پانامہ لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل

پانامہ لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ کا لارجر بینچ تشکیل

اسلام آباد(اے این این) سپریم کورٹ نے پانامالیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5رکنی بینچ یکم نومبر سے درخواستوں کی سماعت کرے گا ۔عدالت وزیراعظم سمیت تمام فریقوں کو نوٹس جاری کرچکی ہے۔آئندہ ہفتے کے لیے ججز کا روسٹر جاری کردیا گیا ہے۔ پانامالیکس سے متعلق درخواستوں پر تشکیل دیے گئے لارجر بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس امیر ہانی مسلم، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔ سماعت روزانہ کی بنیادپرکیے جانیکاامکان ہے۔اس سے قبل چیف جسٹس پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے 20 اکتوبر کو پاناما پیپرز کی تحقیقات اور وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے سے متعلق تحریک انصاف، جماعت اسلامی اورعوامی مسلم لیگ سمیت 6مختلف آئینی درخواستوں کی سماعت کی تھی۔ دھرنوں پر پابندی لگانے اور احتساب کے نام پر جمہوری عمل ڈی ریل نہ کرنے سے متعلق وطن پارٹی کی درخواست قبل ازوقت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی گئی تھی جبکہ دیگر درخواستوں پر سپریم کورٹ نے ابتدائی سماعت کے بعد وزیراعظم سمیت تما م فریقین کو نوٹس جاری کردیے تھے۔سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے معاملے میں وزیراعظم نواز شریف سمیت دیگر متعلقہ افراد سے دو ہفتے میں جواب طلب کیا ہوا ہے۔ سماعت کے لیے وزیر اعظم نواز شریف ، ان کے بچوں ، اسحاق ڈار، کیپٹن صفدر اور عمران خان سمیت تمام فریقین کو نوٹسز موصول ہو چکے ہیں ۔اس سلسلے میں نوٹس کے اجرا کے بعد وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ عدالتِ عظمی میں اس معاملے پر کارروائی کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہ آئین کی پاسداری، قانون کی حکمرانی اور مکمل شفافیت پر یقین رکھتے ہیں اور 'عوام کی عدالت تو پے در پے فیصلے صادر کر رہی ہے، بہتر ہوگا کہ عدالت کے فیصلے کا انتظار بھی کر لیا جائے۔وزیرِ اعظم نے کہا کہ اس معاملے میں اب تک اپوزیشن کی جانب سے مسلسل منفی رویہ سامنے آ رہا ہے اور حکومت کی نیک نیتی پر مبنی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرتے ہوئے شفاف اور بے لاگ تحقیقات کی راہ میں مسلسل رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔

مزید : صفحہ اول