تحریک انصاف کے کارکنوں کا غلط استعمال

تحریک انصاف کے کارکنوں کا غلط استعمال
 تحریک انصاف کے کارکنوں کا غلط استعمال

  

کیا اس امر سے انکار کیا جا سکتا ہے کہ تحریک انصاف ایک مُلک گیر جماعت ہے، اس کے پاس کارکنوں کی کھیپ موجود ہے وہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے پاس نہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ کارکن اور ان کے لیڈر کسی حد تک غرور اور تکبرکا بھی شکار ہیں، وہ مسلم لیگ(ن)کے کارکنوں کوپٹواری اور جاہل کہہ کر پکارتے ہیں، وہ پیپلزپارٹی ، ایم کیو ایم، جے یوآئی اور اے این پی سمیت ہر کسی کو اپنی تنقید اور تحقیر کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ زیادہ تر پرائیویٹ یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے ہیں جہاں کا کلچر بہرحال سرکاری یونیورسٹیوں سے اب بھی بہت مختلف ہے اور یہی کلچر تحریک انصاف کا ہے، ان میںآپ کو کثرت کے ساتھ ایم اے ، ایم ایس سی، انجینئر، ڈاکٹر، انفارمیشن ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں کے ماہر ملیں گے۔ جب کہا گیا کہ ان کی اکثریت نجی تعلیمی اداروں کی پڑھی ہوئی ہے تو ثابت ہوا کہ یہ تعلیمی طور پر ہی نہیں، بلکہ معاشی طور پر بھی بہتر درجہ بندی میں شمار کئے جا سکتے ہیں کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی فیسیں آج بھی اپر مڈل کلاس ہی برداشت کرسکتی ہے۔ ان کارکنوں میں لوئر مڈل اور لیبر کلاس شامل نہیں، مگر یہ تعداد میں اسی طرح بہت کم ہیں، جس طرح پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) میں آپ کو کارپوریٹ کلاس واضح طور پر کم نظر آئے گی۔

عمران خان صاحب نے تبدیلی کا نعرہ لگایا، وہ بجا طور پر اس نظام پر تنقید کرتے ہیں جو صدیوں پرانا ہے، عام انتخابات میں پی ٹی آئی اپنی توقعات کے برعکس کلین سویپ نہ کر سکی۔ مسلم لیگ(ن) کے قائدین کا خیال تھا کہ عمران خان صرف گفتار کے غازی ہیں کردار کے نہیں، جب انہیں عملی طور پر اس نظام کو تبدیل کرنے اور عوام کی مشکلات دور کرنے کی ذمہ داری ملے گی تو یہ اس پر پورے نہیں اتر سکیں گے،لہٰذا انہوں نے دانش مندی سے کام لیتے ہوئے خیبرپختونخوا میں ایک ماڈل کے طور پر تحریک انصاف کی حکومت قائم کروا دی حالانکہ اگر تھوڑی سی کوشش کے بعد مسلم لیگ نون خیبرپختونخوا میں اپنا وزیراعلیٰ لا سکتی تھی۔اب اگر واقعی خان صاحب خود کو بہترین منتظم سمجھتے ہیں اور اس کے لئے وہ شوکت خانم اور نمل کی مثالیں دیتے ہیں تو انہیں حکمرانی میں بھی اس صلاحیت کا ثبوت دینا چاہئے تھا، انہیں علم ہونا چاہئے تھا کہ ان کے پاس سیاسی کارکنوں کے طور پر کیسا خام مال موجود ہے اور اس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے کہاں بہترین مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے۔

پی ٹی آئی کا کارکن کارپوریٹ کلچر کی پیداوار ہے، یہ مسلم لیگ(ن) کا نوشاد حمید اور پیپلزپارٹی کا مانی پہلوان نہیں ہو سکتا، یہ پریذنٹیشن دے سکتا ہے مگر ٹینشن نہیں لے سکتا، یہ جلسہ گاہوں میں بھی انٹرٹینمنٹ کے لئے جاتا ہے اور واپس آ کر اپنی اسائنمنٹ پر کام شروع کر دیتا ہے ۔ لمبے لمبے چلنے والے دھرنوں اور جلسوں میں اس کا وقت ضائع کرنا مناسب نہیں،اس کایہ استعمال ہرگزدرست نہیں کہ اسے احتجاجی تحریکوں میں جھونک دیا جائے،اسے ابھی تک پولیس کی لاتوں اور حوالاتوں کا بھی تجربہ نہیں، یہ تو ایک مقدمہ قائم ہونے کے بعد مہینوں اور برسوں اس کی پیشیاں بھگتنا بھی افورڈ نہیں کر سکتا ،لہٰذا یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ عمران خان نے اپنے ٹیلنٹڈ کارکن کو بری طرح ضائع کیا ہے، وہ اپنے مخالفین کی ان توقعات پر سو فیصد سے بھی زیادہ پورے اترے ہیں کہ تبدیلی یا اصلاح کا کام ان کی طبیعت کا حصہ ہی نہیں۔وہ ان لوگوں میں شامل ہیں جو پہلے سے لگی لائن مٹا کر اپنی لائن کو بڑا کرنا چاہتے ہیں، حالانکہ سوال تو یہ کیا جاتا ہے کہ آپ پہلے سے لگی ہوئی لائن کوبغیر چھوئے اس کو کس طرح چھوٹا کر سکتے ہیں، اس کا جواب یہ ہے کہ آپ اس کے مقابلے میں ایک لمبی لائن کھینچ لیں ، پہلے والی لائن خود بخود چھوٹی ہوجائے گی، عمران خان اس سادہ سی بات کو سمجھے بغیر اس وقت سے نواز شریف کی لائن مٹانے پر لگے ہوئے ہیں، حالانکہ وہ اپنے پڑھے لکھے باصلاحیت کارکنوں کی مدد سے ایک بڑی لائن کھینچ سکتے تھے، نوا ز شریف کی لائن کو چھوٹا کر سکتے تھے ۔

عمران خان کے مخالفین نے خیبرپختونخوا کی حکومت اس لئے دی تاکہ انہیں ایکسپوز کیا جا سکے،حالانکہ تحریک انصاف کے سربراہ یہاں ٹیلنٹڈ کارکنوں کی مدد سے اپنے مخالفین کو حیران ، پریشان اور ناکام کر سکتے تھے۔ خیبرپختونخوا ان کے لئے ایک ایسی تجربہ گاہ بن سکتا تھا،جہاں سے وہ دوسرے صوبوں کے رہنے والوں کو اچھی اور مثالی حکمرانی کا پیغام بھیجا جا سکتا تھا۔ وہ کراچی اور لاہور سمیت مُلک بھر سے اپنے جذباتی خواب دیکھنے والے کارکنوں کو خیبرپختونخوا بلا سکتے تھے، وہ ان کارکنون کی مدد سے صحت ، تعلیم ، لائیو سٹاک اور دیگر شعبوں میں ایک انقلاب برپا کر سکتے تھے، مگر انہوں نے اپنے کارکنوں کو ریلیوں ،د ھرنوں اور جلسوں میں ضائع کیا، یہاں ان کے کارکنوں کا استعمال پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے ان کارکنوں سے بھی بدتر ہو گیا جن کو یہ ان پڑھ، جاہل اور پٹواری کہتے ہیں، حالانکہ یہ سیاسی کارکن مُلک کا اہم ترین اثاثہ ہیں، مجھے ان کی توہین ہمیشہ ہی تکلیف دیتی ہے۔ پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے ضیاء الحق اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے پرویز مشرف کے دور میں آئین اور جمہوریت کے لئے قربانیاں دی ہیں ،جبکہ پی ٹی آئی کے بیشتر کارکنوں کے پاس ایسا کوئی دعویٰ ، ایسا کوئی اثاثہ نہیں۔

تحریک انصاف کے کارکن اصلاح، بہتری اور تبدیلی کے نعرے پر عمران خان کے ساتھ آئے تھے اور ان کے ضائع کئے جانے کی ذمہ داری قیادت پر عائد ہوتی ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کی قیادت کسی گاڑی کی ڈرائیونگ فورس کے طور پر ہوتی ہے۔ اب اگر ایک ڈرائیور کے پاس مُلک میں موجود بہترین ماڈل کی گاڑی ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے مہارت کے ساتھ منزل تک لے جائے، لیکن اگروہ ڈرائیوراس گاڑی کو فضول ریسیں دے کر پٹرول پھونکتا رہے، جگہ جگہ ٹکریں مرواکر اسے ڈینٹ پڑواتا رہے تو وہ نہ خود منزل تک پہنچے گا اور نہ ہی سواریوں کو پہنچا سکے گا۔

مجھے پی ٹی آئی کے تبدیلی کے خواب دیکھنے والے کارکنوں سے ہم دردی ہے کہ وہ ایک بے مقصد اور فضول قسم کی مہم جوئی میں جھونک دئیے گئے ہیں۔ان میں سے بہت سارے ایسے ہیں کہ وہ سڑکوں پر آنے کی بجائے ٹوئیٹر اور فیس بک پر ہی تحریک چلا رہے ہیں ، سوشل میڈیا پر ہی اپنے اپنے شہروں کی سڑکیں بلاک کر رہے اور ٹائر جلا رہے ہیں،مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو اپناوقت ضائع کر رہے ہیں ۔ انہیں جس طرح سڑکیں ناپنے اور گالیاں دینے پر لگایا گیا ہے یہ کام ان کا نہیں ہے، یہ کام تو غنڈوں، مشٹنڈوں اور موالیوں کا ہے، جن کے پاس کرنے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تووہ اپنا وقت ہی نہیں، بلکہ اپنے والدین کا پیسہ اور امیدیں ضائع کرتے پھررہے ہیں۔ اپنے کارکنوں کو تھکانے اور مروانے کی درجہ سوم کی سیاست سے جماعت اسلامی، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) بھی باز آ چکیں۔ مجھے تحریک انصاف کے کارکنوں سے ہمدردی ہے، جن کی صلاحیتوں، امیدوں، ولولوں اور کوششوں کا قتل عام خود ان کی اپنی قیادت نے کر دیا ہے ۔

مزید : کالم