’’ریس ٹو وائٹ ہاؤس‘‘

’’ریس ٹو وائٹ ہاؤس‘‘

ریس(Race)لگانا بری بات نہیں، لیکن بھاگنے والے کے مقصد اور منزل کے تعین کے معیار کو پرکھنا ضروری اور اہم ہوتاہے۔ امریکہ دنیا کا آسودہ ترین ملک ہے۔ اِدھر آنے والے امیگرینٹس جن جن ممالک سے بھی آئے ہوں یہ سرزمین ’’بشر‘‘ کی قومیت اور حالات کو بعد میں پرکھتی ہے، پہلے پناہ دیتی ہے، لیکن یہ کیا! جونہی ہم آسودگی کی معراج کو پہنچتے ہیں تو گھومنے کے لئے مہنگی مہنگی گاڑیاں، رہنے کے لئے محل نما گھر اور مہنگے ترین برینڈڈ (Branded) کمپلیکس (Complex) کے چکرمیں پڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح مادیت کی اس دوڑ میں بھاگتے بھاگتے ’’آزادی‘‘ جو ’’صبر‘‘ سے حاصل ہوتی ہے ،اُسے اپنی زندگی سے نکال باہر کرتے ہیں اور سکون کی چند گھڑیوں کو بھی ترستے ہیں۔ آزادی،صبر اور سکون یہ تینوں ذہنی اور عملی ’’علامتیں‘‘ نہیں ’’حالتیں‘‘ ہیں جو مادّیت کی ریس سے متعلق نہیں ہیں۔ صد افسوس کہ ہماری پاکستانی کمیونٹی جو امریکہ میں مقیم ہے کے ہاں یہ نام نہاد امارت کی نمائش اس قدر بڑھ چکی ہے کہ کبھی کبھی ان پر ترس آنے لگتا ہے کہ محنت اور دن رات کی نیندوں کو برباد کرنے کے بعد آسودگی میں باعث شرم رسم و رواج کو اپنی تہذیبی قدروں میں متعارف نہ ہی کروائیں تو بہتر ہے۔

چند روز قبل ہماری ایک دوست کے بیٹے کی شادی تھی۔ ڈاکٹر دُلہا کی شیروانی سے میچنگ ،ان کے پالتو کتے کا لباس بنایا گیا اور اسی طرح دُلہن کے برینڈڈ عروسی جوڑے سے ملتا جُلتا پالتو کتیا کا لباس بنایاگیا۔ حدیہ کہ دُلہا کے والدین اپنے ان دونوں پالتو جانوروں کو Reception پر گود میں اُٹھا کر مہمانوں کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ جانوروں سے محبت کریں لیکن انسان اورجانور کے فرق کوملحوظ خاطر ضرور رکھیں۔ چند روز تک شادی کی رسومات کا طویل سلسلہ جاری رہا، مجھ جیسی درویشانہ مثال بندی کے بس کا روگ تو نہیں لیکن اگر حکومتی سطح پر ایسے لوگوں کی جانچ پڑتال ہونے لگے تو یقین مانئیے ان پر بے شمار قسم کے ٹیکس عائد (فوراً سے پہلے) ہو جائیں گے مگر ہر نظام کے اندر لوپ ہولز(Loop holes)تو ہوتے ہی ہیں۔ محفل کو مزید رنگا رنگ اور گرمانے کے لئے پاکستان سے سنگر کو ان کے ساز ندوں سمیت بلوایا گیا۔ جن کو اگر گانے اور چند تصویروں کا معاوضہ 60یا 70لاکھ روپے مل جائے تو ایسے سنگر کیونکر الحمرا آرٹ سینٹر میں پاکستان کے قومی دن پر قومی نغمے سنائیں گے۔خیر یہ ان کا کاروباری معاملہ تھا،مجھے خبر نہیں پس دیوار کیا ہوا غور طلب بات یہ ہے کہ وہ لوگ جو خواہشوں کو خدا مان کر زندگی بسر کرتے ہیں اور ان کے برعکس دوسرے وہ جو خدا کی خواہش کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو اِدھر ہوں یا اُدھر، وہ فلاحی کاموں سے گریز نہیں کرتے۔ امیر سے یہ توقع رکھی جائے کہ وہ غریب کا درد اپنے دل میں محسوس کرے، یہ ناممکن لگتا ہے۔

اس کی زندہ مثال میرے مشاہدے میں یہ آیا ہے کہ اپنے دیس میں رہنے والے کم آمدنی یا متوسط طبقے کی خدمت عمومی طور پر وہی لوگ کرتے ہیں جو مندرجہ بالا خرافات میں اس حد تک آگے نہیں بڑھتے۔ اس طرح ہم وطنوں کی پردیس میں رہ کر مدد کرنے والے اپنی ذاتی ضروریات سے بچا کر کوشش کرتے ہیں کہ عزیزوں اور اہل وطن کی مدد کی جائے۔

مادی ریس کی بات ہو رہی ہے تو امریکی انتخابات کی گہما گہمی میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ گدھے( ڈیموکریٹس) اور ہاتھی (ری پبلیکنز) کی یہ دوڑ یا ریس کیسی رہتی ہے۔ ہاتھی اور گدھے کی یہ دوڑ وائٹ ہاؤس واشنگٹن ڈی سی تک ہے۔ اس میں شک نہیں کہ اپنی خصلت کے حوالے سے گدھا جفا کش، محنتی اور خدمت گار ہوتا ہے۔ اسی لئے تو انیسویں صدی میں اینڈریوجیکسن نے مخالف پارٹی کے مذاق سے رکھے گئے نام کو خوش بختی کی علامت تصور کرتے ہوئے اپنے حریف جان کو منیسی ایڈمز کو شکست دے کر وائٹ ہاؤس کی ریس جیت لی۔ 1870ئمیں ڈیمو کریٹس پارٹی نے اپنی پارٹی کا علامتی نشان گھوڑا رکھا ۔ 1854ء ری پبلیکن پارٹی کا آغاز ہوا اور چھ سال بعد اس پارٹی کے پہلے صدر ابراہام لنکن پہلے صدر تھے جو وائٹ ہاؤس تک کامیابی کے ساتھ پہنچے۔

اب مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں پارٹیوں کے علامتی نشانات کو تخلیق کرنے والا کارٹونسٹ ایک ہی شخص تھامس نیسٹ(Thomos Nest)ہے جو مقبول زمانہ سانتا کلاز کا بھی خالق ہے۔2016ء کے موجودہ امریکی الیکشن ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکے ہیں صدر اوبامہ نے جو Colationبنائی تھی ہیلری اس کو ہی آگے لے کر چل رہی ہیں۔ شروع سے ہی ان کا پلڑا بھاری نظر آتا ہے۔ وہ اس لئے کہ وہ ایک تجربہ کار سیاستدان ہیں۔ اگر حالات ان کے حق میں اسی طرح ساز گار رہے تو وہ امریکہ کی پہلی خاتون صدر ہوں گی۔ پہلا مباحثہ دونوں امیدواروں کے درمیان 26ستمبر کو نیویارک کی ہافسٹرا یونیورسٹی میں نوے منٹ کے دورانیے پر مشتمل تھا۔اس مباحثے میں ہیلری کو ڈونلڈ ٹرمپ پر واضح کامیابی رہی، جیسا کہ پہلا مباحثہ بے انتہا اہمیت کا حامل اس لئے ہوتا ہے کہ یہ مباحثہ الیکشن پلٹ ثابت ہوتا ہے۔ اس کے نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ پارٹی کی ہیلری کو 45%اور ریپلکن کے ڈونلڈ ٹرمپ کو 40.4% کی حمایت حاصل تھی۔ 9اکتوبر کو صدارتی امیدواروں کا دوسرا مباحثہ واشنگٹن یونیورسٹی سینٹ لوئس(Saint lois)میں ہوا جس کو ایک فیصلہ کن مباحثہ تصور کیا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جوبنیادی طور پر کاروباری حیثیت اور تجربہ رکھتے ہیں، وہ سیاست میں نہ صرف ناتجربہ کار ہونے کے علاوہ ’’بے صبرے‘‘ امیدوار کی حیثیت سے صدارتی الیکشن لڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جس میں ان کے غیر ذمہ دارانہ اور منفی بیانات نہ صرف عوامی سطح پر بلکہ ان کی اپنی پارٹی کے اندر بھی ان کی مقبولیت کا گراف بے حد گرتا ہوا نظر آرہا ہے۔ دونوں صدارتی امیدواروں نے اس مباحثے سے قبل ایک دوسرے سے مصافحہ بھی نہ کیا۔ اس صدارتی امریکی الیکشن میں ابتداہی سے ماحول میں ٹینشن اور ناہمواری نظر آرہی تھی لیکن اس مباحثے میں حالات نے یہ شکل اختیارکر لی۔ ٹرمپ کی مسلمانوں،ہسپانوی اور خصوصاً خواتین کے بارے میں ضمنی خیالات اور بیانات کے نتیجے میں ان کو برملاشیطان اور جھوٹا کہہ دیا۔ جبکہ مباحثے میں اس قدر منفی روایت کا مظاہرہ امریکہ کی تاریخ میں کبھی نہ ہوا تھا۔ ہیلری پر ڈونلڈ سخت تنقید کرتے ہوئے نظر آئے اور انہیں جھوٹا قرار دیتے ہوئے صدر بننے کی صورت میں ان کو سزا دینے کی دھمکی بھی دی گئی۔ ہیلری نے اپنے موقف کو یوں پیش کیا کہ ہم اسلام کے ساتھ جنگ نہیں کر رہے، اگر ایسا ہو تو دہشت گرد اس سے فائدہ اُٹھاسکتے ہیں۔ جنگ دہشت گردوں کے خلاف ہے اسلام کے خلاف نہیں۔انہوں نے کہا بظاہر روس ٹرمپ کی حمایت کرتا نظر آرہا ہے۔ چونکہ روس نے شام میں مداخلت کا فیصلہ کرلیا ہے، اس لئے خطے میں حالات کی بہتر صورت حال کے امکانات نہیں ہیں۔

امریکی روایت کو قائم رکھتے ہوئے جب ایک ووٹرنے فرمائش کی کہ دونوں امیدوار ایک دوسرے کے بارے میں ایک ایک مثبت بات کریں تو ہیلری نے ان کے بچوں کو قابل اور مخلص کہا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیلری کے بارے میں کہا کہ نہ ہی تو یہ پیچھے ہٹنے والی ہیں اور نہ ہی ہار مانتی ہیں۔دوسرے صدارتی مباحثے کے بعد ریپلیکن پارٹی کے نمائندوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو نااہل قرار دیا اور درخواست کی کہ وہ اس ’’ریس سے پیچھے ہٹ جائیں‘‘۔چارلی نے کہا کہ ’’ہم ناقابلِ مدافعت شخص کی مدافعت کیسے کرسکتے ہیں‘‘۔ جبکہ مائیک لی نے دوسرے امیدواران کے نام جو صدارتی امیدوار کے لئے تجویز کئے ان میں کونڈا لیزارائس کا نام بھی شامل ہے۔قابل غور بات ہے کہ ہیلری جیتں یا ان کی مخالف پارٹی جیتے جس کے امکانات کم ہوتے نظر آرہے ہیں ، کیا ان کی اِس دوڑ سے دنیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ کیا دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے اس وقت نہ صرف عالم اِسلام بلکہ مجموعی طور پر اس دنیا کو امن کی فضا درکار ہے ،اگر ابھی بھی ہم نے ہٹ دھرمی اور خود غرضی کا کھیل کھیلا تو پھر ۔

سارا کھیل ہی ختم ہوا

امن کے نعروں پنڈالوں میں

شور شرابہ دفن ہوا

عظمت کے کھیل کھلیانوں میں

بانی بنجر بدن ہوا

اور سارا کھیل ہی ختم ہوا

مزید : کالم