پاک بھارت نیا تنازع سرحدوں پر جھڑپوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے: امریکہ

پاک بھارت نیا تنازع سرحدوں پر جھڑپوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہئے: امریکہ

واشنگٹن (اظہر زمان، بیوروچیف) امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تازہ سفارتی تنازعہ سرحدوں پر جھڑپوں میں تبدیل نہ ہو۔ یہ تبصرہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے جمعرات کی سہ پہر معمول کی پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کیا۔ ان سے سوال کیا گیا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے ایک سفارتکار کو ملک بدر کیا، جس کے بعد پاکستان نے بھارت کے ایک سفارتکار کو ملک بدر کر دیا اور اس طرح سفارتی محاذ پر دونوں ملکوں کے درمیان نیا تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔ امریکہ کو اس صورت حال پرکتنی تشویش ہے؟ امریکی ترجمان نے کہا کہ ہم نے یہ رپورٹیں دیکھی ہیں۔ دونوں خود مختار ملک ہیں جو کوئی بھی فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں، جنہیں اس کام سے روکا نہیں جاسکتا۔ ہم اس تنازعہ کا فیصلہ بھی دونوں حکومتوں پر چھوڑتے ہیں اور امید کریت ہیں کہ وہ اس کا کوئی اچھا سا حل ڈھونڈ لیں گے۔ سوال کنندہ نے مزید پوچھا کہ ماضی میں جب بھی دونوں ملکوں کید رمیان ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے علاوہ دونوں ملکوں کی سرحد کے آرپار فائرنگ اور جھڑپوں کا آغاز ہوا ہے اور معاملہ مزید بگڑ جاتا رہا ہے۔ اس پر ترجمان نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہیکہ یہ سفارتی تنازعہ سرحدوں پر جھڑپوں میں تبدیل نہ ہو اور معاملات مزید نہ بگڑیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ پاکستان اور بھارت اس طرح کے تمام مسائل پر آپس میں بات چیت کرکے انہیں حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنے مسائل کا حل خود ہی دریافت کریں۔

مزید : صفحہ آخر