبل ایس ای سی پی نے مارچ اور ستمبر 2016ء میں صنعت کے شرکاء کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کئے۔ کاروبار کی انجام دہی میں آسانی پیدا کرنے اور پبلک آفرنگ کے مکمل طرز عمل میں جدّت لانے کیلئے ضوابط کی تعداد کو کم کر کے دو کر دیا گیا ہے۔ یہاں یہ ذکرکرنا ضروری ہے کہ پبلک آفرنگ سے متعلق قوائد/ضوابط/رہنما اصول اور 6 مختلف قواعد/ضوابط/رہنما اصول عوامی آراء کیلئے پیش کئے گئے۔فریم ورک کے بامقصد انضمام کے بغیر ان دو ضوابط کے بجائے پبلک آفرنگ کے عمل کی نگرانی کے لئے دس مختلف قوائد/ضوابط/رہنما اصول ہوتے۔پبلک آفرنگ کے ضوابط کو تین حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصّہ پبلک آفرنگ کا عمل، دوسرا حصّہ پبلک آفرنگ کے طریقے جبکہ تیسرا حصّہ درمیانی عاملین جیسے ضمہ نویس، بینکر وغیرہ کے افعال اور ذمہ داریاں ہے۔پبلک آفرنگ کے نئے انضباطی فریم ورک کے مطابق ایک جاری کنندہ پبلک آفر نگ کے لئے نا اہل ہوگا اگر جاری کنندہ یا اس کے ڈائریکٹرز، کفیل یا قابل ذکر حصص داران نادہندہ ہوں یا ایکسچینج کی جانب سے ڈیفالٹر قرار دئیے گئے ہوں۔

مزید : کامرس