عمران خان بنی گالہ سے نکلے نہ لال حویلی کے سامنے جلسہ ہوا،تحریک انصاف کے کارکنوں اور پولیس میں جھڑپیں ،لاٹھی چارج ،شیلنگ ،گرفتاریاں ،لاہور سمیت متعدد شہروں میں احتجاج

عمران خان بنی گالہ سے نکلے نہ لال حویلی کے سامنے جلسہ ہوا،تحریک انصاف کے ...

راولپنڈی/لاہور/اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نمائندہ خصوصی،وقائع نگار،کرائم رپورٹراے این این) راولپنڈی انتظامیہ نے شیخ رشید کی ’’ لال حویلی چلو‘‘کال ناکام بنادی،کمیٹی چوک میں تحریک انصاف وعوامی مسلم لیگ کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان تصادم ، متعددکارکنان گرفتار، ،تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بنی گالہ میں اپنی رہائشگاہ سے ہی نہ نکل پائے۔تفصیلات کے مطابق عمران خان نے شیخ رشید کے احتجاج میں شرکت کرنا تھی لیکن بنی گالہ کے راستوں پر پولیس اور ایف سی تعینات تھی، جس کی وجہ ان کی رہائش گاہ سے کوئی بھی رہنما ء شیخ رشید کے احتجاج میں شریک نہیں ہو سکا تاہم اپنی رہائش گاہ کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جب اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ تھا کہ کوئی رکاوٹیں نہیں ڈالنی تو میں پوچھتا ہوں کہ بنی گالہ کیوں بند کیا گیا اور مجھے کس قانون کے تحت گھر میں تقریبا نظر بند کردیا گیا۔ عمران خان کا کہناتھا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ان کا تصادم کا ارادہ ہے اور ایسا کبھی کہا بھی نہیں ہے بلکہ آج صرف دو نمبر کے دھرنے کی تیاری کروانے کیلئے جانا تھا لیکن حکومت کی جانب سے بنی گالہ کو سیل کر دیا گیا اور مجھے تقریبا نظر بند کر دیا گیا جبکہ میں صرف اس وجہ سے باہر نہیں آیا کہ تصادم نہ ہو۔عمران خان کا کہناتھا کہ کارکنان دونومبر کیلئے ابھی سے تیاری کریں ،گرفتاریوں سے بچنا ہے اور اسلام آباد پہنچناہے ،وہاں جا کر بتائیں گے کہ عوام کی طاقت کیاہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت دو تاریخ کو بھی اسی طرح نظر بند کرے اور چاہے تیس ہزار پولیس کھڑی کر دے مجھے کوئی نہیں روک سکتاہے۔انہوں نے کہا کہ میں پھر سے نواز شریف کی حکومت سے سوال پوچھتا ہوں کہ کیا یہ بادشاہت ہے یا جمہوریت؟ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کی پولیس غیر سیاسی ہے اور قانون پر چلتی ہے، پنجاب پولیس کو کے پی پولیس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح پنجاب پولیس نے کل خواتین پر ڈنڈے چلائے، انھیں اس پر شرم آنی چاہیے، ساتھ ہی انھوں نے پنجاب پولیس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ شریف خاندان کے نوکر نہیں ہیں، آپ کو تنخواہ پاکستانی عوام کے ٹیکس سے ملتی ہے۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ2نومبر کو اسلام آباد میں بتائیں گے کہ عوام کی طاقت کیا ہوتی ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے ایک مرتبہ وزیراعظم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'نواز شریف سن لو، احتساب سے پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی جانب سے جمعہ کے دن ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کے اعلان ملک بھر میں بھرپور احتجاج کی ہدایات پر عمل نہ ہو سکا اور پی ٹی آئی ملک بھر میں احتجاج کرنے میں ناکام رہی صوبائی دارلحکومت لاہور کے مختلف گنتی کے مقامات پر احتجاج کیا گیا لیکن اس احتجاج میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی شرکت سوالیہ نشان تھی اور احتجاج میں شرکت کرنے والے کارکنان ممکنہ گرفتاریو ں کی وجہ سے خوف زدہ نظر آئے حالانکہ پولیس موقع پر موجود تھی لیکن پولیس کی طرف سے پی ٹی آئی کے کارکنان کو ٹائر جلانے کے باوجود کچھ نہیں کیا گیا پی ٹی آئی والے میڈیا پر کوریج حاصل کرنے کے بعد اور سیلفیاں لینے کے بعد پر امن طور پر منتشر ہوتے رہے اور انتظامیہ کی طرف سے انہیں احتجاج کے دوران حراساں نہیں کیا گیا بلکہ فری ہینڈ دیا گیا لیکن پھر بھی پی ٹی آئی بھرپور احتجاج کرنے میں ناکام رہی ۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کے کارکنوں کی پنجاب بھر میں گرفتاریوں پر مال روڈ، لبرٹی اور لالک چوک سمیت مختلف اہم شاہراہوں پر مظاہرے کئے گئے، شرکاء کی حکومت کیخلاف شدید نعرے بازی، ٹائر جلا کر ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا جبکہ پولیس کی بھاری نفری بھی شہر بھر کی تمام شاہراہوں پر تعینات رہی ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز تحریک انصاف کے کارکنوں کی پنجاب بھر میں گرفتاریوں کے خلاف صوبائی دارالحکومت کے مختلف مقامات پر پی ٹی آئی کی جانب سے مظاہرے کئے گئے۔ انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن کے کارکنوں نے لبرٹی چوک اور لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے، کارکنوں نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردی جب کہ رات گئے کارکنوں کی گرفتاریوں کیخلاف ڈیفنس لالک چوک اور مال روڈ پر بھی احتجاج کیا گیا جہاں مظاہرین نے گرفتار ساتھیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا، احتجاج کے باعث لالک چوک پر ٹریفک جام ہوگئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی رہیں۔اسی طرح قرطبہ چوک پر بھی پی ٹی آئی کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا جہاں ٹائر جلا کر فیروز پور روڈ اور جیل روڈ کو بلاک کر دیا گیا ۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ پرامن احتجاج ان کاحق ہے لہذا اْنہیں اس سلسلے میں تنگ مت کیا جائے، حکومت اور اسلام آباد پولیس کی جانب سے پی ٹی آئی کارکنان پر تشدد ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت دو نومبر سے قبل ہی ملک بھر میں لاک ڈاؤن کرنا چاہتی ہے، اگر انہیں احتجاج نہ کرنے دیا گیا تو پھر کسی بھی نقصان کی ذمہ دارحکومت ہوگی۔مظاہروں کی اطلاع پا کر پولیس کی بھاری نفری شہر کی اہم شاہراہوں پر تعینات کر دی گئی ۔دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے پیش نظر شہرکے داخلی اور خارجی راستوں پر کوئیک رسپانس فورس تعینات کردی گئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق اہلکار کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے الرٹ رہیں گے، جوابی حملے کے بھی اہل ہوں گے۔ البتہ پر امن احتجاج کرنے والوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی۔پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کی قیادت ایم این اے شفقت محمود اورلاہوراربن کے صدر ولید اقبال‘ اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید‘ سیدہ سلونی بخاری ‘ سعدیہ سہیل ایم پی اے اور فضہ زیشان نے کی ۔ مظاہرین شہر کے مختلف علاقوں سے ریلیوں کی شکل میں پریس کلب پہنچے اور درجنوں ٹائرجلاکرروڈ بلاک کرکے حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شفقت محموداور ولید اقبال کا کہنا تھا کہ شریف حکومت اسلام آباد بند کرنے سے خوفزدہ تھی لیکن خود ہی جڑواں شہروں کو بند کردیا۔ تحریک انصاف کے کارکن ریاستی تشدد اور گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ چوڑیاں پہن رکھی ہیں نہ ہی ہاتھ ٹوٹے ہوئے ہیں، حکومت نے پرامن احتجاج کو خونیں کرنے کیلئے ڈرامہ رچایا ہے، حکومتی لگڑ بگڑ اور چوہے بلوں میں گھس کر بڑھکیں ماررہے ہیں لیکن تحریک انصاف کے کارکن، خواتین، بزرگ اور بچے میدانوں میں نکلے ہوئے ہیں۔دوسری طرف اسلام آباد انتظامیہ اورپولیس کا تحریک انصاف کے رہنماوں اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے حوالے سے کریک ڈاؤن دوسرے روز بھی جاری رہاپولیس نے457سے زائد کارکنوں کو گرفتار کر لیا جبکہ کئی تحریک انصاف کے رہنماوں کو بنی گالہ میں عمران خان کی رہائش گاہ کی جانب جانے سے روک دیا گیا شام ڈھلتے ہی بہارکہو کے پہاڑی علاقے سے پیدل آنے والے 12سو کے قریب پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پولیس او رایف سی کے اہلکاروں پر پتھراو شروع کر دیا جس پر پولیس نے حرکت میں آگئی اور مجسٹریٹ علی جاوید بھی موقعہ پر پہنچ گئے اور پولیس نے 200کے قریب کارکنوں کو قیدی بسوں میں ڈال کر موقعہ پر ہی جوڈیشل کر دیا دوسری جانب اسلام آباد ایکسپریس ہائی پر شکریال کے قریب دودرجن سے زائد کارکنوں نے روڈ بند کرنے کی کوشش کی جس کو پولیس نے ناکام بنادیا اوردس کے قریب کارکنوں کو گرفتار کر کے تھانہ کھنہ شفٹ کر دیا شہر کے دیگر علاقوں سے بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جاری رہا کارکنوں کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج کر کے اے سی وقار چیمہ کی عدالت میں پیش کیا گیا جس کو بعد ازں اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا جبکہ پولیس کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاریوں کے لئے چالیس سے زائد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہے ہر ٹیم دس جوانوں پر مشتمل ہوگی اور ڈی ایس پی رینک کا افسر ہر ٹیم کی کمانڈ کرئے گا،پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنماجہانگیر ترین کے ذاتی سیکورٹی افسر نائب صوبیدار ریٹائرڈ اعجاز احمد کو گرفتار کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق جہانگیر ترین کے ذاتی سیکیورٹی افسر نائب صوبیدار(ر)اعجاز احمد کی گرفتا ری عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ سے عمل میں لائی گئی ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد پولیس نے بنی گالہ کے باہر چیک پوسٹ بنا کر راستہ بند کر دیا ہے اور پی ٹی آئی رہنماؤں کو داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کو بھی عمران خان کی رہائش گاہ پر جانے سے روک دیا گیا جبکہ حلیم عادل شیخ کو بھی نہیں جانے دیا گیا۔رات گئے بنی گالہ پہنچنے والے کارکنوں کیلئے خیمے ،کھانا اور دیگر سامان پہنچا دیا گیا۔

مزید : صفحہ اول